امریکی سفیر کے بعد اب اسرائیلی اپوزیشن لیڈر يائير لپید نے ’’اسرائیل عظمیٰ‘‘ کے وژن کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیل کو توریت کا ورثہ قرار دیا۔
EPAPER
Updated: February 26, 2026, 10:10 PM IST | Tel Aviv
امریکی سفیر کے بعد اب اسرائیلی اپوزیشن لیڈر يائير لپید نے ’’اسرائیل عظمیٰ‘‘ کے وژن کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیل کو توریت کا ورثہ قرار دیا۔
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لپید نے امریکی سفیر مائیک ہکابی کے’’ عظیم تر اسرائیل‘‘ کے وژن کی حمایت کرتے ہوئے خطے میں غم و غصے کو ہوا دے دی۔ یہ وژن دریائے نیل سے فرات تک کی توریت میں درج سرحدوں پر مبنی ہے۔ لپید نے اعلان کیا کہ ’’ اس سرزمین پر ہمارا حق تورات کی وجہ سے ہے‘‘ اور اسرائیل کی سرحدیں زیادہ سے زیادہ وسیع ہونی چاہئیں، جس پر ترکی اور۱۳ دیگر ممالک نے مذمت کی ہے۔ اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ کِپا کو انٹرویو دیتے ہوئے لپید نے کہا کہ اسرائیل کی سرحدیں ’’زیادہ سے زیادہ وسیع‘‘ ہونی چاہئیں اور اس سرزمین پر ہمارا حق توریت کی وصیت سے ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یوکے: گورٹن ضمنی انتخاب: گرین پارٹی کی اردو مہم پر سیاسی ہنگامہ
یش عتید پارٹی کے لیڈرلپید، جنہوں نے پہلے دو ریاستی حل کی حمایت کا اظہار کیا تھا، اب کہتے ہیں کہ ’’صہیونیت توریت پر مبنی ہے، ارض اسرائیل پر ہمارا اختیار مقدس کتاب پر مبنی ہے، توریت میں اسرائیل کی سرحدیں بہت واضح ہیں۔‘‘انہوں نے ہکابی کے متنازعہ وژن کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ کسی بھی ایسی چیز کی حمایت کرتے ہیں جو یہودی عوام کو ایک بڑی، وسیع، مضبوط سرزمین اور ہمارے، ہمارے بچوں اور ہمارے پوتوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ فراہم کرے۔‘‘ لپید نے سلامتی، سیاست اور وقت کے عملی تحفظات کو تسلیم کیا لیکن زیادہ سے زیادہ علاقائی توسیع کے نظریاتی عزم کی توثیق کی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو پورے مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنے کا انجیلی حق ہے: امریکی ایلچی ہکابی
علاقائی مذمت اور سفارتی بحران
بعد ازاں یہ بیانات ہکابی کے ٹکر کارلسن کو دیے گئے متنازعہ انٹرویو کے بعد سامنے آئے ہیں، جہاں امریکی سفیر نے تجویز دی تھی کہ یہ اچھا ہوگا اگر اسرائیل مصر سے عراق تک پورے خطے پر کنٹرول کرے ، ساتھ ہی ہکابی نےغزہ میں فلسطینی بچوں کی ہلاکتوں پر بین الاقوامی تشویش کو غیر متناسب قرار دیا۔دریں اثناء ترکی، مصر، اردن، لبنان، انڈونیشیا، کویت، قطر، عمان، پاکستان، بحرین، سعودی عرب، شام، فلسطین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تنظیم تعاون اسلامی، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل نے مشترکہ طور پر ہکابی کے بیانات کی مذمت کی ہے۔ لپید کے اعادے نے اس تنازع کو اسرائیلی داخلی سیاست میں بھی پھیلا دیا ہے، جو فلسطینی حقوق اور علاقائی خودمختاری پر بین الاقوامی اتفاق رائے کو چیلنج کر رہا ہے۔