EPAPER
رسول ؐ اللہ سے سچی محبت صرف نعروں، برقی قمقموں، جھنڈوں اور جلسوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ انسان کے کردار سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
August 26, 2026, 3:00 PM IST
آج ہمارے نوجوان امت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر وہ میلاد النبیؐ کو صرف ایک تقریب کے بجائے ایک تربیتی موقع سمجھیں، سیرت کا مطالعہ کریں، علم حاصل کریں، ٹیکنالوجی کو انسانیت کی خدمت کیلئے استعمال کریں، سچائی، دیانت اور محنت کو اپنا شعار بنائیں تو وہی اقبال کے خواب کی تعبیر بن سکتے ہیں۔
August 26, 2026, 3:00 PM IST
سیرت مصطفیٰؐ ہمیں بتاتی ہے کہ اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان کتنا کما رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنا پاکیزہ کما رہا ہے؛ صرف یہ نہیں کہ وہ کتنا بول رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی زبان سے کیا نکل رہا ہے؛ صرف یہ نہیں کہ وہ کتنا پڑھا لکھا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے علم نے اس کے کردار کو کتنا سنوارا ہے۔حضورؐ نے علم کو کردار سے، عبادت کو اخلاق سے اور ایمان کو عمل سے جوڑ دیا۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کی دنیا کو شدید ضرورت ہے۔
August 26, 2026, 2:35 PM IST
ہم سیرت کو کہاں تلاش کر رہے ہیں؟ کتابوں میں؟ جلسوں میں؟ تقاریر میں؟ محفلوں میں؟ یقیناً یہ وہاں بھی ہے؛ مگر سیرت کی اصل منزل ہماری زندگی ہے۔ اگر ہماری زبان سچ بولے، ہمارا ہاتھ کسی کمزور پر نہ اٹھے، ہماری تجارت میں دیانت ہو، ہمارے اختلاف میں شائستگی ہو، ہمارے اقتدار میں انصاف ہو، ہمارے گھروں میں محبت ہو اور ہمارے دل میں انسانیت کیلئے جگہ ہو تو سمجھنا چاہئے کہ سیرت ہمارے اندر اتر رہی ہے۔
August 26, 2026, 2:16 PM IST
