• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایمنسٹی کایوئیفا سے اسرائیل کو معطل کرنے کا مطالبہ

Updated: September 23, 2026, 7:06 PM IST | Paris

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منگل کے روز یوئیفا اورفیفا سے اسرائیل کی فٹ بال ایسوسی ایشن کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے وابستہ کلبوں کو اسرائیلی مقابلوں سے باہر نہ کرنے کے باعث اسرائیل کی نیشنز لیگ میں شرکت ’’ناقابلِ قبول‘‘ ہے۔

Boycott Israel.Photo:X
اسرائیل کا بائیکاٹ۔ تصویر:ایکس

انسانی حقوق کی تنظیم  ایمنسٹی انٹرنیشنل  نے منگل کے روز  یوئیفا اورفیفا سے اسرائیل کی فٹ بال ایسوسی ایشن کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے وابستہ کلبوں کو اسرائیلی مقابلوں سے باہر نہ کرنے کے باعث اسرائیل کی نیشنز لیگ میں شرکت ’’ناقابلِ قبول‘‘ ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے یورپ کے لیے علاقائی ڈائریکٹر  اسٹیو کاک برن  نے ایک بیان میں کہا، ’’یہ ناقابلِ قبول ہے کہ اسرائیل کی مردوں کی فٹ بال ٹیم اس موسم خزاں میں  یوئیفا نیشنز لیگ میں حصہ لے گی، حالانکہ اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ اسرائیل کی فٹ بال ایسوسی ایشن غیر قانونی بستیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔‘‘کاک برن نے کہا کہ  یوئیفا اور فیفا  کو اسرائیل فٹ بال ایسوسی ایشن (آئی ایف اے) کو معطل کر دینا چاہیے تھا  کیونکہ اس نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم بستیوں سے وابستہ کلبوں کو اسرائیلی فٹ بال مقابلوں سے خارج کرنے سے انکار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی لیگز میں بستیوں سے وابستہ کلبوں کی مسلسل شرکت  فیفا کے قوانین اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ یوئیفا اور فیفا کی جانب سے آئی ایف اے  کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت سے ’’اسرائیل کے غیر قانونی قبضے، بستیوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو برقرار رکھنے میں مدد ملنے کا خطرہ ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:کینسر کو شکست دینے والی وویک اوبرائے کی گود لی ہوئی بیٹی سہارا شاہ نے سائن کی پہلی فلم

اسرائیل کو  نیشنز لیگ کے لیگ بی، گروپ بی تھری  میں آسٹریا، ریپبلک آف آئرلینڈ اور کوسوو کے ساتھ رکھا گیا ہے۔یوئیفا کے مطابق لیگ مرحلے کاآغاز جمعرات سے ہوگا، جہاں  آسٹریا اپنے ہوم گراؤنڈ پر اسرائیل کی میزبانی کرے گا۔  اسرائیل ۲۷ ؍ستمبر اور ۴ ؍اکتوبر کو ریپبلک آف آئرلینڈ کے خلاف، جبکہ یکم اکتوبر اور ۱۴؍ نومبر کو کوسوو کے خلاف کھیلے گا۔ اس کے بعد اسرائیل ۱۷ ؍نومبر کو آسٹریا کی میزبانی کرے گا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ  آئرلینڈ میں اسرائیل کی نیشنز لیگ میں شرکت کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے ۔ وہاں فٹ بال ایسوسی ایشنز، کھلاڑیوں، کارکنوں، ٹریڈ یونینوں اور سیاست دانوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف پابندیوں، بائیکاٹ یا معطلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حقوق کی تنظیم کے مطابق  فٹ بال ایسوسی ایشن آف آئرلینڈ (ایف اے آئی) نے بھییوئیفا سے اسرائیل کی معطلی پر غور کرنے کی درخواست کی ہے۔
کاک برن نے کہا، ’’کھیل کو کبھی بھی ایسے ممالک کے لیے تعلقاتِ عامہ کے مظاہرے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جن پر مظالم کا ارتکاب کرنے کے الزامات ہوں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’جب اسرائیلی ٹیم یورپ کا سفر کر رہی ہے، فلسطینی خاندانوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے اور ان کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں، زیتون کے درخت اکھاڑے جا رہے ہیں اور آبادکاروں کی جانب سے، اسرائیلی فوج کی حمایت کے ساتھ، ان کی تاریخ اور شناخت کو مٹایا جا رہا ہے۔‘‘ کاک برن نے کہا، ’’خوبصورت کھیل لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ نسل پرستی پر مبنی نظام کو منظوری دینے کا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ہندوستانی مردوں کی بیڈمنٹن ٹیم سیمی فائنل میں چین سے ہاری، کانسہ کا تمغہ ملا

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ اس نے  اکتوبر ۲۰۲۵ ء میںفیفا اور یوئیفا  کو خط لکھ کر  مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل فٹ بال ایسوسی ایشن کو اس وقت تک معطل کیا جائے جب تک اسرائیلی بستیوں میں قائم کلبوں کو اسرائیلی فٹ بال مقابلوں سے خارج نہیں کیا جاتا۔ ایمنسٹی کے مطابق فیفا نے مارچ ۲۰۲۶ء میں اعلان کیا کہ وہ بستیوں سے وابستہ کلبوں کی شرکت کے معاملے پر اسرائیل فٹ بال ایسوسی ایشن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔  اس فیصلے کے بعد  فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن  نے اس معاملے کو  کھیلوں کی ثالثی کی عدالت (Court of Arbitration for Sport  CAS)  میں چیلنج کیا۔ یہ معاملہ کھیلوں کے میدان میں انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور سیاسی تنازعات کے باہمی تعلق کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے، جبکہ اسرائیل کی یوئیفا نیشنز لیگ میں شرکت پر مختلف حلقوں کی جانب سے اختلاف اور مطالبات کا سلسلہ جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK