• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

qari nama

قاری نامہ: دہلی پولیس کی مظاہرین پر سختی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہروں سے نمٹنے کیلئے دہلی پولیس کا رویہ ان دنوں صرف ملک نہیں بلکہ بیرون ملک بھی موضوع بنا ہوا ہے۔ پولیس اہلکاروں کے رویوں کو دیکھ کر ان پر یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ نظم و نسق برقرار رکھنے اور قانون کے نفاذکی اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بجائے صرف حکومتی فرمان کی تابع داری کررہے ہیں، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ہی ملک کے نوجوانوں اور طلبہ، بالخصوص طالبات نے بھی ان پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں ۔

October 11, 2026, 6:39 PM IST

قاری نامہ: سنبھل تشدد، ملا افروز کی رہائی، عدالتی فیصلے کے دیگر مقدمات پر اثرات؟

سنبھل تشدد معاملے میں ماخوذ ملّا افروز کو رہا کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو کافی سخت سست کہا۔ اس تعلق سے فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے نہ صرف ملا افروزکی ’نیشنل سیکوریٹی ایکٹ‘ (این ایس اے) کے تحت حراست منسوخ کر دی بلکہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی منسوخ کر دیا جس میں ان کی حراست کو برقرار رکھا گیا تھا۔ اس فیصلے کی اہمیت اس لحاظ سے بھی کافی ہے کہ سپریم کورٹ نے ملزم کو رہا کرتے ہوئے حکومت پر ۱۰؍ لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

October 05, 2026, 8:42 PM IST

قاری نامہ: نیٹ پیپر نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، کیا یہ مناسب ہے؟

ہمارے یہاں طبی تعلیم کیلئے داخلہ امتحان ’نیٹ‘ گزشتہ کئی سال سے موضوع بحث اور تنازع کا شکار ہے۔ کہاجاتا ہے کہ اس کے امتحان کے طریقہ کار میں بہت ساری خامیاں ہیں جو امیروں کیلئے سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں دہلی میں جنتر منتر پر ایک تاریخ ساز احتجاج بھی ہوا۔ ملک کا ایک طبقہ اب اس امتحان کو پوری طرح سے منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔ گزشتہ دنوں تمل ناڈو اسمبلی میں اس تعلق سے باقاعدہ ایک قرار داد بھی منظور کرلی گئی ہے، ذیل میں ہم نے یہی جاننے کی کوشش کی ہے کہ طلبہ کیلئے کیا بہتر ہوگا؟

August 24, 2026, 1:48 PM IST

قاری نامہ: ایف ڈی اے کی کارروائیوں کو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں؟

ایف ڈی اے کی کارروائیاں ان دنوںخوب سرخیاں بٹور رہی ہیں۔ اس کی وجہ اس شعبے کے سربراہ تکارام منڈے ہیں۔ یہ ایک ایسے سخت گیر آئی اے ایس افسر ہیں جن کا گزشتہ ۲۰؍ برسوں میں ۲۵؍ مرتبہ تبادلہ ہوچکا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق محض دو ماہ میں ایک ہزار سے زائد ہوٹلوں میں چھاپے مارچکےہیں اور ۵۰؍ سے زائد ریستوراں کے فوڈ لائسنس رد بھی کرچکے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کی پزیرائی ہورہی ہے اور تنقید بھی۔ پزیرائی اسلئے کہ ہوٹلوں میں کھانوں کا معیار بہتر ہورہا ہے جبکہ تنقیداسلئے کہ اس سے بدعنوانی بھی فروغ پانے کا خدشہ ہے۔

August 03, 2026, 9:21 PM IST

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK