افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنی قومی ٹیم کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تجربہ کار انگلش نژاد کوچ رچرڈ پائی بس کو نیا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا ہے۔ رچرڈ پائی بس کا تقرر جوناتھن ٹراٹ کی جگہ کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 25, 2026, 9:07 PM IST | Kabul
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنی قومی ٹیم کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تجربہ کار انگلش نژاد کوچ رچرڈ پائی بس کو نیا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا ہے۔ رچرڈ پائی بس کا تقرر جوناتھن ٹراٹ کی جگہ کیا گیا ہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنی قومی ٹیم کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تجربہ کار انگلش نژاد کوچ رچرڈ پائی بس کو نیا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا ہے۔ رچرڈ پائی بس کا تقرر جوناتھن ٹراٹ کی جگہ کیا گیا ہے، جن کی مدتِ ملازمت ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کے اختتام کے ساتھ ہی مکمل ہو گئی تھی۔ وہ آئندہ ماہ متحدہ عرب امارات میں سری لنکا کے خلاف شیڈول محدود اوورز سیریز سے قبل ٹیم کو جوائن کریں گے۔
رچرڈ پائی بس بین الاقوامی کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور اس سے قبل وہ دنیا کی بڑی ٹیموں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ وہ پاکستان کی قومی ٹیم کے دو بار ہیڈ کوچ رہ چکے ہیں۔اس کے علاوہ وہ انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں مڈل سیکس اور جنوبی افریقہ کی ڈومیسٹک ٹیم ٹائٹنز کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز جیسی ٹیموں کے ساتھ بھی بطور کوچ اور ڈائریکٹر کرکٹ خدمات انجام دی ہیں۔افغانستان ۱۳؍ سے ۲۵؍ مارچ کے درمیان متحدہ عرب امارات میں سری لنکا کے خلاف تین ون ڈے اور تین ٹی۲۰؍ میچز کھیلے گا، اور اسی سیریز کے ساتھ رچرڈ باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
نئے ہیڈ کوچ کی فوری توجہ افغانستان کے وائٹ بال فارمیٹ کو مزید مستحکم کرنے پر ہوگی۔ رچرڈ پائی بس مارچ میں سری لنکا کے خلاف شیڈول ون ڈے اور ٹی ۲۰؍ سیریز سے قبل افغان اسکواڈ کو جوائن کر لیں گے۔ سابق کوچ جوناتھن ٹراٹ کے دور میں افغانستان نے بین الاقوامی کرکٹ، خصوصاً ورلڈ کپ ایونٹس میں شاندار فتوحات حاصل کیں۔ اب رچرڈ پائی بس سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ افغان ٹیم کی حالیہ کامیابیوں کے تسلسل کو برقرار رکھیں گے اور ٹیم کو رینکنگ میں مزید اوپر لے کر جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:ممتا کلکرنی کا دیویا بھارتی کو ۵۲؍ ویں یومِ پیدائش پر خراج عقیدت، تصویر جاری کی
جنوبی افریقہ سے شکست میں سبق پوشیدہ ہے : روی شاستری
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ روی شاستری کا ماننا ہے کہ ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے سپر ایٹ مرحلے میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں۷۶؍ رنز کی شکست دفاعی چیمپئن کے لیے ایک بروقت تنبیہ ثابت ہو سکتی ہے۔پروٹیز کے ہاتھوں ناکامی سے ہندوستان کو خود احتسابی کا موقع مل گیا ہے۔شاستری کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر ملنے والی شکست ٹیم کو اہم مقابلوں سے قبل اپنی حکمت عملی اور کمبی نیشن پر نظرثانی کا موقع فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے:ناقابلِ شکست ٹیموں کا ٹکراؤ: احمد آباد میں ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کا مقابلہ
آئی سی سی کے مطابق روی شاستری نے کہا کہ اس ہار کا وقت ٹیم کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اب وہ ناک آؤٹ مرحلے سے پہلے اپنے طریقہ کار پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔ شاستری کے بقول، مسلسل فتوحات کے بعد ایک برا دن آنا فطری تھا، لیکن یہ جھٹکا ٹیم مینجمنٹ کو ٹیم کمبینیشن پر دوبارہ سوچنے پر مجبور کرے گا۔ یہ ہار ٹیم کو مقابلے کے اہم ترین مرحلے میں لاپروائی سے بچنے میں مدد دے گی۔