Updated: October 18, 2026, 10:10 PM IST
| Shanghai
اسپین کے ٹینس کھلاڑی الیخاندرو ڈیوڈووچ فوکینا نے شاندار واپسی کرتے ہوئے اپنے ہم وطن رافیل خودار کو شکست دے کر شنگھائی ماسٹرز ٹینس ٹورنامنٹ کا خطاب اپنے نام کرلیا۔ اتوار کو کھیلے گئے فائنل میں ۲۷؍ سالہ فوکینا نے ایک سیٹ سے پیچھے ہونے کے باوجود مقابلہ سے جیت لیا۔
اسپین کے ٹینس کھلاڑی الیخاندرو ڈیوڈووچ فوکینا نے شاندار واپسی کرتے ہوئے اپنے ہم وطن رافیل خودار کو شکست دے کر شنگھائی ماسٹرز ٹینس ٹورنامنٹ کا خطاب اپنے نام کرلیا۔ اتوار کو کھیلے گئے فائنل میں ۲۷؍ سالہ فوکینا نے ایک سیٹ سے پیچھے ہونے کے باوجود مقابلہ۶۔۱، ۶۔۷، ۴۔۶؍ سے جیت لیا۔ اس کامیابی کے ساتھ انہوں نے اپنے کیریئر کا پہلا اے ٹی پی ماسٹرز ۱۰۰۰؍خطاب حاصل کیا، جو اب تک ان کے ٹینس کیریئر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
چین کے شہر شنگھائی میں واقع کیژونگ فاریسٹ اسپورٹس سٹی ایرینا میں کھیلے گئے اس فائنل میں فوکینا کی شروعات اچھی نہیں رہی اور وہ پہلے سیٹ میں ۱۔۶؍ سے ہار گئے۔ دوسرے سیٹ میں بھی وہ ۲۔۳؍ سے پیچھے تھے، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور زبردست کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقابلے میں واپسی کی۔ فوکینا نے دوسرا سیٹ ٹائی بریکر میں ۵۔۷؍ سے جیت کر مقابلہ برابر کیا، جبکہ فیصلہ کن تیسرے سیٹ میں ۴۔۶؍سے کامیابی حاصل کرکے ٹرافی اپنے نام کرلی۔ یہ مقابلہ دو گھنٹے ۲۸؍ منٹ تک جاری رہا۔
یہ بھی پڑھئے:سوریہ کا طلبہ کو مشورہ، ریلز دیکھنے کے بجائے پوڈکاسٹ سنیں، علم میں اضافہ ہوگا
فوکینا کے لیے شنگھائی ماسٹرز تک کا سفر بھی آسان نہیں تھا۔ تیسرے راؤنڈ میں انہوں نے فرانس کے فرانسس ٹیافو کے خلاف ایک میچ پوائنٹ بچاتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک سیٹ سے پیچھے ہونے کے باوجود ہبرٹ ہرکاز اور الیگزینڈر زویریف جیسے مضبوط کھلاڑیوں کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی۔ ان مسلسل کامیابیوں نے ان کے اعتماد اور دباؤ میں بہتر کھیلنے کی صلاحیت کو نمایاں کیا۔
اے ٹی پی کی رپورٹ کے مطابق، اپنے کریئر کے ابتدائی پانچ ٹور سطح کے فائنل ہارنے والے فوکینا نے اب مسلسل تین خطاب جیت لیے ہیں۔ رواں سال انہوں نے پہلے مایورکا اور چینگدو میں کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ شنگھائی ماسٹرز کی فتح ان کے کیریئر کا تیسرا اور سب سے بڑا اے ٹی پی ٹور خطاب ہے۔ وہ اس سے قبل ۲۰۲۲ء میں مونٹی کارلو ماسٹرز کے فائنل تک پہنچے تھے، لیکن وہاں خطاب جیتنے میں ناکام رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:ہوپ پوری سیریز میں بہت آسانی سے رن بنا رہے تھے: شریاس ایّر
دلچسپ بات یہ ہے کہ فائنل میں دونوں کھلاڑی اپنے کیریئر کا پہلا اے ٹی پی ماسٹرز۱۰۰۰؍ خطاب جیتنے کے لیے میدان میں اترے تھے۔ نوجوان اسپینی کھلاڑی رافیل خودار پہلی مرتبہ ماسٹرز ۱۰۰۰؍ سطح کے فائنل میں پہنچے تھے، جبکہ فوکینا کو اس درجے کے فائنل کھیلنے کا سابقہ تجربہ حاصل تھا۔ تاہم، تجربے اور دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت نے فوکینا کو اہم موقع پر برتری دلائی۔
خطاب جیتنے کے بعد فوکینا کو ۱۱؍ لاکھ ۵۱؍ ہزار۳۸۰؍ امریکی ڈالر کی انعامی رقم ملی، جبکہ رنر اپ رافیل خودار کو۶؍ لاکھ ۱۲؍ ہزار۳۴۰؍ امریکی ڈالر دیے گئے۔ شنگھائی میں کامیابی کے بعد فوکینا مسلسل ۱۰؍ میچ جیتنے کے شاندار ریکارڈ کے ساتھ یورپی انڈور ٹینس سیزن میں داخل ہوں گے۔ ان کی موجودہ فارم انہیں آئندہ مقابلوں میں بھی خطاب کے مضبوط دعوے داروں میں شامل کرتی ہے۔دریں اثنا، دن کے آغاز میں آسٹریا کے لوکاس مڈلر اور نیل اوبرلائٹنر نے ڈبلز کا خطاب جیتا۔ آسٹریائی جوڑی نے فرانسسکو کابرال اور جے جے ٹریسی کو ۳۔۶، ۴۔۶؍ سے شکست دی۔ دونوں کھلاڑیوں نے پورے ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اپنے پانچوں مقابلوں میں ایک بھی سیٹ نہیں گنوایا۔ اس طرح شنگھائی ماسٹرز کا اختتام سنگلز اور ڈبلز دونوں میں دلچسپ مقابلوں اور یادگار کامیابیوں کے ساتھ ہوا۔