ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے منگل کو اعلان کیا کہ ٹورنامنٹ اب جنوری ۲۰۲۷ء کے بجائے ۲۳ ؍دسمبر ۲۰۲۷ء سے ۲۱ ؍جنوری ۲۰۲۸ء تک منعقد ہوگا۔ اس سے قبل مقابلے کے انعقاد کی تاریخیں ۷ جنوری سے ۵ فروری ۲۰۲۷ء مقرر کی گئی تھیں۔
EPAPER
Updated: November 03, 2026, 6:02 PM IST | Riyadh
ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے منگل کو اعلان کیا کہ ٹورنامنٹ اب جنوری ۲۰۲۷ء کے بجائے ۲۳ ؍دسمبر ۲۰۲۷ء سے ۲۱ ؍جنوری ۲۰۲۸ء تک منعقد ہوگا۔ اس سے قبل مقابلے کے انعقاد کی تاریخیں ۷ جنوری سے ۵ فروری ۲۰۲۷ء مقرر کی گئی تھیں۔
سعودی عرب میں منعقد ہونے والا ایشیا کا سب سے بڑا فٹ بال ٹورنامنٹ اے ایف سی ایشین کپ ۲۰۲۷ء تقریباً ایک سال کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔ ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے منگل کو اعلان کیا کہ ٹورنامنٹ اب جنوری ۲۰۲۷ء کے بجائے ۲۳ ؍دسمبر ۲۰۲۷ء سے ۲۱ ؍جنوری ۲۰۲۸ء تک منعقد ہوگا۔ اس سے قبل مقابلے کے انعقاد کی تاریخیں ۷ ؍جنوری سے ۵ ؍فروری ۲۰۲۷ء مقرر کی گئی تھیں۔ اے ایف سی کے مطابق یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کی غیر معمولی صورتِ حال، خطے میں سیکوریٹی سے متعلق خدشات، سفری مشکلات اور انتظامی و لاجسٹک مسائل کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فلموں میں آنے سے قبل سنیل دت ریڈیو پر ایک پروگرام پیش کرتے تھے
اے ایف سی نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں ٹورنامنٹ کی مقامی انتظامی کمیٹی اور سعودی فٹ بال فیڈریشن کے ساتھ طویل مشاورت اور تفصیلی تبادلۂ خیال کے بعد مقابلے کی تاریخوں میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کنفیڈریشن کے مطابق خطے میں رونما ہونے والی غیر معمولی صورتِ حال نے پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ٹورنامنٹ کے انعقاد کو مشکل بنادیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹیموں، عہدیداروں اور شائقین کی آمدورفت میں ممکنہ رکاوٹوں اور انتظامی پیچیدگیوں کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ اے ایف سی نے واضح کیا کہ نئی تاریخوں کو منظوری کے لیے فیفا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ٹورنامنٹ کے ملتوی ہونے کے پیچھے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکوریٹی کے خدشات کو اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب میں حوثی حملوں کے بعد اہم تنصیبات اور ہوائی اڈوں کی سلامتی سے متعلق تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی صورتِ حال کے باعث سعودی عرب میں ہونے والے دیگر کھیلوں کے مقابلوں کے شیڈول میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اے ایف سی کا کہنا ہے کہ مقابلے کو ملتوی کرنے کا مقصد تمام شریک ٹیموں، کھلاڑیوں، عہدیداروں، تماشائیوں اور دیگر متعلقہ افراد کے مفادات اور حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:دیا مرزا کے ویڈیو پر بی جے پی لیڈروں کے تبصروں سے بامبے ہائی کورٹ برہم
سعودی عرب پہلی مرتبہ اے ایف سی ایشین کپ کی میزبانی کرنے جارہا ہے۔ ٹورنامنٹ میں ایشیا کی ۲۴؍ قومی ٹیمیں حصہ لیں گی اور مقابلے ریاض، جدہ اور الخبر کے مختلف اسٹیڈیموں میں کھیلے جائیں گے۔ اس سے قبل تمام میچز ۸؍ اسٹیڈیمز میں منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ میزبان سعودی عرب کے علاوہ دفاعی چیمپئن قطر، جاپان، جنوبی کوریا، ایران، آسٹریلیا اور دیگر مضبوط ٹیمیں بھی ٹورنامنٹ میں شرکت کریں گی۔ قطر نے ۲۰۲۳ء کے ایشین کپ میں جاپان کو شکست دے کر خطاب اپنے نام کیا تھا اور وہ آئندہ ایڈیشن میں اپنے اعزاز کا دفاع کرے گا۔
مقامی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین یاسر المسحل نے کہا ہے کہ نئی تاریخوں کے مطابق ٹورنامنٹ کی تیاری جاری رہے گی اور سعودی عرب اس مقابلے کی میزبانی کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق اے ایف سی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر انتظامات کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ ایشیا کے فٹ بال شائقین کو ایک یادگار ٹورنامنٹ فراہم کیا جاسکے۔ دوسری جانب تاریخوں میں تقریباً ایک سال کی تبدیلی کے باعث شریک ممالک کو اپنی ٹیموں کی تیاری، کوچنگ منصوبوں، کھلاڑیوں کے شیڈول اور دیگر انتظامات پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ اے ایف سی ایشین کپ ایشیا کا سب سے اہم قومی فٹ بال مقابلہ ہے، جس میں براعظم کی بہترین ٹیمیں چیمپئن بننے کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔ سعودی عرب میں اس ٹورنامنٹ کا پہلی مرتبہ انعقاد خصوصی اہمیت رکھتا ہے، تاہم خطے کی موجودہ صورتِ حال کے باعث شائقین کو اب اس بڑے فٹ بال ایونٹ کے لیے دسمبر ۲۰۲۷ء تک انتظار کرنا ہوگا۔