اداکارہ صبا آزاد نے ’الفا میل‘ کے تصور پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے پدرشاہی کی پیداوار قرار دیا ہے۔ یہ لفظ پرانی پدرشاہی سوچ کو زندہ رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، اسی لیے وہ اس تصور کو نہیں مانتیں۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 5:04 PM IST | Mumbai
اداکارہ صبا آزاد نے ’الفا میل‘ کے تصور پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے پدرشاہی کی پیداوار قرار دیا ہے۔ یہ لفظ پرانی پدرشاہی سوچ کو زندہ رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، اسی لیے وہ اس تصور کو نہیں مانتیں۔
اداکارہ صبا آزاد نے ’الفا میل‘ کے تصور پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے پدرشاہی کی پیداوار قرار دیا ہے۔ یہ لفظ پرانی پدرشاہی سوچ کو زندہ رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، اسی لیے وہ اس تصور کو نہیں مانتیں۔صبا آزاد نے ایک انٹرویومیں واضح طور پر کہا’’سچ کہوں تو مجھے ’الفا میل‘ کا تصور سمجھ نہیں آتا۔ میرے خیال میں یہ پدرشاہی کا گھڑا ہوا لفظ ہے تاکہ پدرشاہی نظریات قائم رہیں۔ میں اس سے بالکل اتفاق نہیں کرتی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : مَیں نے کبھی اپنی فلموں کے اسکرپٹ نہیں پڑھے: سلمان خان کا اعتراف
صبا نے مزید کہا کہ ان کے خاندان اور دوستوں میں کئی بہترین مرد موجود ہیں، لیکن پھر بھی وہ ’الفا‘ لفظ کا اصل مطلب نہیں سمجھ پاتیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کمزوری کو ’کم مردانہ‘ سمجھنے کی سوچ پرانی اور غلط ہے۔ صبا کا ماننا ہے کہ ہمارے ملک کے کئی حصوں میں آج بھی خواتین کو آزادی سے کام کرنے یا اپنے فیصلے خود کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے شہروں میں یہ حقیقت کم نظر آئے، لیکن یہ آج بھی موجود ہے۔ اسی وجہ سے خواتین کو اکثر گھر کے ساتھ ساتھ باہر بھی خود کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ کام کرتی ہیں تو لوگ ان پر سوال اٹھاتے ہیں، اور اگر کام نہیں کرتیں تو بھی انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : پاکستان: ’’دھرندھر ۲‘‘ کا جنون، نیٹ فلکس کا سرور کریش: رپورٹ
صبا جلد ہی ویب سیریز’’ Who`s Your Gynac‘‘کے دوسرے سیزن میں ڈاکٹر ودوشی کوٹھاری کے کردار میں واپس نظر آئیں گی۔ گفتگو کے دوران صبا سے یہ بھی پوچھا گیا کہ جب کوئی شو کامیاب ہو جاتا ہے تو کیا اداکاروں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا’’میرے خیال میں ہر کسی کی ذمہ داری برابر ہوتی ہے۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں، وہ ایک بہت بڑے پروجیکٹ کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے۔‘‘
صبا نے خاص طور پر لکھنے والوں کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کہانی کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس میں یکسانیت بھی برقرار رکھنی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی شو کامیاب ہوتا ہے تو ناظرین کی توقعات بڑھ جاتی ہیں۔ ایسے میں اداکاروں کو اپنے کردار میں وہی دیانتداری، خوبیاں اور خامیاں دکھانی چاہئیں جنہیں لوگوں نے پہلے سیزن میں پسند کیا تھا۔