Updated: August 24, 2026, 2:22 PM IST
| Mumbai
امتحان کو ختم کرنے کا مطالبہ قطعی مناسب نہیں ہے

نیٹ امتحان کو مکمل ختم کرنے کا مطالبہ وقتی غصے کا نتیجہ ہے، لیکن یہ مناسب حل نہیں۔ نیٹ کا بنیادی مقصد پورے ملک میںایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، بی یو ایم ایس، بی اے ایم ایس اوربی ایچ ایم ایسکیلئے ایک جیسا، شفاف اور میرٹ پر مبنی داخلہ نظام قائم کرنا تھا تاکہ کیپٹیشن فیس اور ڈونیشن کا خاتمہ ہو۔ اگر نیٹ ختم کر دیا گیا تو ریاستی سطح پر الگ الگ امتحان اور نجی کالجوں کی من مانی واپس آ جائے گی، جس سے غریب طلبہ کو زیادہ نقصان ہوگا۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ نظام میں کئی خامیاں ہیں جو امیر طبقے کے حق میں جاتی ہیں۔ مہنگی کوچنگ، باربار امتحان دینے کی سہولت، اور صرف انگریزی ہندی میں پیپر ہونے کی وجہ سے دیہی اور سرکاری اسکول کے طلبہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پیپر لیک اور سینٹر کی بے ضابطگیوں نے اعتماد بھی کم کیا ہے۔اسلئے نیٹ کو ختم کرنے کے بجائے اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔بہتری کے اہم طریقے:
* تمام ریاستی زبانوں میں امتحان ہو تاکہ زبان رکاوٹ نہ بنے۔
* نصاب این سی ای آر ٹی تک محدود ہو تاکہ کوچنگ کلچر کم ہو اور اسکول کی پڑھائی کافی ہو۔
* امتحان کے مواقع کی حد، سال میں ایک بار اور زیادہ سے زیادہ۳؍ کوششیں، تاکہ امیروں کو بار بار ٹرائی کا فائدہ نہ ملے۔
* مفت سرکاری کوچنگ سینٹرقائم ہو اور ہر ضلع میں غریب طلبہ کیلئے مفت رہنمائی فراہم ہو۔
* سخت سیکورٹی اور شفاف امتحان ہو، پیپر لیک روکنے کیلئے ٹیکنالوجی کااستعمال ہو۔
بہرحال نیٹ کو ختم نہ کیا جائے بلکہ اسے زیادہ منصفانہ، سستا اور قابل رسائی بنایا جائے۔ مقصد یہ ہو کہ ہر ذہین طالب علم، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، ڈاکٹر بننے کا مساوی موقع پائے۔
پروفیسر ڈاکٹرقاضی راشد انور (پرنسپل انجمن اسلام ڈاکٹرمحمد إسحاق جمخانہ والا طبیہ یونانی میڈیکل کالج ورسوا ممبئی)
یہ بھی پڑھئے: وائناڈ کو تعمیراتی لابی نے نوآبادیات بنا کر رکھ دیا ہے
امتحان ختم کرنا مسئلے کا مکمل حل نہیں، متبادل نظام چاہئے

نیٹ امتحان اور اس سے پیدا شدہ صورتحال کو دیکھ کر تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ اسے منسوخ کرکے اس کا کوئی دوسرا متبادل نظام عمل میں لایا جائے، یا پھر موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نیٹ پورے ملک کے طلبہ کے لیے میڈیکل میں داخلے کا ایک یکساں نظام فراہم کرتا ہے، لیکن گزشتہ کچھ عرصے میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور بدعنوانی کے واقعات نے اس کی شفافیت پر سوالیہ نشان ضرور لگا دیا ہے۔ اس لیے محض امتحان ختم کرنا مسئلے کا مکمل حل نہیں، بلکہ پہلے اس کے متبادل اور زیادہ قابلِ اعتماد نظام پر غور ضروری ہے۔
موجودہ نظام کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے اسے دھوکہ دہی سے پاک کرکے اس میں مکمل شفافیت لانی چاہیے۔ پیپر لیک اور بدعنوانی کو سختی سے روکنے کے لیے امتحان کے پورے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے محفوظ بنایا جائے۔ سوال نامے کی تیاری، پرنٹنگ، ترسیل اور امتحانی مراکز تک پہنچانے کے عمل میں ایسی حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں کہ کسی بھی مرحلے پر سوالات افشا نہ ہوسکیں۔اس کے ساتھ نصاب اور سوالات کے معیار میں بھی مناسب توازن ضروری ہے، تاکہ ریاستی اور مرکزی بورڈز سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے ساتھ یکساں انصاف ہوسکے۔
اس کے علاوہ کثیر سطحی جانچ کا نظام بھی اختیار کیا جاسکتا ہے، جس میں بارہویں کے نتائج، داخلہ امتحان اور دیگر تعلیمی صلاحیتوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے۔ طلبہ کی ذہنی صحت بھی نظرانداز نہیں ہونی چاہیے۔ مناسب کونسلنگ کے ذریعے امتحان کی تیاری کے دوران ان پر پڑنے والے ذہنی دباؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔لہٰذا ضرورت صرف نیٹ کو ختم کرنے کی نہیں بلکہ ایک شفاف، منصفانہ، محفوظ اور طلبہ دوست داخلہ نظام تشکیل دینے کی ہے۔
انور احمد شیخ(پرنسپل،رضوان حارث آئیڈیل ہائی سکول اینڈ جونیئر کالج رابوڑی تھانہ)
یہ بھی پڑھئے: جب Logo صرف ’لوگو‘ نہ رہے، کہانیوں کیلئے بدلے، کہانیاں سنائے
اس نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے

نیٹ پیپر نظام کو ختم کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس سے ریاستوں میں الگ الگ داخلہ امتحانات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، جس سے طلبہ کیلئے الجھن، مالی بوجھ اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ تاہم، اس نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔سب سے پہلے ملک بھر میں سائنس اور ریاضی کیلئے مشترکہ نصاب ہونا چاہیے تاکہ مختلف تعلیمی بورڈز کے درمیان تعلیمی تفاوت کم ہو۔ مرکزی شعبہ تعلیم کی جانب سے طلبہکیلئے مفت معیاری مطالعاتی مواد، وسائل اور آن لائن لیکچرز کا انتظام ضروری ہے۔اس کے ساتھ ہی حکومت کو معیاری سرکاری میڈیکل کالجز اور ایم بی بی ایس کی نشستوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔ اس سے ایک طرف طلبہ کیلئے میڈیکل تعلیم کے مواقع بڑھیں گے اور دوسری طرف عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی۔ امتحانی فیس کو تقریباً ختم یا کم سے کم کر دینا چاہیے۔
نیٹ امتحان دینے والے طلبہ کی ذہنی صحت اور دباؤ کے مسائل کو کم کرنے کیلئے ہر کالج اور کوچنگ مرکز میں تربیت یافتہ کونسلرز دستیاب ہونے چاہئیں، جہاں طلبہ بلاخوف اپنی پریشانی بیان کر سکیں۔بارہویں جماعت کے بورڈ امتحان کے نمبروں کو مناسب ویٹیج دینے سے طلبہ کو پورے سال باقاعدگی سے پڑھائی کرنے کی ترغیب ملے گی اور صرف ایک دن کے امتحان پر ان کا پورا مستقبل منحصر نہیں رہے گا۔اسی کے ساتھ نیٹ پیپر امتحان کے طریقۂ کار میں کسی بھی طرح کی بدعنوانی کو برداشت نہیں کرنا چاہیے۔
مختصراً، نیٹ پیپر کو ختم کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ اسے بہتر بنانا ضروری ہے۔ ایک منصفانہ نظام کے لیے شفاف امتحان کے ساتھ یکساں تعلیمی مواقع، سستی یا مفت تیاری کے ذرائع، میڈیکل نشستوں میں اضافہ، بورڈ امتحان کے نمبروں کو اہمیت، اور طلبہ کو خوف و غیر ضروری دباؤ سے پاک ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔
سید فہیم الدین مظہرالدین (نیشنل اردو جونیئر کالج،کلیان)
یہ بھی پڑھئے: ۸۰؍ویں یوم آزادی پر اپنا محاسبہ، کس رخ پر جارہی ہے ہماری جمہوریت؟
امتحان کو ختم کرنے کا مطالبہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے

کسی بھی امتحان کو ختم کرنے کا مطالبہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ امتحان دراصل طلبہ کی ذہنیت، یادداشت، معلومات اور بچے کی ذہنی صلاحیت کے معیار کی جانچ ہوتا ہے۔ کسی مضمون میں ان کی دلچسپی بھی امتحان کے ذریعے ہی معلوم ہوتی ہے۔میری رائے میں نیٹ کو ختم نہ کرتے ہوئے اس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ہمارے سماج میں ہر طرف دکانیں کھلی ہیں جہاں صرف پیسہ بولتا ہے۔ محنتی اور ایماندار طلبہ کا استحصال ہو رہا ہے۔ نامور کوچنگ کلاسز میں صرف پیسہ بٹور کر بے ایمانی سے انہیں طبی پیشے میں داخلے دیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے خدمت خلق کا جذبہ معدوم ہوتا جارہا ہے۔ طب کے نام پر ایک بہت بڑا جال بچھا ہوا ہے جس میں بڑے پیمانے پر کالا بازاری چل رہی ہے۔
بحیثیت ٹیچر میری رائے ہے کہ نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سسٹم کو بدلنے کی ضرورت ہے جس میں بے ایمانی، رشوت اور کالا بازاری کی وجہ سے کئی بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ہمارے ملک کی آبادی زیادہ ہے۔ شومئی قسمت یہ ہے کہ ہر گھر میں ایک بچہ ڈاکٹر اور دوسرا انجینئر بننا چاہتا ہے۔ جو حالات ابھی چل رہے ہیں اس میں یہ تقریباً ناممکن ہے۔ کوچنگ کلاسز کی لاکھوں روپے فیس ہر بچہ ادا نہیں کر سکتا۔کچھ علم کے ٹھیکیداروں نے جن کی واقفیت الف ب سے بھی نہیں ہے انہوں نے کوچنگ کلاسیس کے نام پر لؤٹ مچا رکھی ہےامتحان کا جو طریقہ کار ہے اسے بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔اسلئے چند تجاویز یہ ہیں:
* رینکنگ سسٹم کو بدلنا ہوگا۔
* امتحانی پرچہ لیک نہ ہو اس کیلئے سخت قانون بنانا ہوگا۔
*پہلی بار امتحان میں ناکامی کی صورت میں دوبارہ امتحان کیلئے آسان لائحہ عمل ہو۔
یہ کسی ایک بچے کے مستقبل کا سوال نہیں ہے بلکہ پورے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔
فرزانہ شاہد (سابق معلمہ: فاروق ہائی اسکول برائے طالبات، جوگیشوری)
یہ بھی پڑھئے: جنترمنتر پرمرکز نے طلبہ کو بری طرح نظر انداز کیا، رانچی میں امکانات اور متبادلات کھلے ہوئے ہیں
مرکزی امتحان کو ختم کرکے ریاستی سطح پر امتحانات کا نظام بنایا جانا چاہئے

مرکزی امتحان’نیٹ‘ جس مقصد کیلئے نافذ کیا گیا تھا، موجودہ دور میں وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے۔ پیپر لیک کے مسلسل واقعات، کوچنگ سینٹرز کی اجارہ داری اور انتظامی دھاندلیوں نے اس امتحان کی شفافیت کو تباہ کر دیا ہے۔ اسی لیے نیٹ نظام کو منسوخ کر کے پہلے کی طرح ریاستی (صوبائی) سطح پر امتحانات منعقد کرنے کا طریقہ کار دوبارہ بحال کرنا ہر لحاظ سے مناسب اور وقت کی ضرورت ہے۔صوبائی امتحانات کی بحالی کے حق میں اہم اور مضبوط دلائل درج ذیل ہیں:
ریاستی تعلیمی بورڈز کے طلبہ کے ساتھ انصاف: ہر ریاست کا تعلیمی بورڈ اور نصاب الگ ہوتا ہے۔ مرکزی سطح کا نیٹ امتحان زیادہ تر سی بی ایس ای نصاب پر مبنی ہوتا ہے، جس سے ریاستی بورڈز سے پڑھنے والے دیہی اور غریب طلبہ شدید ناانصافی کا شکار ہوتے ہیں۔ صوبائی نظام میں سوالات مقامی نصاب کے مطابق ہوتے ہیں، جس سے تمام طلبہ کو مساوی موقع ملتا ہے۔
کوچنگ مافیا کی اجارہ داری کا خاتمہ: نیٹ کے سخت اور مرکزی ڈھانچے نے لاکھوں روپے فیس لینے والے کوچنگ سینٹرز کو فروغ دیا ہے۔ غریب طلبہ ان مہنگی کوچنگ کی فیس ادا نہیں کر سکتے۔ اگر امتحانات ریاستی سطح پر اپنے اسکول کے نصاب کی بنیاد پر ہوں تو غریب اور محنتی طلبہ بغیر کوچنگ کے بھی میڈیکل میں داخلہ حاصل کر سکتے ہیں۔
پیپر لیک پر روک: اتنے بڑے پیمانے پر پورے ملک میں ایک ساتھ امتحان منعقد کرانا انتظامی طور پر انتہائی دشوار اور خطرے سے خالی نہیں ہے۔ اگر امتحان ریاستی سطح پر منعقد ہو تو نہ صرف اس کی نگرانی آسان ہوگی بلکہ پیپر لیک جیسے گھناؤنے جرائم پر فوری کنٹرول بھی ممکن ہو سکے گا۔
وفاقی ڈھانچے کا احترام: تعلیم اور صحت کے شعبے میں ریاستوں کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔ مرکزی نظام نے ریاستوں کے حقوق کو سلب کر لیا ہے۔ صوبائی نظام کی بحالی سے ریاستیں اپنے علاقے کی ضروریات اور طلبہ کی صلاحیت کے مطابق قوانین اور کوٹہ مقرر کرنے میں آزاد ہوں گی۔
نیٹ نظام کا خاتمہ اور قدیم صوبائی طریقہ کار کی واپسی ہی طلبہ کے مستقبل کو محفوظ، منصفانہ اور شفاف بنانے کا واحد راستہ ہے۔
ایڈوکیٹ اشہد اعجاز اعظمی(کاروباری اور سماجی کارکن، کرلا)
یہ بھی پڑھئے: ہمارا تعلیمی نظام : یہ کہاں آگئے ہم ؟
نیٹ کے ساتھ ہی بارہویں کے نتائج کو بھی مناسب اہمیت دی جائے

میڈیکل داخلوں کیلئے نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) کا نظام گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل سوالات کی زد میں ہے۔ پرچے کے افشا، امتحانی بے ضابطگیوں اور لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑے تنازعات نے اس مطالبے کو تقویت دی ہے کہ نیٹ کو ہی ختم کردیا جائے۔ حالیہ دنوں میں تمل ناڈو سمیت بعض حلقوں نے بارہویں جماعت کے نمبروں کی بنیاد پر میڈیکل داخلے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نیٹ کو ختم کرنا واقعی مسئلے کا حل ہے؟ میرے خیال میں محض ایک امتحان ختم کرنے کے بجائے داخلہ نظام کو زیادہ منصفانہ، شفاف اور وفاقی اصولوں سے ہم آہنگ بنانے کی ضرورت ہے۔ صرف نیٹ ختم کرکے بارہویں کے امتحانات کو میرٹ کی واحد بنیاد بنانا بھی مکمل حل نہیں ہوگا، کیونکہ مختلف ریاستوں کے تعلیمی معیار، امتحانی طریقۂ کار اور نمبروں کی شرح میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔
ایک بہتر راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ بارہویں جماعت کے نتائج کو نیٹ امتحان کے نتائج کے ساتھ جوڑا جائے اور اسے مناسب اہمیت دی جائے، مگر اس کے ساتھ ایک معیاری اور محدود اہلیتی امتحان رکھا جائے، تاکہ مختلف تعلیمی بورڈز کے طلبہ کے درمیان مناسب توازن قائم رہے۔ اس کے علاوہ ریاستوں کا کوٹہ موجودہ نظام سے زیادہ ہونا چاہیے۔ فی الحال سرکاری میڈیکل کالجوں کی بیشتر نشستیں ریاستی کوٹے میں اور۱۵؍ فیصد نشستیں آل انڈیا کوٹے میں آتی ہیں۔میڈیکل تعلیم میں مقامی طلبہ کو ترجیح دینا اس لیے بھی مناسب ہے کہ ریاستیں اپنے وسائل سے طبی ادارے قائم کرتی ہیں اور ان سے تربیت پانے والے ڈاکٹر عموماً اسی خطے کی طبی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ ساتھ ہی دیہی، غریب اور سرکاری اسکولوں کے طلبہ کیلئے خصوصی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔لہٰذا ضرورت نیٹ کو جذباتی انداز میں ختم کرنے کی نہیں بلکہ ایسا شفاف داخلہ نظام بنانے کی ہے جس میں بارہویں کا میرٹ، ریاستی ترجیحات، سماجی انصاف اور ایک قابلِ اعتماد قومی معیار،سب کو مناسب جگہ حاصل ہو۔
پرویز خان عرف پی کے (سماجی کارکن ، بھیونڈی)