urdu literature

سرہانے میر کے آہستہ بولیں یا نہ بولیں

مصرعہ اولیٰ میں میر کہتے ہیں ،’سرہانے میر کے آہستہ بولو ` ‘ اس مصرعہ پر کئی برسوں سے اہل علم و زبان اور اہل ادب بحث کرتے آئے ہیں۔ بحث مصرعے کی صحت لفظی اور صحت معنوی پر نہیں ہے بلکہ مصرعے میں استعمال کئے گئے الفاظ کے محل پر ہوتی آئی ہے۔ اس لحاظ سے اہل علم کی رائے دو حصوں میں تقسیم ہے۔ایک گروہ مانتا ہے کہ اصل مصرعہ’سرہانے میر کے کوئی نہ بولو‘ ہے۔

November 29, 2022, 11:57 AM IST

ارتضیٰ نشاط ایک شاعر کا نہیں بلکہ ایک عہد کا نام ہے

زندگی کے تجربات سے نشاط سرسری نہیں گزرے ، ا نہوںنے بڑی چابکدستی سے ہر حادثہ اور واقعہ کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا

November 21, 2022, 1:37 PM IST

غیر اردو داں طبقےکو اردو کی کون سی چیز پسند ہے؟

اردو کی مقبولیت عالمی ہے۔دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جہاں اردو ادب خصوصاً شاعری کا کوئی دلدادہ نہ ہو۔یہ بات سچ ہے کہ اردو کے دامن کو وسعت اور مالا مال کرنے میں غیر اردو داں طبقے کی بھی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔اردو زبان نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ ایک تہذیب کی ترجمان بھی ہے

October 31, 2022, 12:32 PM IST

فکر تونسوی کی یاد میں

رستم(نام تبدیل) کی عادت ہے کہ جہاں کسی بڑے ادیب نے ان سے حُسن سلوک کیا، شکریہ ادا کرنے اس کے شہر پہنچ جاتے ہیں۔

October 24, 2022, 1:15 PM IST

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK