Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن: مسجد اقصیٰ کی بندش کے خلاف زبردست مظاہرہ

Updated: March 16, 2026, 9:05 PM IST | London

مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ کو مسلمان نمازیوں کے لیے بند رکھنے کے اسرائیلی فیصلے کے خلاف لندن میں سیکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا اور مذہبی آزادی کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں سنیچر کو بڑی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ کی بندش کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ برطانوی پارلیمنٹ کی عمارت پیلس آف ویسٹ منسٹر کے سامنے منعقد کیا گیا جس میں فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے اور روایتی فلسطینی اسکارف یعنی کیفیہ پہنے افراد شریک تھے۔ مظاہرین نے اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت پر پابندیوں کی شدید مذمت کی اور اسے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اس احتجاج کا مقصد دنیا کی توجہ اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام پر عائد پابندیوں کی طرف مبذول کرانا تھا۔

احتجاج کے دوران شرکاء نے مرکزی لندن کی سڑکوں پر مارچ بھی کیا۔ مارچ کے بعد مظاہرین نے اجتماعی طور پر ظہر کی نماز ادا کی جسے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھا گیا۔ یہ مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل نے ۲۸؍ فروری سے مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کے لیے بند رکھا ہوا ہے۔ یہ پابندیاں اس وقت نافذ کی گئیں جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ اسی دوران مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں واقع ابراہیمی مسجد میں بھی نمازیوں کی تعداد محدود کر دی گئی ہے جہاں اطلاعات کے مطابق صرف ۵۰؍  مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
فلسطینی حکام نے ان پابندیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ اور ابراہیمی مسجد دونوں میں عبادت پر پابندیاں مذہبی آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہیں۔ فلسطینی حکام کے مطابق یہ اقدامات ان مقدس مقامات پر کنٹرول بڑھانے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ یہ دونوں مقامات دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مذہبی اہمیت رکھتے ہیں۔

ابراہیمی مسجد خاص طور پر گزشتہ کئی دہائیوں سے سخت پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ۲۵؍ فروری ۱۹۹۴ء کو ایک یہودی آبادکار کے حملے میں ۲۹؍ مسلمان نمازیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے اس مقام کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ اس وقت تقریباً ۶۳؍ فیصد حصہ یہودی عبادت گزاروں کے لیے مختص ہے جبکہ صرف ۳۷؍ فیصد حصہ مسلمانوں کے لیے رکھا گیا ہے۔ عام طور پر سال میں صرف چند مخصوص دنوں میں یہ مسجد مکمل طور پر مسلمانوں کے لیے کھولی جاتی ہے، جن میں رمضان کے بعض جمعے اور دیگر اہم اسلامی مواقع شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسلامو فوبیا کے عالمی دن پر او آئی سی کا انتباہ: مسلم مخالف نفرت میں اضافہ

موجودہ صورتحال رمضان کے مقدس مہینے کے دوران مزید حساس ہو گئی ہے کیونکہ ان دنوں مسجد اقصیٰ اور ابراہیمی مسجد دونوں میں نمازیوں کی بڑی تعداد عبادت کے لیے آتی ہے۔ حبرون کے قدیم شہر میں واقع ابراہیمی مسجد رمضان کے آخری عشرے میں خاص طور پر زیادہ مصروف رہتی ہے، خصوصاً ۲۷؍ ویں شب اور عیدالفطر کے موقع پر۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ آیا اسرائیلی حکام رمضان کے باقی ایام میں ان مقدس مقامات تک مکمل رسائی کی اجازت دیں گے یا نہیں، تاہم اس صورتحال نے پہلے ہی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK