Updated: March 06, 2026, 7:35 PM IST
| Ahmedabad
اتوار کو جب احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں ہندوستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں ٹی ۲۰؍ورلڈ کپ کے فائنل کے لیے آمنے سامنے ہوں گی، تو شائقین کی نظریں صرف کھلاڑیوں پر ہی نہیں بلکہ ان عظیم الشان قومی پرچموں پر بھی ہوں گی جو میدان میں لہرائے جائیں گے۔
احمد آباد کا اسٹیڈیم۔ تصویر:آئی این این
اتوار کو جب احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں ہندوستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں ٹی ۲۰؍ورلڈ کپ کے فائنل کے لیے آمنے سامنے ہوں گی، تو شائقین کی نظریں صرف کھلاڑیوں پر ہی نہیں بلکہ ان عظیم الشان قومی پرچموں پر بھی ہوں گی جو میدان میں لہرائے جائیں گے۔
یہ محض کپڑے کے ٹکڑے نہیں ہیں، بلکہ ہر پرچم تقریباً ۱۱؍ہزارری سائیکل شدہ پلاسٹک کی بوتلوں سے تیار کیا گیا ہے۔۱۲۰؍ کلوگرام وزنی ان پرچموں میں سے ہر ایک کا سائز ٹینس کے تین ڈبلز کورٹس کے برابر ہے، جنہیں کم از کم ۵۰؍نوجوان رضاکاروں نے تھام رکھا ہوتا ہے۔
یہ انوکھا خیال کوکا کولا انڈیا کی آنندنا فاؤنڈیشن کا ہے، جو ان کی پائیداری کی مہم میدان صاف (جس کا مطلب صاف زمین ہے) کا حصہ ہے۔ اس مہم کا مقصد بڑے عوامی اجتماعات، جیسے کرکٹ میچز یا گزشتہ سال پریاگ راج میں ہونے والا مہا کمبھ میلہ، سے پلاسٹک کے فضلے کو اکٹھا کر کے اسے دوبارہ کارآمد بنانا ہے۔
کمپنی کی نائب صدر دیویانی رانا نے کرک بز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب آپ مختلف ممالک کے پرچم دیکھتے ہیں، تو یہ پہلا لمحہ فخر کا ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ ری سائیکل پلاسٹک ہے، جو لوگوں میں شعور پیدا کرتا ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے کچرے کے ساتھ کیا مثبت کر سکتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کی جیت میں کئی کھلاڑیوں کا مشترکہ کردار
پرچموں کی اس نمائش کے ساتھ آئی سی سی کا وہ جاندار ترانہ بھی گونجتا ہے جو پہلی بار ۲۰۲۴ءکے ورلڈ کپ میں سنا گیا تھا۔ اس ترانے کو مشہور اسکاٹش موسیقار لورن بالفے نے تیار کیا ہے، جنہوں نے مشن امپوسیبل جیسی فلموں کی موسیقی ترتیب دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ترانے کی طوالت اس طرح طے کی گئی ہے کہ پرچم بردار نوجوانوں کو اپنی جگہ پر پہنچنے کا پورا وقت مل سکے۔ اس ترانے کی ریکارڈنگ لندن کے مشہور ایبی روڈ اسٹوڈیوز میں ۹۸؍ رکنی آرکسٹرا کے ساتھ کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:’’رامائن پارٹ ٹو‘‘ کی شوٹنگ شروع
اتوار کو جب احمد آباد میں ۱۳۲۰۰۰؍ شائقین کے سامنے ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے پرچم کھلیں گے، تو یہ نہ صرف قومی شناخت بلکہ کرہ ارض کو صاف رکھنے کے عزم کا بھی اظہار ہوگا۔ تو اگلی بار جب آپ اسٹیڈیم میں کسی پرچم کو دیکھ کر تالیاں بجائیں، تو یاد رکھیں کہ آپ کی پی ہوئی کولڈ ڈرنک کی بوتل بھی اس عظمت کا حصہ ہو سکتی ہے۔