Updated: October 18, 2026, 6:05 PM IST
| Chennai
تمل فلموں کے معروف اداکار سوریہ نے طلبہ کو سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے اہم مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مختصر ویڈیوز یا ریلز دیکھنے میں وقت گزارنے کے بجائے پوڈکاسٹ سننے کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق، سوشل میڈیا پر مسلسل ریلز دیکھنے سے طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہو سکتا ہے۔
سوریہ۔ تصویر:آئی این این
تمل فلموں کے معروف اداکار سوریہ نے طلبہ کو سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے اہم مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مختصر ویڈیوز یا ریلز دیکھنے میں وقت گزارنے کے بجائے پوڈکاسٹ سننے کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق، سوشل میڈیا پر مسلسل ریلز دیکھنے سے طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہو سکتا ہے، جبکہ پوڈکاسٹ کے ذریعے انہیں نئی معلومات حاصل کرنے، مختلف موضوعات کو سمجھنے اور اپنی سوچ کو وسیع کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اداکار کا یہ بیان نوجوانوں میں ڈجیٹل عادات، مطالعے اور معلومات حاصل کرنے کے طریقوں پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:لندن: دھرو راٹھی کا ’ووٹ چوری‘ کے خلاف احتجاج، بندر کے کھلونے سے مودی پر طنز
سوریہ نے طلبہ کو توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ مختصر ویڈیوز دیکھنے کے دوران ممکن ہے کہ وہ کوئی خاص بات سیکھے بغیر کافی وقت گزار دیں۔ اس کے برعکس، پوڈکاسٹ میں کسی موضوع پر تفصیل سے گفتگو کی جاتی ہے، جس سے سننے والوں کو نئی باتیں جاننے اور مختلف نقطۂ نظر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ آج کے دور میں انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مختصر ویڈیوز نوجوانوں میں بے حد مقبول ہیں۔ چند سیکنڈ کی یہ ویڈیوز تفریح فراہم کرتی ہیں، لیکن مسلسل ایک کے بعد دوسری ویڈیو دیکھنے کی عادت طلبہ کے وقت اور توجہ کو متاثر کر سکتی ہے۔ سوریہ کا مشورہ اسی پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے کہ نوجوان اپنی ڈجیٹل سرگرمیوں میں ایسے مواد کو بھی شامل کریں جو ان کی معلومات اور صلاحیتوں میں اضافے کا ذریعہ بن سکے۔
پوڈکاسٹ میں تعلیم، سائنس، تاریخ، ادب، ٹیکنالوجی، کاروبار، کھیل اور شخصیت سازی سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو سننے کو ملتی ہے۔ طلبہ اپنی دلچسپی کے مطابق مواد کا انتخاب کرکے نہ صرف نئی معلومات حاصل کر سکتے ہیں بلکہ زبان، اظہارِ خیال اور تنقیدی سوچ کی صلاحیت بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔پوڈکاسٹ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انہیں سفر کے دوران، چہل قدمی کرتے ہوئے یا فارغ وقت میں سنا جا سکتا ہے۔ تاہم، ان سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ معتبر ذرائع کا انتخاب کریں، اہم نکات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور سنی ہوئی معلومات کی تصدیق بھی کریں۔
یہ بھی پڑھئے:’’دوران جدوجہد طبی شعبے کا تجربہ میرے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ‘‘
سوریہ تمل فلم انڈسٹری کے معروف اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی فلاح و بہبود کے کاموں کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ اگَرَم فاؤنڈیشن کے ذریعے ضرورت مند طلبہ کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ اس ادارے کا مقصد معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنے والے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنانے میں مدد دینا ہے۔سوریہ کی جانب سے طلبہ کو پوڈکاسٹ سننے کا مشورہ اس وسیع تر تصور سے جڑا ہوا ہے کہ نوجوانوں کو اپنے وقت کا بہتر استعمال کرنا چاہیے اور ایسی سرگرمیوں کو اہمیت دینی چاہیے جو ان کی شخصیت اور علم میں اضافہ کریں۔
مجموعی طور پر، سوریہ کا پیغام طلبہ کو سوشل میڈیا سے مکمل طور پر دور رہنے کے بجائے اس کے استعمال میں توازن پیدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ریلز تفریح کا ذریعہ ہو سکتی ہیں، لیکن معلوماتی پوڈکاسٹ، مطالعہ اور تعلیمی مواد نوجوانوں کے لیے سیکھنے کے اضافی مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کے مشورے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ طلبہ اپنے فارغ وقت کو ایسی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کریں جو ان کے علم، سوچ اور مستقبل کی تیاری میں مددگار ثابت ہوں۔