• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آشا بھوسلے نے کئی لازوال گیت دیئے ہیں

Updated: September 08, 2026, 1:12 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

آشا بھوسلےنےمنفرد آواز اور ورسٹائل اندازسےموسیقی کی دنیا میں نمایاں مقام  حاصل کیا ۔آشا بھوسلے برصغیر کی مشہور و معروف پلے بیک سنگر ہیں جنہوں نے اپنی منفرد آواز اور ورسٹائل انداز سے موسیقی کی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔

Asha Bhosle, the queen of the spirited voice. Picture: INN
جوش بھری آواز کی ملکہ آشا بھوسلے۔ تصویر: آئی این این

آشا بھوسلےنےمنفرد آواز اور ورسٹائل اندازسےموسیقی کی دنیا میں نمایاں مقام  حاصل کیا ۔آشا بھوسلے برصغیر کی مشہور و معروف پلے بیک سنگر ہیں جنہوں نے اپنی منفرد آواز اور ورسٹائل انداز سے موسیقی کی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ آشا بھوسلے نے ہزاروں گانے مختلف زبانوں میں گائے۔انہوں نے رومانوی، کلاسیکی، قوالی، پاپ، اور کیبرے جیسے مختلف انداز میں گانے گا کر اپنی ہمہ جہت صلاحیت ثابت کی۔ ان کی جوڑی خاص طور پر موسیقار آر ڈی برمن کے ساتھ بہت کامیاب رہی، جن سے انہوں نے بعد میں شادی بھی کی۔گلوکارہ آشا بھوسلے اپنی پرکشش آواز کیلئے مشہورہیںاور وہ تقریباً ۶؍ دہائیوں سے فلم انڈسٹری کو ۱۲؍ ہزار سے زائد دلکش اور مدہوش کرنے والے نغمات دےچکی ہیں۔ہندی کے علاوہ انہوں نے مراٹھی، بنگالی، گجراتی، پنجابی، تمل، ملیالم اور انگریزی زبان میں بھی نغمہ سرائی کی ہے۔آشا بھوسلے کی پیدائش۸؍ستمبر ۱۹۳۳ءمہاراشٹر کے سانگلی میں ہوئی۔ 

ان کے والد پنڈت دینا ناتھ منگیشکر مراٹھی رنگ منچ سےجڑے ہوئےتھے۔ جب وہ محض ۹؍سال کی تھیںان کے والد کا انتقال ہوچکا تھا اور کنبہ کی معاشی ذمہ داری کو سنبھالنے کے لئے انہوں نے اپنی بڑی بہن لتا منگیشکر کے ساتھ فلموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ گانا بھی شروع کردیا تھا۔آشا بھوسلے نے اپنا پہلا نغمہ ۱۹۴۸ءمیں فلم چنریا میں گیت ’ساون آیا‘ گایا۔

یہ بھی پڑھئے:ایک گانے کے لیے آشا بھوسلے اور محمد رفیع پر ۵۰۰؍ روپے کی شرط لگائی گئی تھی

۱۹۵۷ءمیںپروڈیوسر ، ڈائریکٹربی آر چوپڑہ کی ہدایت کاری اور موسیقار او پی نیئر کی موسیقی میں بنی فلم’نيا دور‘ آشابھوسلے کے فلمی کریئر کے لئے اہم موڑ ثابت ہوئی۔ ۱۹۶۶ءمیں فلم ’تیسری منزل‘میں انہوں نےآر ڈی برمن کی موسیقی میں’آجا آجا میں ہوں پیار تیرا‘نغمہ گایاجس سے انہیں بہت شہرت ملی۔۶۰ء اور۷۰ءکی دہائی میں آشا بھوسلے کی آواز کو ہندی فلموں کی مشہور ڈانسر اداکارہ ہیلن کی آوازسمجھی جاتی تھی جن کے لئے انہوں نےاو حسینہ زلفوں والی( تیسری منزل)،پیاتو اب توآجا(کاررواں) ، آؤ ناگلے لگا لو نا(میرے جیون ساتھی) اور ’یہ مرا دل یار کا دیوانہ(ڈان)گائے ہیں۔کلاسیکل موسیقی سے لے کر مغربی دھنوں پر گلوکاری میںمہارت حاصل کرنے والی آشا بھوسلے ۱۹۸۱ءمیںآئی فلم امرا ؤ جان ادا سے اپنے گانے کے اسٹائل میں تبدیلی کرکے ایک کیبرے سنگر اور پاپ سنگر کی شبیہ سے باہر نکلیں اور لوگوں کو یہ احساس کرایا کہ وہ ہر طرح کے نغمے گانےکا ہنر رکھتی ہیں۔فلم امراؤ جان کیلئے’دل چیز کیا ہے اور ان آنکھوں کی مستی کے‘جیسی غزلیں گاکر انہیں خود بھی حیرانی ہوئی کہ وہ اس طرح کے نغمے بھی گا سکتی ہیں۔ اس فلم کے لئے انہیں اپنے کریئر کا پہلا نیشنل ایوارڈ بھی ملا۔

آشا بھوسلے نے ۱۹۹۵ءمیںاے آر رحمان کی فلم رنگیلاکے لئے’تنہا تنہا‘نغمہ گایا جو ان کے فلمی کرئیر کیلئےمیل کا پتھر ثابت ہوا ۔ انہیں بطور گلوکارہ۸؍ مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔۲۰۰۱ءمیں فلمی دنیا کےاعلی ترین اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس سے قبل انہیں فلم امرا ؤ جان اور اجازت میں ان گائے نغموں کے لیے نیشنل ایوارڈ بھی دیا گیا۔دلکش آواز کی ملکہ آشا بھوسلے کااسی سال یعنی ۱۲؍ اپریل ۲۰۲۶ءکو انتقال ہوچکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK