• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

اسپورٹس فار آل میں سوزان سلطان نے کراٹے میں نقرئی تمغہ جیتا

Updated: December 02, 2023, 10:19 AM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

کراٹے کے بوائز کے انڈر ۹؍ زمرے میں جوگیشوری کے سوزان سے پہلے انش کروپ رہے جنہیں گولڈ میڈل ملا ۔

Suzanne Sultan can be seen at number 2 position while Ansh Krupp is number one. Photo: INN
سوزان سلطان کو نمبر۲؍پوزیشن پر دیکھا جاسکتاہے جبکہ انش کروپ نمبروَن ہیں۔ تصویر : آئی این این

یہاں ہونے والے اسپورٹس فار آل مقابلوں کے کراٹے کے انڈر ۹؍ زمرے میں سوزان سلطان نے بہتر کارکردگی کامظاہرہ کرتے ہوئے نقرئی تمغہ اپنےنام کرلیا۔ یہ تمغہ جیتنے کے بعد بھی وہ خوش ہیں اور اس لڑکے نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ 
اولمپکس طرز پر اسپورٹس فارآل مقابلے شہر کے ۹؍ مقامات پر جاری ہیں ۔ ان مقامات پر الگ الگ مقابلے منعقد کئے جارہے ہیں جن میں سے کالینہ یونیورسٹی کے کیمپس کے میدان پر کراٹے اور دیگر مقابلوں کا انعقاد کیاگیا تھا۔ انڈر ۹؍ زمرے کے میچ میں سوزان سلطان انش کروپ سے پیچھے رہ گئے ہیں اور انہیں نقرئی تمغہ پر اکتفا کرنا پڑا۔ خیال رہے کہ تیسری پوزیشن پر نیو چھیڈا اور ادویت پانیکر رہے۔ 
سینٹ آگسٹین ہائی اسکول کے انش کروپ نے کراٹے کے زبردست جوہر دکھائے اور اپنے حریف کو چت کرتے ہوئے گولڈ میڈل پر قبضہ کرلیا۔ نقرئی تمغہ پر اکتفا کرنے والے سوزان سلطان کا تعلق جوگیشوری سے ہے اور وہ سٹی انٹرنیشنل اسکول کے طالب علم ہیں۔ 
 سوزان کے والد ٹیپو سلطان نے نمائندہ انقلاب کو بتایا کہ ’’سوزان کو بچپن ہی سے کراٹے کا شوق ہے اور ہم نے اس کی دلچسپی کے مطابق اسے نجی سطح پر کراٹے سکھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ گوریگاؤں کی ایک اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے کیلئے جاتاہے۔ انہو ں نے مزید کہاکہ سوزان نے ۴؍برس کی عمر سے ہی کراٹے کی تربیت شروع کردی تھی اور وہ اس کھیل میں ماہر ہوتا گیا۔ وہ گزشتہ ۵؍برس سے کراٹے کھیل رہاہے اور امیدہے کہ جلد ہی وہ بلیک بیلٹ بھی بن جائے گا۔
 ٹیپو سلطان نے مزید کہاکہ’’ وہ نقرئی تمغہ جیت کر بھی بہت خوش تھا اور اس نے کہاکہ میں اگلے مقابلوں میں بہترکھیلتے ہوئے اس تمغہ کا رنگ تبدیل کروں گا۔ سوزان نے کہاکہ میں اللہ کا شکر ادا کرتاہوں کہ اس نے مجھے سلور میڈلسٹ بنایا۔‘‘ ٹیپوسلطان نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کو کراٹے چمپئن بنانا چاہتے ہیں اور اس کیلئے وہ بھی محنت کرتے رہتے ہیں ۔ ان کے سپورٹ کی وجہ سے ہی ان کا بیٹا اس کھیل میں کامیابی حاصل کررہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK