ایشیاکپ : ہندوستانی خواتین ٹیم اپنا فارم برقرار رکھنا چاہے گی

Updated: October 01, 2022, 1:17 PM IST | Agency | Sylhet (Bangladesh)

آج ہرمن پریت کی ٹیم کا سری لنکا سے مقابلہ۔ انگلینڈ کو یکروزہ سیریز میں کلین سویپ کرنے کے بعد ٹیم انڈیا کے حوصلہ بلند۔ ہرمن پریت اور اسمرتی زبردست فارم میں

Harmanpreet Singh  .Picture:INN
ہرمن پریت کور ۔ تصویر:آئی این این

 انگلینڈکو کلین سویپ کرنے سے پرجوش، ہندوستانی ٹیم خواتین کے ایشیا کپ ٹی ۲۰؍ کرکٹ ٹورنامنٹ میں اپنی رفتار برقرار رکھنے کیلئے رن آؤٹ کے تنازع کو پیچھے چھوڑنا چاہے گی ۔سنیچر کو  اس کا مقابلہ سری لنکا سے ہوگا۔ ہندوستانی خواتین کو ماضی قریب میںٹی ۲۰؍ فارمیٹ میں زیادہ کامیابی نہیں ملی ہے لیکن ہرمن پریت کور کی قیادت والی ٹیم اس براعظمی مقابلے میں خطاب کیلئے مضبوط دعویدارکی حیثیت سے  آغاز کرے گی۔ پچھلے ٹورنامنٹ کو چھوڑ کر ہندوستان نے ۲۰۰۴ء کے بعد سے ہر بار ایشیا کپ میں خطاب  جیتا ہے۔ انہوں نے ون ڈے فارمیٹ میں ۴؍ اور ٹی ۲۰؍ فارمیٹ میں ۲؍ خطاب جیتے ہیں۔ ایشیا کپ کو ۲۰۱۲ء میں ون ڈے سے ٹی ۲۰؍ فارمیٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔ ہندوستان نے اس کے بعد اسے ۲؍ بار جیتا ہے۔۲۰۱۸ء میں آخری ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیش سے ہار گئی تھی۔ ہندوستانی ٹیم کووڈ۱۹؍ کی وجہ سے ۴؍ سال بعد منعقد ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں اپنا دبدبہ برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔ پچھلا ٹورنامنٹ۲۰۲۰ء میں بنگلہ دیش میں کھیلا جانا تھا لیکنکووڈ۱۹؍ وبائی امراض کی وجہ سے ملتوی کردیا گیا تھا۔ ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کو برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تاریخی تمغہ جیتنے کے بعد اس ماہ کے شروع میں انگلینڈ کیخلاف ٹی ۲۰؍ انٹرنیشنل سیریز میں۱۔۲؍سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے باوجود ہرمن پریت کور کی قیادت والی ٹیم نے ون ڈے میں شاندار واپسی کی اور تجربہ کار تیز گیند باز جھولن گوسوامی کو الوداعیہ دینے کیلئے  صفر۔۳؍ سے کلین سویپ کیا  تاہم یہ سیریزآخر میں نان اسٹرائیک اینڈ پر رن ​​آؤٹ ہونے کی وجہ سے خبروں میں تھی۔ ہندوستانی آل راؤنڈر دپتی شرما نے انگلینڈ کے بلے باز چارلی ڈین کو گیند پھینکنے سے پہلے کریز سے باہر جانے کے بعد رن آؤٹ کر دیا تھا۔ اس انداز میں رن آؤٹ ہونا جائز سمجھا جاتا ہے لیکن کھیل کی روح میں نہیں۔ ہندوستانی ٹیم اس واقعہ کو پیچھے چھوڑ کر مثبت پہلوؤں کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرے گی۔ جہاں تک کھلاڑیوں کی کارکردگی کا تعلق ہے تو کپتان ہرمن پریت بہترین فارم میں ہیں جبکہ اسمرتی مندھانا بھی اچھی بلے بازی کر رہی ہیں لیکن شیفالی ورما، سبینینی میگھنا اور دیالن ہیملتا کو اچھی کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ ہاتھ کی انجری کے باعث انگلینڈ کے خلاف سیریز سے باہر ہونے والی جمائما روڈریگز کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔ رچا گھوش بھی اس اسکواڈ میں شامل ہیں جنہیں کامن ویلتھ گیمز کیلئے منتخب نہیں کیا گیا تھا۔ رینوکا سنگھ ہندوستانی تیز گیندبازی کی ذمہ داری سنبھالیں گی جبکہ اسپن کا شعبہ رادھا یادو، راجیشوری گائیکواڑ اور دپتی سنبھالیں گے۔ دوسری جانب سری لنکن ٹیم کپتان چماری اتاپٹوپر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ نوجوان وشمی گونارتنے کے زخمی ہونے کی وجہ سے چماری کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ سری لنکا کے مڈل آرڈر کی ذمہ داری ہسینی پریرا اور ہرشیتا سماراوکرما پر ہوگی جب کہ بولنگ اٹیک کی ذمہ داری زیادہ تر اسپنرس انوکا رنویر اور اوشادی رانا سنگھے پر ہوگی۔ ٹورنامنٹ میں کل ۷؍ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں ہندوستان، پاکستان، تھائی لینڈ، سری لنکا، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات اور میزبان بنگلہ دیش شامل ہیں۔ ہر ٹیم ایک دوسرے سے راؤنڈ رابن فارمیٹ میں کھیلے گی اور اس طرح ۶؍ میچ کھیلے گی۔ لیگ مرحلے میں ٹاپ ۴؍ ٹیمیں سیمی فائنل میں پہنچ جائیں گی۔ ہندوستان: ہرمن پریت کور (کپتان)، اسمرتی مندھانا، دپتی شرما، شیفالی ورما، جمائما روڈریگز، سبینینی میگھنا، رچا گھوش (وکٹ)، اسنیہ رانا، دیالن ہیملتا، میگھنا سنگھ، رینوکا ٹھاکر، پوجا وستراکر، راجیشوری گائیکواڑ، رانا کے پی نوگیرے۔سری لنکا: چماری اٹاپٹو (کپتان)، نیلاکشی ڈی سلوا، کاویشا دلہری، اچینی کلسوریا، سوگندھیکا کماری، ہرشیتا مادھوی، مدوشیکا میتھانند، ہسینی پریرا، اوشادی رانا سنگھے، انوکا رنویر، انوشکا سنجیونی (وکٹ)، کوشنا سلیوا، کوشنینا، نوشانی سیوندی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK