نجی اسکول کے خالی راہداریوں میں اپنے جلتے بجھتے خوابوں کی دیئے جلائے وہ روز شام اس آس اور امید کے ساتھ اپنے گھر کا رخ کرتا کہ ایک دن یہ زندگی بھی اس پر مہربان ہو جائے گی۔ ایک دن اسے ضرور مستقل ملازمت نصیب ہوگی۔
EPAPER
Updated: February 26, 2026, 3:04 PM IST | Naziya Munawwar Husain | Mumbai
نجی اسکول کے خالی راہداریوں میں اپنے جلتے بجھتے خوابوں کی دیئے جلائے وہ روز شام اس آس اور امید کے ساتھ اپنے گھر کا رخ کرتا کہ ایک دن یہ زندگی بھی اس پر مہربان ہو جائے گی۔ ایک دن اسے ضرور مستقل ملازمت نصیب ہوگی۔
نجی اسکول کے خالی راہداریوں میں اپنے جلتے بجھتے خوابوں کی دیئے جلائے وہ روز شام اس آس اور امید کے ساتھ اپنے گھر کا رخ کرتا کہ ایک دن یہ زندگی بھی اس پر مہربان ہو جائے گی۔ ایک دن اسے ضرور مستقل ملازمت نصیب ہوگی۔ کیونکہ اب اسے ایسا لگنے لگا تھا کہ کہیں وہ اس مہنگائی کے سمندر میں ڈوب نہ جائے۔ پرائیویٹ اسکول کے معمولی تنخواہ میں بیوی، دو بچوں کی کفالت کرنا اس کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔
نام تھا اس کا عاصم احمد۔ عاصم کے لئے پڑھانا صرف ایک پیشہ نہیں تھا بلکہ یہ چیز اسے وراثت میں ملی تھی۔ اس کے والد سعد احمد صاحب ایک استاد کے پیشے پر فائز تھے لیکن کم عمری میں ہی عاصم کو داغ مفارقت دے گئے مگر ایک جملہ اس کے گوش گزار کر گئے ’’بیٹا.... علم بیچنا مت.... بانٹنا....!‘‘
عاصم نے اس جملے کو اپنے سینے میں دفن کر لیا۔ عاصم نے سرکاری نوکری کے کتنے ہی دروازے کھٹکھٹائے امتحان بھی دیئے اور انٹرویو بھی۔ مگر ہر جگہ رشوت کے سانپ نے اپنے پھن پھیلائے رکھے تھے جس نے کتنے ہی عاصم کو نِگل لیا تھا یہاں صلاحیت کی کوئی قیمت نہیں تھی قیمت تھی تو صرف ایک ’لفافے‘ کی۔
گھر میں دو ننھے چہرے اس کا انتظار کرتے بیٹا زید، بیٹی عنایہ اور بیوی مریم.... جس کی آنکھوں پر روزانہ ایک سوال ایک آخری امید کی طرح رقص کرتا لیکن عاصم کے چہرے کی مایوسی کی صورت میں اس کو اپنا جواب مل جاتا۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: شناخت کا سفر
’’فیس جمع کرنی ہے اور مکان مالک بھی آنے والا ہے۔‘‘ وہ دبی زبان میں سرگوشی کرتی۔ نجی اسکول کی معمولی تنخواہ میں گزارا کرنا جیسے جلتے سورج میں سایہ ڈھونڈنا۔ لیکن عاصم نے ہار نہیں مانی۔ ثابت قدمی سے ڈٹا رہا جیب تو چھوٹی تھی لیکن ضمیر اب بھی زندہ تھا۔
دن یوں ہی گزرتے رہے۔ روزانہ عاصم اپنے یوٹیوب چینل ’خان اکیڈمی‘ پر ویڈیو اپلوڈ کرتا رہا۔ اور اضافی آمدنی کے لئے کوچنگ میں سر کھپانے کے بعد ایک یہی کام تو تھا جو اس کے دل کو سکون مہیا کرتا تھا۔ اس کے سبسکرائبر اور ان کا پیار ہی تو تھا جو اس کی طاقت تھی جو ساری پریشانیوں اور مشکلات کو رفو چکر کر دیتی تھی۔
نہ لائٹس.... نہ اسٹوڈیو.... بس ایک دیوار.... ایک تختہ اور ایک ایماندار اور سچا استاد۔
اس نے غریب بچوں کو پڑھانا اپنا شیوہ بنا لیا مفت کیونکہ وہ جانتا تھا کہ علم پر سب سے پہلا حق اس کا ہوتا ہے جو سوال کرتا ہے۔ وہ ریاضی کا ٹیچر تھا اور بچوں کے سوالوں کے جوابات ان کو مہیا کرانے کے بعد اسے عجیب سا قلبی سکون محسوس ہوتا تھا جو دنیا کے کسی دولت میں نہیں۔ یوٹیوب کی آمدنی تو ابھی بہت معمولی تھی۔ لیکن عاصم کو آمدنی سے زیادہ اپنے طالب علموں کی فکر تھی۔
یہ بھی پڑھے: افسانہ: آسمان سب کیلئے ایک سا کیوں نہیں ہوتا؟
"Sir pehli baar mein he samajh aa gaya."
یہ کمنٹ اس کی ساری تھکن کو اتار دیتا تھا۔
اگر ایک بچہ بھی سیکھ جائے تو استاد کامیاب ہو جاتا ہے۔
دن میں اسکول شام کو کوچنگ اور رات کو یوٹیوب.... وہ روز اپنے ابا کی تصویر سے جو ہمیشہ اس کے موبائل اسکرین پر موجود رہتی تھی مخاطب ہو کر کہتا ’’ابا آج پھر سچ پڑھاؤں گا۔‘‘
اسے لگتا ابا اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد آج بھی اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں یہی حوصلہ اسے کبھی گرنے نہیں دیتا تھا نہ کسی کے قدموں میں نہ کسی کی نظروں میں۔
عاصم نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ صرف نوکری نہیں کرے گا بلکہ وہ نظام بدلے گا اس نے اپنے یوٹیوب کلاسیز کو باقاعدہ آن لائن اکیڈمی میں بدل دیا۔ غریب بچوں کے لئے مفت داخلہ اور استطاعت رکھنے والوں سے معمولی فیس۔
لوگ ہنسے بھی اور کہاں ایک آدمی کیا بدل لے گا؟ مگر وہ جانتا تھا انقلاب شور سے نہیں تسلسل سے آتا ہے۔ لوگ اس کے ویڈیوز بنانے کا بھی مذاق اڑاتے لیکن وہ دل جمعی سے اور دیانتداری سے اپنے کام کو انجام دیتا رہا۔ چند سالوں میں اس کے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہوگئی تھی۔ اس شہر کے بچے سرکاری امتحانات میں نمایاں پوزیشن لینے لگے۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کششِ ثقل
انٹرویو میں جب ان سے پوچھا ’’تمہارا استاد کون ہے؟‘‘ وہ ایک نام لیتے.... فخر سے..... آنکھوں میں چمک کے ساتھ....
ایک دن اسی مقام پر جہاں کبھی عاصم سے ’’تعاون‘‘ مانگا گیا تھا اسے بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا۔ مگر اس نے اپنی تقریر میں صرف اتنا کہا ’’استاد کو کبھی بھی خریدنے کی کوشش مت کیجئے کیونکہ اگر استاد بک گیا تو نسلیں گروی ہو جائیں گی۔‘‘
گھر آ کر عاصم نے بچوں کو محبت سے گلے لگایا کیونکہ اب اسے شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ اب کرایہ وقت پر ادا ہوتا تھا، فیس کی پرچی سے خوفزدہ نہیں ہونا پڑتا تھا اور سب سے بڑھ کر اس کے والد کا خواب زندہ تھا۔
یہ کہانی صرف ایک نوکری حاصل کرنے کی نہیں تھی، یہ تھی اپنے ضمیر کو بچانے کی۔ یہ کہانی ہمارے سماج کے اس زخم کی ہے جسے ہم رشوت کہہ کر معمولی سمجھ لیتے ہیں لیکن ہم نہیں جانتے یہ زخم اب ایک لاعلاج بیماری اور ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جب ایک قابل استاد کو اپنی محنت، اپنی ڈگری، اپنے ہنر کے باوجود صرف اس لیے ملازمت نہ ملے کہ اس کی جیب بھاری نہیں تو نقصان صرف اس معلم کا نہیں ہوتا اس کا خمیازہ ان طالب علموں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے جو ایک استاد کھو دیتے ہیں ۔نقصان نسلوں کا ہوتا ہے جب قابلیت کو پیسے اور سفارش کی لمبی لمبی دیواروں تلے دبا دیا جاتا ہے اور سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے معاشرے کا کیونکہ جب استاد کو خریدا جائے تو علم کمزور ہو جاتا ہے جب علم کمزور ہو جائے تو قومیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: احساس نامہ
کچھ لوگ عہدے سے بڑے ہوتے ہیں اور کچھ اصولوں سے عاصم عہدے میں بڑا نہیں بنا مگر اصولوں اور رتبے میں بلند ہوگیا۔