EPAPER
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری بحران گزشتہ ۱۲؍ گھنٹوں کے دوران مزید شدت اختیار کر گیا۔ امریکی فضائی حملوں، ایرانی جوابی کارروائیوں، خلیجی خطے میں بڑھتے ہوئے فوجی خطرات اور آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ واشنگٹن نے ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ فوجی دباؤ کے تحت مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔
June 11, 2026, 3:21 PM IST
۸؍افراد شہید، حزب اللہ کابھی جوابی حملہ، لبنان کے صدر کی اسرائیلی حکومت اور عوام کو مذاکرات کی دعوت۔
June 10, 2026, 10:06 AM IST
پیس رپورٹ ۲۰۲۶ء میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں، چند ممالک جنگ کو ”سیاسی ہتھیار“ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں جرمنی کی خارجہ پالیسی کو اس رجحان میں براہِ راست شریک قرار دیتے ہوئے برلن کی جانب سے امریکہ کے یکطرفہ فوجی اقدامات، غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم اور لبنان، شام پر اسرائیلی فوجی حملوں کی کھلے عام مذمت کرنے میں مسلسل ناکامی کا حوالہ دیا گیا ہے۔
June 08, 2026, 11:48 PM IST
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’متزلزل صہیونی حکومت کے پاس چند دن باقی ہیں۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب متعدد میزائل داغے ہیں اور اس کے جواب میں اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے خطے میں ایک بار پھر وسیع پیمانے پر تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
June 08, 2026, 5:23 PM IST
