کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک بار محمد رفیع کا مقابلہ آشا بھوسلے سے ہوا تھا؟ دونوں پر۵۰۰۔۵۰۰؍روپے کی شرط لگائی گئی تھی، وہ بھی ایک ہی گانے کے لیے۔ اس گانے کو گاتے گاتے آشا بھوسلے کی سانس پھولنے لگی تھی۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 7:04 PM IST | Mumbai
کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک بار محمد رفیع کا مقابلہ آشا بھوسلے سے ہوا تھا؟ دونوں پر۵۰۰۔۵۰۰؍روپے کی شرط لگائی گئی تھی، وہ بھی ایک ہی گانے کے لیے۔ اس گانے کو گاتے گاتے آشا بھوسلے کی سانس پھولنے لگی تھی۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک بار محمد رفیع کا مقابلہ آشا بھوسلے سے ہوا تھا؟ دونوں پر۵۰۰۔۵۰۰؍روپے کی شرط لگائی گئی تھی، وہ بھی ایک ہی گانے کے لیے۔ اس گانے کو گاتے گاتے آشا بھوسلے کی سانس پھولنے لگی تھی۔ ڈرائیور کو لگنے لگا تھا کہ سروں کی ملکہ کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔
جی ہاں، یہ واقعہ ۶؍ دہائی پرانا ہے۔ آشا بھوسلے کو ایک گانے کی پیشکش ملی تھی۔ اس گانے کو گانے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، بس ایک لائن مشکل تھی۔ آر ڈی برمن (پنچم دا) اور ناصر حسین نے ۵۰۰۔۵۰۰؍ روپے کی شرط لگائی کہ آشا اور رفیع میں سے کون بہتر گائے گا۔
۶۰؍ سال پرانا سپرہٹ گانا
یہ قصہ ۱۹۶۶ء کی شمّی کپور کی فلم ’’تیسری منزل‘‘ سے جڑا ہے۔ اس فلم کے مشہور گانے ’’آجا آجا میں ہوں پیار تیرا‘‘ کو آشا بھوسلے اور محمد رفیع نے گایا تھا۔ اس گانے کے بول مجروح سلطانپوری کے تھے جبکہ موسیقی آر ڈی برمن کی تھی۔ یہ گانا سپرہٹ ہوا، لیکن اس کی ایک لائن نے آشا اور محمد رفیع کے درمیان مقابلہ پیدا کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے:طوفانِ الامین: نوجوان فٹبالر کے کمال نے بارسلونا کی پوزیشن ناقابلِ تسخیر بنا دی
گاتے گاتے آشا بھوسلے ہانپنے لگیں
انڈین آئیڈل کے ایک ایپی سوڈ میں آشا نے اس گانے سے متعلق یہ قصہ سنایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گانے کی سب سے مشکل لائن ’’او آ آجا، آہ آہ‘‘ تھی۔ آشا بھوسلے کے مطابق یہ گانا ان کے لیے بہت مشکل تھا۔ جب پنچم دا یہ گانا لے کر آئے تو انہوں نے چار پانچ دن کا وقت مانگا۔ اس دوران وہ مسلسل اس کی مشق کر رہی تھیں۔ ایک بار وہ گاڑی میں یہ گانا گا رہی تھیں تو ان کے ڈرائیور کو لگا کہ ان کی طبیعت خراب ہو گئی ہے اور اس نے پوچھا کہ کیا انہیں اسپتال لے جائے۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے:ڈیزل پر برآمدی ڈیوٹی بڑھ کر ۵ء۵۵؍ روپے فی لیٹر، اے ٹی ایف پر۴۲؍ روپے ہو گئی
رفیع اور آشا پر شرط
اس کے بعد آشا بھوسلے نے بتایا کہ اس گانے کے لیے محمد رفیع اور ان کے درمیان شرط لگائی گئی تھی۔ پنچم دا نے آشا پر اور ناصر نے محمد رفیع پر شرط لگائی تھی کہ کون بہتر گائے گا۔ جب ریکارڈنگ کا وقت آیا تو آشا کافی گھبرا گئی تھیں۔ اس وقت لتا منگیشکر نے انہیں حوصلہ دیا تھا۔آشا بھوسلے نے بتایا کہ ریکارڈنگ کے وقت وہ لائن محمد رفیع نے گلے سے گائی تھی جبکہ انہوں نے اسے پیٹ سے گایا تھا۔ سب کو آشا کا انداز زیادہ پسند آیا اور پنچم دا نے۵۰۰؍ روپے کی شرط جیت لی تھی۔