Updated: September 29, 2026, 8:00 PM IST
| New Delhi
مرکزی حکومت کی جانب سے ۱۸؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کیلئے آئی ٹی انٹرمیڈیئری رولز میں ترمیم کی اطلاعات کے درمیان کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے اس اقدام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے بھی نابالغوں کے تحفظ کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عمر کی حد سے متعلق قواعد پر غور کرنے کو کہا ہے۔
ابھیجیت دِپکے۔ تصویر: آئی این این
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکےنے کہا کہ’’آن لائن تحفظ کے نام پر نابالغوں پر پابندیاں کاغذ پر تو مناسب لگ سکتی ہیں، لیکن یہ سوال اٹھانا بھی بجا ہے کہ کیا اس کا مقصد جین الفا کو وہ سب کرنے سے روکنا ہے جو جین زی نے کیا؟‘‘ منگل کوابھیجیت دپکے نے مرکزی حکومت کی ان اطلاعات پر سوال اٹھائے جن میں ۱۸؍ سال سے کم عمر کے طلبہ کےسوشل میڈیا اکاؤنٹ کھولنے پر پابندی لگانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قدم سے نوجوانوں کی آنے والی نسل اقتدار میں بیٹھے لوگوں سےآن لائن ذرائع سے سوال کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتی ہے۔ سی جے پی کے بانی نے ایکس پر ٹائمز ناؤ کی اس رپورٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز ۲۰۲۱ء میں ترمیم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ نابالغوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندیاں لگائی جا سکیں۔ یہ رپورٹ سپریم کورٹ کی جانب سے قانونی تحفظات کے مطالبات اور مرکزی حکومت کی جانب سے کارروائی کی یقین دہانی کے بعد سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سنبھل احتجاج معاملہ: سپریم کورٹ نے افروز ملا کی نظر بندی ختم کی، یوپی حکومت پر جرمانہ
ابھیجیت دپکے نے ایکس پر لکھا، ’’ان تمام برسوں میں بی جے پی نے مین اسٹریم میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے اپنے بیانیے پر قابو رکھا، لیکن انسٹاگرام ایک الگ میدانِ جنگ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جین زی نے انسٹاگرام کا استعمال سیاسی پروپیگنڈے پر سوال اٹھانے، اس کا مذاق اڑانے اور اسے چیلنج کرنے کیلئے کیا اور اب جین الفا بھی آن لائن دنیا میں قدم رکھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا،’’آن لائن تحفظ کے نام پر نابالغوں پر پابندیاں کاغذ پر تو معقول لگ سکتی ہیں، لیکن یہ پوچھنا بالکل جائز ہے کہ کیا اس کے پیچھے کوئی اور مقصد بھی ہے،یعنی جین الفا کو وہ سب کرنے سے روکنا جو جین زی نے کیا تھا؟‘‘دپکے نے سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ۱۵؍ اور ۱۶؍ سال کے بچے بھی کھلے عام وزیر اعظم نریندر مودی اور اقتدار میں بیٹھے لوگوں پر تنقید اور طنز کر رہے ہیں۔ دپکے کا کہنا ہےکہ حکومت کو اس کے بجائے نوجوانوں کیلئے انٹرنیٹ کو زیادہ محفوظ بنانے پر توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے لکھا،’’اگر مرکزی حکومت کو واقعی نوجوانوں کی فکر ہے تو انہیں انٹرنیٹ کو محفوظ بنانے پر کام کرنا چاہئے۔ اس کی شروعات ان اکاؤنٹس کے خلاف سخت کارروائی سے کریں جو آن لائن لڑکیوں کو ہراساں کرتے اور گالیاں دیتے ہیں، نہ کہ پوری کی پوری نسل کی آواز کو خاموش کر کے۔‘‘دوسری طرف، سپریم کورٹ نے پیر کو مرکزی حکومت سے یہ جائزہ لینے کو کہا تھا کہ کیا ایسے قانونی قواعد لائے جا سکتے ہیں جن کے ذریعے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نابالغوں سے متعلق ہندوستانی قوانین کی پاسداری کریں۔ عدالت نے کہا کہ پلیٹ فارمز کو آزادانہ ممبرشپ کیلئے کم از کم ۱۸؍ سال کی عمر کی حد پر عمل کرنا چاہئے۔
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی جسٹس جوائے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی بنچ این جی او جسٹ رائٹس فار چلڈرن الائنس کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کر رہی تھی، جس میں ۱۸؍ سال سے کم عمرکے بچوں کیلئے سوشل میڈیا اور دیگر ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر حفاظتی تدابیر کا مطالبہ کیا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بچوں کی ڈجیٹل پلیٹ فارمز تک آزادانہ رسائی انہیں آن لائن گرومنگ، جنسی استحصال، ہیومین ٹریفکنگ، بیہیورل پروفائلنگ، ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال، سائبر بُلنگ اور غیر مناسب مواد کی نمائش جیسے خطرات سے دوچار کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مہنگائی اور مہنگے خام تیل کے درمیان آر بی آئی پر دباؤ، شرحِ سود برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے
بار اینڈ بنچ کے مطابق، عدالت نے مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ انٹرمیڈیری رولز کے تحت ایسی ہدایات جاری کرنے پر غور کرے تاکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہندوستانی قانون کی تعمیل کریں۔ سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ اگر موجودہ قانونی ڈھانچہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے کافی نہیں ہے تو حکومت کارروائی کیلئے تیار ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت سپریم کورٹ سے اتفاق کرتی ہے اور وہ جلد ہی آئی ٹی انٹرمیڈیری رولزمیں ایک ایسی شق شامل کرے گی جو پلیٹ فارمز کو ۱۸؍ سال سے کم عمر کےبچوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت دینے سے روکے گی۔ تشار مہتا کے حوالے سے بتایا گیا،’’انہیں ہندوستانی قوانین کی تعمیل کرنی ہوگی اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ کچھ کیا جا سکتا ہے، کچھ کیا جانا چاہئےاور کچھ کیا جائے گا۔‘‘
سپریم کورٹ نے سب سے پہلے ۱۰؍ ستمبر کو اس معاملے پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیاتھا۔ اخبارات کے مطابق، درخواست میں عمر کی تصدیق اور والدین کی رضامندی کا ایک قابلِ تصدیق نظام بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کے سامنے یہ معاملہ جسٹ رائٹس فار چلڈرن الائنس بنام یونین آف انڈیا کے نام سے زیرِ سماعت ہے، جو سوشل میڈیا اور دیگر ڈجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کرنے والے نابالغوں کے تحفظ سے متعلق ہے۔