EPAPER
ترک صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیلی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنجامن نیتن یاہو کی حکومت مذہبی اور فرقہ وارانہ بیانیے کے ذریعے خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع لبنان سمیت دیگر علاقوں تک پھیل سکتا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر عدم استحکام پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
March 27, 2026, 9:28 PM IST
ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم عالمی نظام شدید قانونی بحران کا شکار ہو چکا ہے اور اس کے ادارے اپنی افادیت کھو رہے ہیں۔ استنبول میں ہونے والے اسٹریٹجک کمیونیکیشن سمٹ سے خطاب میں انہوں نے بڑھتی جنگوں، نسل کشی اور طاقت کے استعمال کو عالمی عدم استحکام کی بڑی وجوہات قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے فوری امن کی ضرورت پر زور دیا۔
March 27, 2026, 9:01 PM IST
ایران جنگ کے دوران علاقائی کشیدگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے زمینی فوج تعینات کی تو خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ یمن کے حوثی گروپ نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس جنگ میں غیر جانبدار نہیں رہے گا۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایران کے سپریم لیڈر کی مبینہ آخری تصویر بھی زیر بحث آ گئی ہے۔
March 27, 2026, 8:36 PM IST
ایران جنگ کے اثرات اب عالمی معیشت پر واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں عالمی اسٹاک مارکیٹس میں شدید گراوٹ دیکھی گئی۔ اسی دوران ترکی نے مالی دباؤ کے تحت اربوں ڈالر مالیت کا سونا فروخت کیا، جبکہ امریکی حکام نے ہرمز کے ذریعے توانائی کے بہاؤ میں تبدیلی کی نشاندہی کی ہے۔
March 27, 2026, 8:19 PM IST
