Updated: September 29, 2026, 8:00 PM IST
| Washington/Tehran
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے (IRNA) کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے منگل کو خبردار کیا کہ اگر ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکا گیا تو خطے کا کوئی بھی ملک تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”اگر ہماری سلامتی کی ضمانت نہ دی گئی تو کوئی بھی انفراسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ”فضائی یا تجارتی ناکہ بندیوں“ کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا اور کسی بھی خطرے کا ”زبردست اور فوری“ جواب دیا جائے گا۔
مسعود پیزشکیان اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع پر امریکی عوام سے پیٹرول کی بلند قیمتوں یا جوہری ہتھیاروں کے ذریعے ہونے والی تباہی کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنے کیلئے کہا۔ انہوں نے پیر کے دن وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اصل خطرہ ایندھن کی قیمتیں نہیں بلکہ ایٹمی حملے کا امکان ہے۔ آئیووا میں ۱۵ ارب ڈالر کے اسٹیل پلانٹ کے اعلان کے دوران، ٹرمپ نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا پیٹرول کی بلند قیمتیں اکتوبر تک برقرار رہیں گی، متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر آپ بدامنی اور تباہی دیکھنا چاہتے ہیں، تو انہیں ایٹمی ہتھیار کے ذریعے کسی شہر کو تباہ کرنے دیں۔۔۔ میں صرف اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کے بڑے حصوں کی بات نہیں کر رہا ہوں، بلکہ انہیں ہم پر بھی ایٹمی ہتھیار سے حملہ کرنے دیں۔“
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران جنگ بندی مذاکرات کی بحالی کیلئے ثالثی کوششیں تیز: رپورٹ
گفتگو کے دوران، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام امریکی حملوں کے نتیجے میں پہلے ہی بے اثر ہو چکا ہے۔ ان کے اس دعوے کو ایک ایسے تضاد کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو جنگ کیلئے انتظامیہ کے بدلتے ہوئے جواز کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے نتائج کے مطابق، تقریباً چار میں سے تین امریکی بالغوں کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ ٹرمپ کے پاس اس تنازع کو ختم کرنے کا کوئی منصوبہ ہے۔ امریکی عوام کی اکثریت تاحال فوری ایرانی جوہری خطرے کے بارے میں انتظامیہ کے ابتدائی دعوے پر شکوک کا شکار ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کی سماعتوں میں ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جس سے ظاہر ہو کہ فروری کے حملوں کے بعد ایرانی ایٹمی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا، جبکہ سابق ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے مارچ میں حلف کے تحت اس کے برعکس گواہی دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: مکہ معاہدہ اتحاد بین المسلمین کیلئے اٹھایا گیا قدم ہے: ایرانی صدر
ٹرمپ نے برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ (RAF Fairford) ایئربیس پر دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد کے الزامات کے تحت پانچ مشتبہ افراد کی گرفتاری پر بھی بات کی اور دعویٰ کیا کہ ممکنہ ایرانی حکومتی روابط کے حوالے سے ”ہم ان کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں،“ اگرچہ انہوں نے تفصیل بتانے سے انکار کر دیا۔ برطانوی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ پانچوں افراد لندن میں مقیم برطانوی شہری ہیں، جبکہ ایرانی سفارت خانے نے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔ پیر کے روز ان مشتبہ افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ سیٹیلائٹ تصاویر: اسرائیل کی نسل کش جنگ میں پورے رہائشی بلاکس نقشے سے مٹ گئے
علیحدہ طور پر، ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے (IRNA) کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے منگل کو خبردار کیا کہ اگر ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکا گیا تو خطے کا کوئی بھی ملک تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”اگر ہماری سلامتی کی ضمانت نہ دی گئی تو کوئی بھی انفراسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ”فضائی یا تجارتی ناکہ بندیوں“ کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا اور کسی بھی خطرے کا ”زبردست اور فوری“ جواب دیا جائے گا۔ ان کا یہ انتباہ سنیچر کے روز ٹرمپ کی جانب سے ایران کی اس تجویز کو مسترد کئے جانے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں پابندیاں ہٹانے اور منجمد اثاثے بحال کرنے کے بدلے سات دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی گئی تھی، جس پر ٹرمپ نے اصرار کیا تھا کہ اس آبی گزرگاہ پر واشنگٹن کا پہلے ہی ”مکمل کنٹرول“ ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو کہا کہ قطری ثالث ایران کے مطالبات پورے کرنے کے حوالے سے واشنگٹن کو نئی تجاویز پیش کریں گے۔