EPAPER
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کو تاریخ کا سب سے بڑا اور مالی اعتبار سے کامیاب ترین عالمی ٹورنامنٹ قرار دیا جا رہا ہے، مگر تازہ معاشی اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ فیفا نے ریکارڈ آمدنی حاصل کی، اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھرے رہے اور میزبان شہروں میں سیاحت بڑھی، لیکن امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو کی مجموعی معیشت پر اس کے اثرات توقعات سے کہیں کم رہے۔ ماہرین کے مطابق ورلڈ کپ نے مقامی کاروبار کو وقتی فائدہ ضرور پہنچایا، تاہم وسیع پیمانے پر معاشی انقلاب برپا نہیں ہو سکا۔
July 21, 2026, 6:53 PM IST
اگرچہ فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا ٹائٹل اسپین نے جیتا، لیکن سب سے بڑا معاشی فاتح امریکہ رہا۔ ٹورنامنٹ کے دوران امریکی شہروں میں اسٹیڈیم کھچا کھچ بھرے رہے، ہوٹلوں، ریستورانوں، ایئرلائنز اور مقامی کاروباروں نے ریکارڈ کمائی کی، جبکہ فیفا کے لیے بھی یہ تاریخ کا سب سے زیادہ منافع بخش ورلڈ کپ ثابت ہوا۔ اندازوں کے مطابق ٹورنامنٹ سے تقریباً ۱۵؍ ارب ڈالر کی معاشی سرگرمی ہوئی، جس میں سب سے بڑا حصہ امریکہ کو ملا۔
July 21, 2026, 6:08 PM IST
فیفا نے اسپین اور ارجنٹائنا کے درمیان کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے فائنل کے بعد پیش آنے والے پرتشدد واقعات کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ارجنٹائنا کے متعدد کھلاڑیوں پر اسپین کے کھلاڑیوں سے جھگڑے، ہاتھاپائی اور کھیل کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد متعلقہ کھلاڑیوں اور ٹیم حکام کے خلاف جرمانے، معطلی یا دیگر تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
July 21, 2026, 6:14 PM IST
اسپین کے ورلڈ کپ فاتح ونگر نیکو ولیمز نے فائنل کے بعد ایک ایسا جذباتی منظر پیش کیا جس نے دنیا بھر کے شائقین کے دل جیت لیے۔ ارجنٹائنا کے خلاف تاریخی فتح کے بعد انہوں نے اپنا ورلڈ کپ طلائی تمغہ اپنی والدہ کے گلے میں ڈال دیا۔ نیکو کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی دراصل ان کی والدہ کی قربانیوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے بہتر مستقبل کے لیے بے شمار مشکلات برداشت کیں۔ یہ لمحہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔
July 21, 2026, 2:56 PM IST
