Updated: June 10, 2026, 10:00 AM IST
|
Agency
| Gaza
ہندوستان میں فلسطینی سفیر عبداللہ ایم ابو شاوَش نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ لوگ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں خیموں کے اندر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
غزہ میں طبی سہولیات بری طرح متاثر ہے جس سے صورتحال سنگین ہوچکی ہے-تصویر:آئی این این
ہندوستان میں فلسطینی سفیر عبداللہ ایم ابو شاوَش غزہ کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں کی ۱۲؍فیصدآبادی شہید یا لاپتہ ہوچکی ہے۔ واضح رہے کہ آل انڈیا مسلم انٹلیکچوئل سوسائٹی (اے آئی ایم آئی ایس) کے ایک وفد نے نئی دہلی میں تعینات فلسطینی سفیر عبداللہ ایم ابو شاوَش سے سفارتخانے میں خصوصی ملاقات کی۔ اس اہم نشست کے دوران غزہ، مغربی کنارے، بیت المقدس (یروشلم) اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی تیزی سے بدلتی ہوئی تشویشناک صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سفیر عبداللہ ابو شاوَش نے وفد کو زمین پر جاری بدترین انسانی بحران کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔ ملاقات کے دوران جب ای آئی ایم آئی ایس کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عمار انیس نگرامی نے ان حالیہ رپورٹوں کا حوالہ دیا جن کے مطابق غزہ کی۱۰؍ فی صد آبادی لاپتہ ہو چکی ہے تو سفیر نے ان اعداد و شمار کی تصحیح کرتے ہوئے مزید ہولناک حقیقت سے پردہ اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ’’اب یہ تعداد۱۰؍ فی صد تک محدود نہیں رہی۔ موجودہ زمینی حقائق کے مطابق غزہ کی کل آبادی کا حیران کن طور پر۱۲؍ فی صد حصہ یا تو جامِ شہادت نوش کر چکا ہے یا پھر مسلسل لاپتہ ہے۔‘‘ انہوں نے غزہ کے موجودہ انتہائی کربناک حالات کے بارے میں بتایا کہ عام شہری اس وقت مکمل طور پر بے یار و مددگار ہے۔ پورا سول انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، بجلی کی سہولت ناپید ہے اور لوگ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں خیموں کے اندر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ طبی سہولیات کے خاتمے کے دہانے پر پہنچنے کے باعث اب تک ۱۱؍ہزار سے زائد بڑے اور ضروری آپریشن ملتوی یا منسوخ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری اس سنگین صورتحال سے کسی بھی صورت نظریں نہیں چرا سکتی۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’دنیا کو کسی بھی قیمت پر فلسطینی کاز کو پسِ منظر میں دھکیلنے یا فراموش کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ ہمیں وہاں کی صورتحال پر مسلسل اور گہری نظر رکھنی ہوگی۔‘‘ انہوں نے ایک گہرا موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو حقِ آزادی ہندوستان نے۱۹۴۷ء میں حاصل کیا تھا، فلسطینی عوام آج ۲۰۲۶ء میں بھی اسی بنیادی حق کے حصول کیلئے برسرِپیکار ہیں۔‘‘
اسرائیل کی جانب سے طبی عملے کی گرفتاری
دریں اثناءفلسطینی وزارت صحت نے منگل کی صبح ہلال احمر فلسطین کی ایمبولنس ٹیم کے ۷؍ اراکین کو انکے انسانی فرائض کی انجام دہی کے دوران قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے گرفتار کئے جانے کی شدید مذمت کی ۔ یہ واقعہ ہنگامی صورتحال کے دوران طبی شعبے سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانے کا ایک اور ثبوت ہے۔
مغربی کنارہ میں گھروں کو مسمارکرنے پرحماس کا انتباہ
دریں اثناء ’حماس‘ نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں قابض اسرائیل کی طرف سے گھروں کو مسمار کرنے کی کارروائیوں میں تیزی پر شدید انتباہ جاری کیا ہے۔اس نے کہا ہے کہ قابض دشمن نے حال ہی میں الخلیل میں درجنوں تجارتی اور رہائشی عمارتوں کو مسمار کرنے کے نوٹس جاری کئے ہیں جو فلسطینی وجود کے خلاف ایک اعلانیہ جنگ ہے۔ اس نے عالمی برادری اور تمام متعلقہ ممالک اور فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر حرکت میں آئیں اور مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں مسماری اور ان کےقتل عام کو رکوائیں۔