Updated: September 08, 2026, 8:00 PM IST
| Lucknow
سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں مسجد کی مسماری کے بعد مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کے الزام میں سابق صحافی و سماجی کارکن ہدیٰ زری والا کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ پولیس نے وکیل کی شکایت پر مقدمہ درج کرکے وائرل ویڈیو کی جانچ شروع کردی، جبکہ شہر میں امن و امان کے پیش نظر سوشل میڈیا پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔
ہدیٰ زری والا پولس کی گرفت میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ تصویر: ایکس
سہارنپور کے کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کی مسماری کے بعد اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ اور سہارنپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے خلاف مبینہ طور پر قابلِ اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں سابق صحافی اور سماجی کارکن ہدیٰ زری والا کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ صدر بازار پولیس نے وکیل دشینت سنگھ کی شکایت پر یہ معاملہ درج کیا اور بعد میں ہدیٰ زری والا کے خلاف امن و امان میں خلل ڈالنے سے متعلق دفعات کے تحت کارروائی کی۔ پولیس کے مطابق یہ مبینہ تبصرے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں سامنے آئے۔ مقامی رپورٹس کے مطابق، ہدیٰ زری والا پیر کے روز سہارنپور کے سرکٹ ہاؤس پہنچی تھیں، جہاں سماجوادی پارٹی کے وفد کے ساتھ اندر جانے کے معاملے پر ان کی پولیس اہلکاروں سے بحث ہو گئی۔ اس دوران خاتون پولیس اہلکاروں نے انہیں وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی، جس سے بات بڑھ گئی۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ کلکٹریٹ مسجد کی مسماری پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے بارے میں مبینہ طور پر نازیبا کلمات ادا کرتی دکھائی دیں۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی میں منی پور کے معروف گلوکار کا مبینہ ہجومی تشدد کے بعد انتقال، ۷؍ گرفتار
وکیل دشینت سنگھ نے پولیس میں درج کرائی شکایت میں الزام لگایا کہ ان کے تبصروں سے علاقے کا امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگڑ سکتی ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے پہلے ہدیٰ زری والا کو حراست میں لیا اور بعد میں باقاعدہ گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ سہارنپور کے ایس ایس پی ابھینندن سنگھ نے بتایا کہ وکیل دشینت سنگھ کی شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور وائرل ویڈیو و مبینہ تبصروں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں سامنے آنے والے ثبوتوں کی روشنی میں آگے کی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کلکٹریٹ احاطے میں مسجد کی مسماری کے بعد سہارنپور میں پولیس نے چوکسی بڑھا دی گئی ہے اور سوشل میڈیا پر سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایسے تمام پوسٹس، ویڈیوز اور میسیجز پر نظر رکھ رہی ہے جن سے افواہیں پھیلنے یا تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔ ایس پی سٹی ویوم بندل کے مطابق، پولیس کے ذریعے آن لائن سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ماحول خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے مسجد کی مسماری سے متعلق اشتعال انگیزسوشل میڈیا پوسٹس اور پوسٹرز کے معاملے میں بھی کچھ دیگر لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔