ہندوستان کی ۱۱؍ سالہ ابھرتی ہوئی ریسنگ اسٹار عتیقہ میر نے ایک اور شاندار کارنامہ انجام دیتے ہوئے چیمپیئنز آف دی فیوچر اکیڈمی پروگرام راؤنڈ ۳؍ میں مرسڈیز ایف ون کے دو جونیئر ڈرائیورز کو شکست دے کر تاریخی پول پوزیشن اپنے نام کر لی۔
EPAPER
Updated: July 15, 2026, 4:02 PM IST | New Delhi
ہندوستان کی ۱۱؍ سالہ ابھرتی ہوئی ریسنگ اسٹار عتیقہ میر نے ایک اور شاندار کارنامہ انجام دیتے ہوئے چیمپیئنز آف دی فیوچر اکیڈمی پروگرام راؤنڈ ۳؍ میں مرسڈیز ایف ون کے دو جونیئر ڈرائیورز کو شکست دے کر تاریخی پول پوزیشن اپنے نام کر لی۔
ہندوستان کی ۱۱؍ سالہ ابھرتی ہوئی ریسنگ اسٹار عتیقہ میر نے ایک اور شاندار کارنامہ انجام دیتے ہوئے چیمپیئنز آف دی فیوچر اکیڈمی پروگرام(سی او ٹی ایف اے ) (COTFA) راؤنڈ ۳؍ میں مرسڈیز ایف ون کے دو جونیئر ڈرائیورز کو شکست دے کر تاریخی پول پوزیشن اپنے نام کر لی۔ عتیقہ میر نے کوالیفائنگ سیشن میں اٹلی کے نکولو پیریکو اور جرمنی کے ڈیوِن ٹِٹز ، جو دونوں مرسڈیز ایف ون جونیئر پروگرام کا حصہ ہیں، کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نہ صرف پول پوزیشن حاصل کی بلکہ ایونٹ کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔
یہ شاندار کامیابی گزشتہ ماہ یونان میں منعقدہ چیمپئن آف دی فیوچر اکیڈمی کے دوسرے مرحلے میں ان کی مکمل برتری کے بعد سامنے آئی، جہاں انہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ پول پوزیشن حاصل کرنے کے بعد عتیقہ نے ہیٹ ریسز میں بھی عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے ایک ریس میں دوسری اور دوسری میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ تاہم فائنل ریس کے دوران ان کی گاڑی کے انجن میں خرابی پیدا ہو گئی، جس کے باعث وہ برتری برقرار نہ رکھ سکیں۔ کئی پوزیشنیں کھونے کے باوجود انہوں نے واپسی کرتے ہوئے چھٹی پوزیشن (پی ۶) پر ریس مکمل کی۔
دوسرے روز میکانیکل مسائل نے مشکلات بڑھا دیں
ریسنگ کے دوسرے دن عتیقہ کو میکانیکل خرابیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث وہ کوالیفائنگ میں ۲۷؍ویں نمبر پر چلی گئیں۔ اگرچہ منتظمین نے فوری طور پر خراب پاور یونٹ تبدیل کر دیا، لیکن ابتدائی گرڈ پوزیشن برقرار رہی، جس کے نتیجے میں انہیں فائنل ریس کا آغاز۱۸؍ویں پوزیشن سے کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے:ارشد وارثی ۱۷؍ سال کی عمر میں گلی گلی جاکر کاسمیٹکس کا سامان فروخت کرتے تھے
عتیقہ میر کا ردِعمل
اتار چڑھاؤ سے بھرپور ویک اینڈ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے عتیقہ میر نے کہا’’یہ میرے لیے خوشی اور مایوسی دونوں کا امتزاج تھا، لیکن مجھے خوشی ہے کہ میں نے دنیا کے بہترین ڈرائیورز کے مقابلے میں اپنی رفتار ثابت کی اور انہیں شکست دی۔ جب بھی میں ٹریک پر ہوتی ہوں، مجھے اپنی کارٹنگ پر مکمل اعتماد ہوتا ہے، لیکن اس ویک اینڈ انجن اور دیگر آلات نے میرا ساتھ نہیں دیا۔انہوں نے مزید کہا’’اگر یہ مسائل پیش نہ آتے تو میں آسانی سے مزید دو پوڈیم فِنش حاصل کر سکتی تھی، لیکن موٹراسپورٹ بعض اوقات بہت بے رحم ثابت ہوتی ہے۔ پھر بھی میں اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں کیونکہ میں نے اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں چھوڑی۔
والد کا اظہارِ فخر
عتیقہ کے والد آصف میر ، جو ہندوستان کے پہلے قومی کارٹنگ چیمپئن رہ چکے ہیں، نے کہا’’ عتیقہ نے ویٹیربو میں شاندار ویک اینڈ گزارا اور ایونٹ کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔ نتائج ان کی حقیقی کارکردگی کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔ فائنل میں انجن کی خرابی انتہائی افسوسناک تھی، لیکن وہ ایک مضبوط لڑکی ہے اور جلد ہی مزید مضبوط انداز میں واپس آئے گی۔
یہ بھی پڑھئے:شیخ حسینہ کو واپس آ کر مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے: وزیر اعظم کے مشیر
اگلا مقابلہ سویڈن میں
عتیقہ میر اب اس ماہ کے آخر میں سویڈن میں ہونے والے چیمپئن آف دی فیوچر اکیڈمی کے اگلے مرحلے میں ایک بار پھر ٹریک پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گی، جہاں ان سے ایک اور شاندار کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے۔