ایشین گیمز ۲۰۲۶ء میں ہندوستان کی ایتھلیٹ پوجا منگلاوار نے خواتین کی ہائی جمپ میں کانسہ کا تمغہ جیت کر اس مقابلے میں ملک کے ۲۴؍ سالہ انتظار کو ختم کردیا۔ پوجا نے فائنل میں۸۴ء۱؍ میٹر کی بہترین چھلانگ لگا کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 8:01 PM IST | New Delhi
ایشین گیمز ۲۰۲۶ء میں ہندوستان کی ایتھلیٹ پوجا منگلاوار نے خواتین کی ہائی جمپ میں کانسہ کا تمغہ جیت کر اس مقابلے میں ملک کے ۲۴؍ سالہ انتظار کو ختم کردیا۔ پوجا نے فائنل میں۸۴ء۱؍ میٹر کی بہترین چھلانگ لگا کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ایشین گیمز ۲۰۲۶ء میں ہندوستان کی ایتھلیٹ پوجا منگلاوار نے خواتین کی ہائی جمپ میں کانسہ کا تمغہ جیت کر اس مقابلے میں ملک کے ۲۴؍ سالہ انتظار کو ختم کردیا۔ پوجا نے فائنل میں۸۴ء۱؍ میٹر کی بہترین چھلانگ لگا کر تیسری پوزیشن حاصل کی اور ایشین گیمز کی خواتین کی ہائی جمپ میں ہندوستان کے لیے تاریخی کانسہ کا تمغہ اپنے نام کیا۔
یہ بھی پڑھئے:سری چرنی نے ویمنز ٹی۲۰؍ انٹرنیشنل رینکنگ میں نیا ریکارڈ قائم کیا
خواتین کی ہائی جمپ میں ازبکستان کی سیف اللہ ایوا نے ۹۰ء۱؍ میٹر کی ذاتی بہترین چھلانگ کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا، جبکہ قزاخستان کی کرسٹینا اووچنکووا نے ۸۷ء۱؍ میٹر کی چھلانگ لگا کر چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ ۱۹؍سالہ پوجا نے حالیہ برسوں میں ہندوستانی ایتھلیٹکس میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انڈر ۲۰؍ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں انہوں نے ۹۳ء۱؍ میٹر کی چھلانگ لگا کر سہانا کماری کا ۱۴؍ سال پرانا قومی ریکارڈ توڑا تھا۔
ایشین گیمز کے فائنل میں بھی پوجا نے مضبوط آغاز کیا اور ۸۴ء۱؍ میٹر کی بلندی عبور کرنے کے بعد تمغے کی دوڑ میں برقرار رہیں۔ تاہم وہ ۸۷ء۱؍ میٹر کی بلندی تینوں کوششوں میں عبور نہیں کر سکیں۔ اس کے نتیجے میں انہیں کانسہ کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود پوجا کی یہ کامیابی تاریخی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ ایشین گیمز میں خواتین کی ہائی جمپ میں ہندوستان کا پہلا کانسہ کا تمغہ ہے۔ اس مقابلے میں ہندوستان کا اس سے قبل بہترین مظاہرہ بابی ایلویسیئس نے ۲۰۰۲ء میں کیا تھا، جب انہوں نے چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔
پوجا سے ایک روز قبل ہندوستان کے سرویش کُشارے نے مردوں کی ہائی جمپ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ کُشارے نے فائنل میں ۲۵ء۲؍ میٹر کی بہترین چھلانگ لگائی اور دوسرے مقام پر رہے۔دلچسپ بات یہ رہی کہ کُشارے نے طلائی تمغہ جیتنے والے چینی تائپے کے چاؤ ہسوان فو کے برابر ۲۵ء۲؍ میٹر کی بلندی عبور کی، لیکن دونوں کے درمیان فیصلہ کوششوں کی تعداد کی بنیاد پر ہوا۔ چاؤ نے ۲۵ء۲؍ میٹر اپنی پہلی ہی کوشش میں عبور کرلیا، جبکہ کُشارے کو یہ بلندی عبور کرنے کے لیے دو کوششیں کرنا پڑیں۔ جمہوریہ کوریا کے سانگ ہیوک وو نے ۲۲ء۲؍ میٹر کی چھلانگ کے ساتھ کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھئے:مراکشی گلوکار سعد لمجرد کو عصمت دری کے مقدمے میں ۱۰ ؍ سال قید
سرویش کُشارے نے مقابلے میں اپنی پہلی ہی کوشش میں ۱۰ء۲؍ میٹر کی بلندی عبور کرکے مضبوط آغاز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ۱۴ء۲، ۱۸ء۲؍ اور ۲۲ء۲؍ میٹر کی بلندی بھی پہلی کوشش میں عبور کی اور طویل وقت تک سرفہرست رہے۔ دوسری جانب چاؤ کو ۱۸ء۲؍ میٹر عبور کرنے کے لیے دو کوششیں کرنا پڑی تھیں، لیکن انہوں نے اس کے بعد ۲۵ء۲؍ میٹر کی بلندی پہلی ہی کوشش میں عبور کرلی۔ یہ رواں سیزن میں چاؤ کی بہترین کارکردگی بھی رہی اور اسی بنیاد پر وہ سرفہرست ہوگئے۔
دونوں ایتھلیٹس کے ۲۵ء۲؍ میٹر عبور کرنے کے بعد مقابلہ ۲۸ء۲؍ میٹر کی بلندی تک پہنچا، لیکن دونوں کھلاڑی تینوں کوششوں میں اس بلندی کو عبور کرنے میں ناکام رہے۔ یوں چاؤ ہسوان فو نے طلائی، سرویش کُشارے نے چاندی اور پوجا منگلاوار نے خواتین کی ہائی جمپ میں ہندوستان کے لیے تاریخی کانسہ کا تمغہ حاصل کیا۔پوجا کا کانسہ کا تمغہ اور سرویش کا چاندی کا تمغہ ایشین گیمز ۲۰۲۶ءمیں ہندوستان کی ہائی جمپ میں مسلسل دو روز کی نمایاں کارکردگی کے طور پر سامنے آیا ہے۔