Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوراج سنگھ نے سنجو سیمسن کوٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا ہیرو قرار دے دیا

Updated: March 17, 2026, 8:04 PM IST | New Delhi

ہندوستانی کرکٹ میں مینٹورشپ کی اہمیت ایک بار پھر ثابت ہوئی جب سنجو سیمسن نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءمیں ہندوستان کو چیمپئن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کامیابی کے پیچھے صرف ان کی صلاحیت ہی نہیں بلکہ یوراج سنگھ جیسے عظیم کھلاڑی کی رہنمائی بھی شامل تھی۔

Yuvraj Singh And Sanju Samson.Photo:INN
یوراج سنگھ اور سنجو سیمسن۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانی کرکٹ میں مینٹورشپ کی اہمیت ایک بار پھر ثابت ہوئی جب سنجو سیمسن نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءمیں ہندوستان کو چیمپئن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کامیابی کے پیچھے صرف ان کی صلاحیت ہی نہیں بلکہ یوراج سنگھ جیسے عظیم کھلاڑی کی رہنمائی بھی شامل تھی۔ ٹورنامنٹ سے پہلے ملنے والی یہ غیر رسمی مدد سیمسن کے کیریئر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی اور انہوں نے خود کو ایک قابلِ اعتماد میچ ونر کے طور پر منوایا۔
ایک فون کال جس نے رخ بدل دیا
ورلڈ کپ سے پہلے یوراج سنگھ نے سنجو سیمسن سے براہِ راست رابطہ کیا اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کی پیشکش کی۔ یہ کوئی باقاعدہ کیمپ نہیں تھا بلکہ ایک سینئر کھلاڑی کی ذاتی پہل تھی۔ سیمسن نے اس موقع کو فوراً قبول کیا اور تیاری کے دوران یوراج کے ساتھ کام کیا۔ اس دوران رابن اُتھپا نے بھی ان کی رہنمائی کی، جس سے ان کی تیاری مزید مضبوط ہوئی۔
تکنیک سے زیادہ ذہنیت پر کام
یوراج سنگھ اور رابن اُتھپا نے سیمسن کے کھیل میں بڑی تبدیلیاں کرنے کے بجائے ان کی موجودہ مضبوطی کو بہتر بنانے پر توجہ دی۔ انہوں نے سیمسن کو میچ کی صورتحال کو سمجھنے، اپنی اننگز کو کنٹرول کرنے اور دباؤ میں پرسکون رہنے کی مہارت سکھائی۔ یہی وہ پہلو تھے جہاں سیمسن پہلے جدوجہد کرتے نظر آتے تھے۔
تجربے سے ملی نئی سوچ
یوراج اور اُتھپا جیسے کھلاڑی خود ورلڈ کپ جیت چکے ہیں، اس لیے ان کا تجربہ سیمسن کے لیے نہایت قیمتی ثابت ہوا۔ سیمسن نے بھی مانا کہ ایسے کھلاڑیوں سے سیکھنا بہت ضروری تھا جنہوں نے پہلے ہی وہ حاصل کر لیا ہے جو وہ پانا چاہتے تھے۔ اس رہنمائی نے انہیں واضح حکمتِ عملی اور اعتماد کے ساتھ میدان میں اترنے میں مدد دی۔
میدان میں نظر آیا مینٹورشپ کا اثر
ٹورنامنٹ کے دوران سنجو سیمسن کی کارکردگی شاندار رہی۔ انہوں نے صرف پانچ میچوں میں ۳۲۱؍ رنز بنائے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ تقریباً ۲۰۰؍رن  رہا۔ اسی بہترین کارکردگی کی بدولت وہ’’ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ‘‘قرار پائے۔ سپر۸؍کے اہم میچ میں ناقابلِ شکست ۹۷؍ رنز، پھر سیمی فائنل اور فائنل میں مسلسل  ۸۹۔۸۹؍رنز کی اننگز بھی  سب ان کے بدلے ہوئے کھیل اور مضبوط ذہنیت کا ثبوت تھے۔

یہ بھی پڑھئے:بحرین اور سعودی عرب گرینڈ پرکس کی منسوخی سے فارمولا ون کو کتنا نقصان ہوگا؟

سچن تینڈولکر سے بھی رہنمائی ملی 
صرف یو راج اور اُتھپا ہی نہیں بلکہ سیمسن نے ٹورنامنٹ کے دوران سچن تینڈولکر سے بھی مشورہ لیا۔ انہوں نے اپنی ذہنی تیاری اور گیم پلان کو بہتر بنانے کے لیے اس عظیم بلے باز سے بات چیت کی، جس سے انہیں مزید وضاحت ملی۔

یہ بھی پڑھئے:تھائی لینڈ ۲۸۴؍ ٹن غیر قانونی الیکٹرانک کچرا امریکہ کو واپس بھیجے گا


ہندوستانی کرکٹ میں نیا رجحان 
یہ کہانی  ہندوستانی کرکٹ میں ایک نئے رجحان کی عکاسی بھی کرتی ہے، جہاں کھلاڑی صرف کوچنگ اسٹاف پر انحصار نہیں کرتے بلکہ سابق کھلاڑیوں سے ذاتی رہنمائی بھی حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح کی غیر رسمی مینٹورشپ کھلاڑیوں کو ذہنی اور حکمتِ عملی کے لحاظ سے مضبوط بناتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK