Updated: August 03, 2026, 9:31 PM IST
| Mumbai
ایف ڈی اے کی کارروائیاں ان دنوںخوب سرخیاں بٹور رہی ہیں۔ اس کی وجہ اس شعبے کے سربراہ تکارام منڈے ہیں۔ یہ ایک ایسے سخت گیر آئی اے ایس افسر ہیں جن کا گزشتہ ۲۰؍ برسوں میں ۲۵؍ مرتبہ تبادلہ ہوچکا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق محض دو ماہ میں ایک ہزار سے زائد ہوٹلوں میں چھاپے مارچکےہیں اور ۵۰؍ سے زائد ریستوراں کے فوڈ لائسنس رد بھی کرچکے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کی پزیرائی ہورہی ہے اور تنقید بھی۔ پزیرائی اسلئے کہ ہوٹلوں میں کھانوں کا معیار بہتر ہورہا ہے جبکہ تنقیداسلئے کہ اس سے بدعنوانی بھی فروغ پانے کا خدشہ ہے۔
ایف ڈی اے کے سربراہ تکارام منڈے۔ تصویر: آئی این این
صارفین کی صحت کا خیال رکھنے کا رجحان مضبوط ہوگا

مہاراشٹر میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی حالیہ کارروائیاں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ عوام کو معیاری اور محفوظ غذائی اشیاء فراہم کرنے کیلئے حکومت سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔ اگر ہوٹلوں، ریستورانوں اور غذائی کاروبار سے وابستہ اداروں میں صفائی کے اصولوں کی خلاف ورزی، ناقص اشیاء کا استعمال یا ملاوٹ پائی جاتی ہے تو ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی نہ صرف ضروری بلکہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔کمشنر تکارام منڈے کی قیادت میں جس انداز سے بڑے پیمانے پر معائنہ اور قانونی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، اس کے مثبت نتائج سامنے آنے کی امید ہے۔ ایسے اقدامات سے غذائی کاروبار کرنے والوں میں قانون کی پابندی، صفائی کے معیار کو برقرار رکھنے اور صارفین کی صحت کا خیال رکھنے کا رجحان مضبوط ہوگا۔ اس کے نتیجے میں عام شہریوں کو بہتر اور محفوظ غذا میسر آئے گی، جو ہر مہذب معاشرے کا بنیادی حق ہے۔
البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ کارروائیوں میں مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور انصاف کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔ اگر کسی بھی سطح پر بدعنوانی یا اختیارات کے غلط استعمال کی شکایات سامنے آتی ہیں تو ان کا بھی سختی سے نوٹس لیا جانا چاہیے۔ قانون کی بالادستی اسی وقت مؤثر ثابت ہوگی جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو اور ایماندار کاروباری افراد کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔جہاں تک ملاوٹ کے کاروبار کے مکمل خاتمے کا تعلق ہے، تو صرف چھاپوں سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ اس کیلئے مسلسل نگرانی، سخت قانونی سزائیں، عوامی بیداری، صارفین کی شکایات پر فوری کارروائی اور تاجروں کے اندر اخلاقی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ اگر حکومت، متعلقہ ادارے، تاجر برادری اور عوام اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں تو یقیناً ملاوٹ پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے اور معاشرے میں صحت مند غذائی نظام کو فروغ ملے گا۔
عبید خان ( سماجی کارکن اور ٹرسٹی، فرسٹ ہیلپ چیریٹیبل ٹرسٹ، ممبئی)
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: ’’نتیش کے بعد جے ڈی یو کا مستقبل، اتحاد میں اس کی حیثیت کیا ہوگی؟‘‘
ملاوٹی کاروبار سخت قوانین سے ہی ختم ہوسکتا ہے

ہر صنعت اور کاروبار کی نگرانی کیلئے حکومت ادارے بناتی ہے۔کھانے پینے کی اشیاء اور دوائیوں کی صنعت اور کاروبار کے لائسنس دینے اور ان کی نگرانی کے لئے ہمارے ملک میں فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن کا قیام عمل میں آیا۔یہ ادارہ کھانے پینے کی اشیاء سے وابستہ اور دوائیوں سے وابستہ ہر کاروبار پر نظر رکھتی ہےتاکہ تاجر اپنے منافع کیلئے ایف ڈی اے کی دی ہوئی ہدایات اور اقدامات کی خلاف ورزی نہ کرے اور اس سے لوگوں کی صحت اور بھروسے کوئی نقصان نہ پہنچے۔حالیہ دنوں میں ایف ڈی اے نے اس قسم کی صنعتوں اور کاروبار پر بہت کارروائی کی ۔کہیں ملاوٹی دودھ اور پنیر بنانے والے کارخانوں کو بند کیا تو کہیں ملاوٹی تیل ،گھی اور گڑ بنانے والی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کئے۔شہر کی کئی مشہور ہوٹلوں کے بھی لائسنس منسوخ کئے جاچکے ہیں۔کارروائی ہونی چاہئے اور بالکل ہونی چاہئے لیکن اس کارروائی کے دوران کہیں رشوت اور بدعنوانی کا آغاز اور مضبوط نہ ہو جائے۔ دوائیوں اور کھانے پینے کے کاروبار میں بدعنوانی اسی لئے ہورہی ہیں کیونک نگران ڈپارٹمنٹ اور ایجنسی نے خود اتنے عرصے سے ان صنعتکاروں کو ڈھیل دی تھی۔اب جو کارروائی ہورہی ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں، لیکن اب یہ ادارے اتنے قابل ہونے چاہئیں کہ آئندہ کوئی ملاوٹی کاروبار کرنے پر عمل پیرا نہ ہو،اسے اس بات کا خوف ہو کہ اگر بد عملی اور بدعنوانی کرتے ہوئے پکڑے گئے تو اس کی سزا بہت سخت ہوگی جیسے دنیا کے دیگر ممالک میں ہوتی ہے اور سخت سزا کا حکم ہونا ہی چاہئے کیونکہ ان کے ملاوٹی کاروبار سے انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کہیں کہیں تو لوگ اپنی جان تک گنوا دیتے ہیں۔اس طرح کے بہت سے واقعات ہمارے ملک میں اکثر و بیشتر ہوتے رہتے ہیں ۔جب تک ایف ڈی اے جیسے ادارے کارروائی کے بعد سخت قانونی کارروائی کو عمل پیرا نہیں کریں گے تب تک ملاوٹی کاروبار کا حتمی خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
عادل آصف(کاروبار اور قلمکار، کرلا)
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر کا سبق: جمہوریت صرف الیکشن کا نام نہیں ہے
ایف ڈی اے کی کارروائیوں کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے

مہاراشٹر میں ایف ڈی اے کی حالیہ کارروائیوں کو صرف چھاپوں یا لائسنس منسوخی کی کارروائی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے بلکہ یہ عوامی صحت کے تحفظ سے جڑا ہوا ایک اہم قانونی اور سماجی مسئلہ ہے۔ ایک وکیل کی حیثیت سے میری رائے میں اگر کوئی ہوٹل یا فوڈ یونٹ غیر معیاری یا ملاوٹ شدہ اشیاء فروخت کرتا ہے تو وہ صرف قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا بلکہ عوام کی صحت اور زندگی کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل ۲۱؍ کے تحت ہر شہری کو باوقار اور محفوظ زندگی کا حق حاصل ہے اور اس میں محفوظ غذا تک رسائی بھی شامل ہے۔ اسی مقصد کے تحت فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ۲۰۰۶ء نافذ کیا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہم نے کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ، غیر معیاری تیل، مصنوعی رنگوں اور ناقص صفائی کے متعدد معاملات دیکھے ہیں۔ ایسے میں اگر ایف ڈی اے سرگرم ہوکر معائنہ کرتی ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ قانون کا خوف بعض اوقات وہ نتائج حاصل کر لیتا ہے جو محض ہدایات اور اپیلوں سے حاصل نہیں ہوتے۔ حالیہ دنوں میں ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے ایف ڈی اے کی کارروائیوں میں جانبداری سےمتعلق سوال اٹھائے جانے کے بعد ایف ڈی اے کی ٹیم نے ممبئی ہائی کورٹ کینٹین کا بھی معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران بعض خامیوں کی نشاندہی ہوئی اور کینٹین عارضی طور پر بند کر دی گئی۔ میرے خیال میں اس واقعے نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہئے۔تاہم اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب کسی سرکاری محکمے کو وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں تو ان اختیارات کے غلط استعمال یا بدعنوانی کے خدشات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اسی لئے ضروری ہے کہ ہر کارروائی شفاف ہو، فوڈ سیمپل کی لیبارٹری رپورٹس ریکارڈ پر ہوں اور متاثرہ فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔ قانون کی بالادستی صرف سختی سے نہیں بلکہ انصاف اور شفافیت سے قائم ہوتی ہے۔
ایڈوکیٹ مہ جبین ایم خان(ممبئی)
یہ بھی پڑھئے: ’’جاپان کی ٹرین میں عمر رسیدہ خواتین نے بھی ہمارے لئے اپنی نشستیں چھوڑ دی تھیں‘‘
انصاف، توازن اور اصلاح کا پہلو بھی برقرار رہنا چاہئے

مہاراشٹر میںایف ڈی اے کے شعبے میں نئے کمشنر کی تقرری کے بعد نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ان کے ماضی کے بہترین ریکارڈ اور سخت انتظامی انداز کے باعث متعلقہ اداروں اور کاروباری حلقوں نے ان کی ہدایات پر سنجیدگی سے عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ خواہ معاملہ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کا ہو یا ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں صفائی ستھرائی کا، تقریباً ہر شعبے میں پہلے کے مقابلے میں بہتری محسوس کی جارہی ہے۔ غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کا استعمال کرکے کم قیمت پر فروخت کرنے والے بعض عناصر عوام کی صحت سے مسلسل کھلواڑ کررہے تھے، جس سے پورا نظام متاثر ہورہا تھا۔
دوسری جانب، وہ تاجر اور ہوٹل مالکان جو ابتدا ہی سے معیاری اشیاء کے استعمال اور صفائی کے اصولوں پر عمل کرتے آئے ہیں، ان اقدامات سے خود کو مطمئن محسوس کررہے ہیں۔ اگر ذاتی تجربے کی بات کی جائے تو ہمارے ڈھابوں میں کبھی بھی معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ ہمیں امید ہے کہ ان کارروائیوں کے بعد اب ہمارے کاروبار کو مزید فروغ ملے گاکیونکہ صارفین بھی معیاری اور محفوظ غذا فراہم کرنے والوں کو ترجیح دیں گے اور وہ جانتے ہیں کہ ہمارے یہاں کوالیٹی اچھی ہوتی ہے۔تاہم، اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ایف ڈی اے اپنی کارروائیوں میں توازن برقرار رکھے۔ سختی اپنی جگہ ضروری ہے، مگر پہلی مرتبہ معمولی خامیوں پر اصلاح کا موقع، مہلت اور وارننگ بھی دی جانی چاہیے۔ یہی بات بمبئی ہائی کورٹ نے بھی گزشتہ دنوں پارگ اِن بائے ریڈیسن ہوٹل کا فوڈ لائسنس رد کیے جانے کے معاملے میں کہی تھی کہ صرف دو کاکروچ ملنے پر لائسنس منسوخ کرنا مناسب نہیں۔ ایف ڈی اے کو یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ ہمارے ملک میں حفظانِ صحت اور صفائی سے متعلق بنیادی سہولتیں ہر جگہ یکساں طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ اسلئے مؤثر نگرانی کے ساتھ ساتھ انصاف، توازن اور اصلاح کا پہلو بھی برقرار رہنا چاہئے۔
احتشام احمد (نواب ڈھابہ، بھیونڈی)
یہ بھی پڑھئے: جین زی کے احتجاج سے پھوٹی کرنیں، عوام کی امیدیں اب نئی نسل پر
تکارام منڈے کی وجہ سے ممبئی کے سابق میونسپل کمشنر جی آر کھیرنار کی یاد تازہ ہوگئی

اس وقت مہاراشٹر میں فوڈ اینڈ ڈرگ شعبے کے کمشنر تکارام منڈے سوشل میڈیا سے لے کر پرنٹ میڈیا تک سرخیوں میں چھائے ہوئے ہیں۔اپنے سخت ایکشن کی بنیاد پر تکارام منڈے موضوع باعث ہیں جو ماضی کے میونسپل کمشنر جی آر کھیرنار کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔فوڈ اینڈ ڈرگ افسر کا بنیادی فرض عوام کو محفوظ معیاری اور صحت بخش خوراک فراہم کرنا ہے ہوٹلوں بیکری ڈھابہ ریسٹورنٹ اور کھانے پینے کے مراکز کی باقاعدہ جانچ کر کے وہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ صفائی حفظان صحت اور غذائی معیار کے تمام اصولوں پر عمل پیرا ہو اس کے نتیجے میں ملاوٹ، مضر صحت، خوراک اور معیاری اشیاء کی فروخت میں کمی آتی ہے جس سے عوام کی صحت محفوظ ہو سکتی ہے۔
بعض اوقات چند بدعنوان افسران یا عملہ اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ہوٹل، ڈھابہ، بیکری اور ریسٹورنٹ مالکان سے رشوت وصول کرتے ہیں اور قوانین کی خلاف ورزی کے باوجود کاروائی نہیں کرتے۔ اس طرز عمل سے ناقص اور آلودہ خوراک عوام تک پہنچتی ہے جس کے نتیجے میں کملا (یرقان) ٹائیفائیڈ ، دست، قئے ،بدہضمی اور فوڈ پوائزننگ جیسے مختلف بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بدعنوانی سے نہ صرف حکومت کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ دیانت دار کاروباری افراد بھی نقصان اٹھاتے ہیں۔کرپشن پر قابو پانے کیلئے تمام اصولوں معائنوں کا ریکارڈ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے محفوظ کیا جائے تاکہ ہر کارروائی غیر جانبدارانہ اور شفاف ہو۔ شکایت کے ازالے کیلئے ہیلپ لائن کے ساتھ ساتھ شکایتی لیٹر باکس کے مراکز قائم کیے جائیں۔ متعلقہ افسران پر رشوت خوری یا بے ضابطگی ثابت ہونے پر سخت قانونی ایکشن لیا جائے ساتھ ہی ہوٹل مالکان اور عوام میں بھی حفظان صحت اور سیفٹی کے قوانین۱۹۸۸ء اور۲۰۱۸ء کی ترمیم شدہ جی آر کاپی آن لائن پورٹل پر اپلوڈ کر کے قوانین سے متعلق ہوٹل مالکان میں آگاہی اور عوام میں بیداری پیدا کی جا سکے۔مذکورہ دونوں جی آر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مارکیٹ میں صرف محفوظ معیاری اور قانونی طور پر منظور شدہ غذائی اور ادویات ہی دستیاب ہوں جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کی جائے۔اس سے صارفین کے حقوق کا تحفظ عوامی صحت کا فروغ اور فوڈ اینڈ ڈرگس انتظامیہ کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ تکارام منڈے اپنے عہدے پر رہتے ہوئے کتنے غیر جانبدارانہ عمل کو انجام دینے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر سیاسی دباؤ کی بھینٹ چڑھ کر تبادلے کا شکار ہو جاتے ہیں، یہ توآنے والا وقت ہی بتائے گا۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہر کوئی جی آر کھیرنار نہیں بن سکتا !
توفیق احمد ذکر اللہ خان (صحافی، شیواجی نگر، گونڈی،ممبئی)
یہ بھی پڑھئے: جین زی اور جین وائے: نسلیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتیں، ساتھ میں آگے بڑھتی ہیں
لائسنس منسوخ کرنے کے بجائے نوٹس دیئے جائیں

گزشتہ چند ماہ سے مہاراشٹر کے کئی بڑے ضلع اور بڑے شہر جیسے ممبئی و مضافات شہر میں کمشنر تکارام منڈے نے جو مہم چلائی ہے ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ کے زمرے میں آتا ہے جسے ایف ڈی اے سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ممبئی و مضافات کے ریسٹورنٹ میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ہوٹل کے کچن میں صاف صفائی نہیں رہتی ہے، اس کے علاوہ جو کھانا ہوٹل کے ٹیبل پر دیا جاتا ہے اس کا معیار بھی کافی گر چکا ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ ایف ڈی آئی کا کام ہے کہ وہ ریسٹورنٹ پہنچے اور جائزہ لے، مگر جس انداز سے پوری توانائی کے ساتھ ایف ڈی اے کارروائی کر رہی ہے، وہ کافی حد تک غلط ہے۔ اسے چاہئے کہ ریسٹورنٹ کے لائسنس منسوخ کرنے کے بجائے انہیں نوٹس دیے جائیں یا پھر ان پر جرمانہ عائد کیا جائے۔ اس پر بھی اگر وہ نہیں مانتے ہیںتو انہیں بھاری جرمانے کے ساتھ مہلت دی جائے،اس کے بعد لائسنس منسوخ کرنے کا حکم نامہ دیا جائے۔ ایف ڈی آئی کو چاہئے کہ دودھ کی ملاوٹ پر نظر رکھے۔ دودھ میں جو ملاوٹ کی جارہی ہے وہ بہت غلط ہے۔ اس زمرے میں بیشمار معصوم بچوں کی زندگی شامل ہے مگر اس پر کوئی ردِ عمل نہ کرتے ہوئے ریسٹورنٹ کے لائسنس کو جس طاقت کے ساتھ منسوخ کیا جارہا ہے یہ بالکل غلط ہے۔ اسپتال اور اسکول کی کینٹین کی بات سمجھ میں آرہی ہے کہ مریض اور اسکول کے طلبہ کیلئے معیاری کھانا بہت ضروری ہے۔ اسکول میں بچوں کو مڈڈے میل میں اچھے سے اچھا کھانا دیا جانا چاہئے۔ ایف ڈی آئی کو چاہئے کہ جب آپ ریسٹورنٹ اور کینٹین کے لائسنس جاری کرتے ہیں اس وقت وہاں کا معائنہ کرنا چاہئے اور شعبے کے اسٹاف کو وقتا فوقتا ان ریسٹورنٹ اور کینٹین میں جائزہ کیلئے جاتے رہنا چاہیے۔ کئی اسکولوں اور اسپتالوں کی کینٹین پر کارروائی کی گئی، یہ کافی حد تک صحیح ہے۔ اگر حکومت نے ملاوٹ والی اشیاء پر سختی سے نظر رکھنے کا یہ سلسلہ جاری رکھا اور ملاوٹ کے کام کرنے والوں کو سخت سے سخت سزائیں ملتی رہیں تو ضرور اس میں کامیابی ملے گی اور کئی معصوموں کی جان بچائی جا سکے گی۔ آج کئی روزمرہ کی اشیاء میں ملاوٹ کی جارہی ہے جس سے صحت پر اثر پڑ رہا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس طرف توجہ دینا بہت اہم ہے۔
سلام عثمان شیخ(سبکدوش بینک آفیسر، ممبئی)