EPAPER
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا۔ اچانک کسی برے خواب کے زیرِ اثر میری آنکھ کھلی۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا، اب تو یہ میری زندگی کا معمول بن چکا تھا۔
September 22, 2026, 5:27 PM IST
اشعر جو چہارم جماعت کا ہونہار طالب علم تھا، خوشی سے جھومتا ہوا اسکول سے گھر آیا۔ اسکول بیگ صوفہ پر اچھال کر ماں کو آوازیں دیتا ہوا باورچی خانے کا رُخ کیا۔
September 21, 2026, 3:28 PM IST
ایک بہن کی اپنے مرحوم بھائی کے لئے جذباتی تحریر۔
September 21, 2026, 3:13 PM IST
ٹھنڈے پانی کی بوندیں کھڑکی کی سلاخوں سے ٹکراتے ہوئے رِدا کے چہرے کو بھگو رہی تھیں، جو کرسی پر دونوں پاؤں اوپر لئے، ان کے گرد دونوں بازو لپیٹے نہ جانے کن خیالوں میں گم بیٹھی ہوئی تھی، کہ اس کی امی رشیدہ کی مسلسل آواز تک اسے سنائی نہیں دی۔
September 14, 2026, 5:40 PM IST
