Updated: May 27, 2026, 9:15 AM IST
| Mumbai
آٹومیشن میں اضافے کے باعث ملازمتوں کے خاتمے کے خوفناک اندازوں کے درمیان، دو سلیکون ویلی کمپنیوں نے تشویش کے اشارے دیے ہیں اور کہا ہے کہ اےآئی مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس۔ تصویر:آئی این این
آٹومیشن میں اضافہ کے باعث ملازمتوں کے خاتمے کے خوفناک اندازوں کے درمیان، سلیکون ویلی کی ۲؍ کمپنیوں نے اشارے دیے ہیں کہ اے آئی کا استعمال انسانوں کے مقابلے میں مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ مائیکروسافٹ اور اوبر جیسی کمپنیوں نے محسوس کیا ہے کہ انسانی ملازمین کا استعمال زیادہ سود مند اور کفایتی ہے ۔رپورٹس کے مطابق مائیکروسافٹ نے اپنے زیادہ تر براہِ راست کلاؤڈ کوڈ لائسنس منسوخ کرنا شروع کر د ئیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اوبر آٹومیشن میں سرمایہ کاری کم کر رہا ہے۔ دونوں ہی کمپنیوں نے اشارہ دیا ہے کہ اپنے کچھ سیکٹرس میں اے آئی کا استعمال برقرار رکھیں گے لیکن باقی جگہوں سے اسے ہٹادیں گے۔ اس کے لئے سرمایہ کاری بتدریج کم کی جائے گی۔ مائیکروسافٹ واحد کمپنی نہیں جو اپنا ہی اے آئی استعمال میں کمی لا رہی ہے۔ اوبر کے سی ای ای نے حالیہ گفتگو میں خبردار کیا کہ اے آئی کے اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، لیکن ابھی تک پیداوارمیں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔
اس سے پہلے اوبر کے سی ٹی او پروین نیپالی ناگا نے اشارہ دیا تھا کہ کمپنی نے اپنے ۲۰۲۶ء کے اے آئی کوڈنگ ٹولز کا پورا بجٹ صرف چار ماہ میں ہی ختم کر دیا ہے۔ یہ اس وقت ہوا جب کمپنی نے اندرونی لیڈر بورڈس کے ذریعے اے آئی ٹولز کے استعمال کی حوصلہ افزائی بھی کی تھی۔یہ پیش رفت اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانی محنت کواے آئی سے تبدیل کرنے کی لاگت کچھ اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
بربھو رام ،وائس پریزیڈنٹ انڈسٹری ریسرچ گروپ نے کہاکہ اگرچہ اے آئی پیداوار میں قابل ذکر اضافہ کر سکتا ہے لیکن مجموعی لاگت جس میں کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، ماڈل انفرنس، انٹیگریشن، گورننس اور انسانی نگرانی شامل ہیں، اب بھی بہت زیادہ ہیں۔ آج کے کئی انٹرپرائز استعمال میں اے آئی زیادہ تر ایک معاون اور پیداوار بڑھانے والے ٹول کے طور پر کام کر رہا ہے
گولڈمین ساخس نے حال ہی میں پیش گوئی کی ہے کہ ایجنٹک ۲۰۳۰ء اے آئی تک ٹوکن کے استعمال میں ۲۴؍ گنا اضافہ کر سکتا ہے کیونکہ صارفین اور ادارے اے آئی ایجنٹس کو اپنائیں گے۔ اس سے استعمال ماہانہ ۱۲۰؍ کواڈریلین ٹوکنز تک پہنچ سکتا ہے۔ جیسے جیسے کاروبار اے آئی ایجنٹس کے ذریعے پیداواریت بڑھائیں گے، مجموعی لاگت بھی تیزی سے بڑھ سکتی ہے، چاہے ہر ٹوکن کی قیمت کم ہو جائے لیکن جیسے جیسے استعمال بڑھتا ہے، فی ٹوکن قیمت میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔اس کے باوجود اے آئی کا استعمال مہنگا ہی ثابت ہو گا ۔ اس کے مقابلے میں انسان زیادہ کفایتی اور قابل بھروسہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’چک دے انڈیا‘‘ کے اداکار رماکانت سنگین بیماری سے لڑنے کے بعد چل بسے
ایجنٹک اے آئی سے روزگار کے ڈھانچے میں تبدیلی
گولڈمین ساخس نے حال ہی میں پیش گوئی کی ہے کہ ایجنٹک ۲۰۳۰ء اے آئی تک ٹوکن کے استعمال میں ۲۴؍ گنا اضافہ کر سکتا ہے کیونکہ صارفین اور ادارے اے آئی ایجنٹس کو اپنائیں گے۔ اس سے ماہانہ ۱۲۰؍ کواڈریلین ٹوکنز تک استعمال پہنچ سکتا ہے۔ جیسے جیسے کاروبار اے آئی ایجنٹس کے ذریعے پیداواریت بڑھائیں گے، مجموعی لاگت بھی تیزی سے بڑھ سکتی ہے، چاہے ہر ٹوکن کی قیمت کم ہو جائے۔ لیکن جیسے جیسے استعمال بڑھتا ہے، فی ٹوکن قیمت میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ: امریکہ کے انکار کے بعد میکسیکو ایرانی ٹیم کی میزبانی کیلئے تیار
ٹیک بڑی کمپنیوں کی اے آئی کے لیے دوڑ
یہ محتاط اشارے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بڑی ٹیک کمپنیاں اے آئی میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ میٹا کے ایک ملازم نے ایک لیڈر بورڈ بنایا جس کا نام کلاؤڈیو نامکس رکھا گیا، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون سے ملازمین سب سے زیادہ اے آئی استعمال کر رہے ہیں۔