Updated: July 15, 2026, 3:10 PM IST
| Washington
امریکی ریاست یوٹاہ میں ایک مسلمان شخص پر چاقو سے حملے کے الزام میں ۴۸؍ سالہ پیٹر مائیکل لارسن کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے متاثرہ شخص کو اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا اور مزید مسلمانوں کو قتل کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ زخمی شخص کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ امریکی مسلم تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلاموفوبیا کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
امریکی ریاست یوٹاہ میں ایک مسلمان شخص پر مبینہ طور پر مذہبی نفرت کی بنیاد پر چاقو سے حملہ کیے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ۴۸؍ سالہ پیٹر مائیکل لارسن کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ویسٹ ویلی سٹی میں واقع ویلی فیئر مال کے اندر پیش آیا، جہاں ایک مسلمان کیوسک ملازم پر متعدد بار چاقو سے وار کیے گئے۔ پولیس کے حلف نامے کے مطابق جب اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو متاثرہ شخص کے جسم پر کئی گہرے زخم تھے اور وہ شدید خون بہنے کے باعث تشویشناک حالت میں تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کے پہنچنے سے پہلے وہاں موجود راہگیروں نے حملہ آور کو قابو کر کے زمین پر دبا لیا، جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے متاثرہ شخص کو اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا تھا۔
عدالتی دستاویزات میں پولیس نے کہا کہ ملزم نے انہیں بتایا، ’’میں مسلمانوں کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘‘ پولیس نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ملزم عوام کے لیے سنگین خطرہ ہے کیونکہ اس کے خیالات اور مبینہ منصوبہ بندی مستقبل میں مزید پرتشدد حملوں کا باعث بن سکتی ہے۔ ملزم پیٹر مائیکل لارسن کے خلاف قتل کی کوشش اور خطرناک ہتھیار کے استعمال سمیت متعدد الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ اسے سالٹ لیک کاؤنٹی جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ مقامی اخبار سالٹ لیک ٹریبون کے مطابق یوٹاہ اسلامک سینٹر کے امام شعیب دین نے بتایا کہ حملہ آور پہلے متاثرہ شخص کے پاس آیا، اس کا نام پوچھا، پھر اس کے مذہب کے بارے میں سوال کیا اور پانی کی بوتل مانگی۔
امام شعیب دین کے مطابق جیسے ہی متاثرہ شخص پانی لینے کے لیے مڑا، حملہ آور نے اچانک اس پر چاقو سے پے در پے حملے شروع کر دیے۔ زخمی شخص کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ متاثرہ کے ایک دوست نے مالی امداد کے لیے قائم کیے گئے GoFundMe صفحے پر دعویٰ کیا کہ انہیں ۱۵؍ مرتبہ چاقو مارا گیا اور ان کی جان بچانے کے لیے ہنگامی سرجری کرنا پڑی۔ ادھر حملہ آور بھی راہگیروں کی جانب سے قابو کیے جانے کے دوران زخمی ہوا، جس کے بعد اسے طبی امداد فراہم کرنے کے بعد جیل منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: دہلوی گروپ اور کیرالا یونانی میڈیکل اسوسی ایشن کا کالی کٹ میں سی ایم ای پروگرام
امریکی مسلم تنظیموں، جن میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) بھی شامل ہے، نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی نفرت پر مبنی تشدد قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد امریکہ میں اسلاموفوبیا میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں امیگریشن سے متعلق سخت پالیسیوں، سفید فام بالادستی کے نظریات اور غزہ کی جنگ کے تناظر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں حالیہ برسوں کے چند بڑے واقعات کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں ۲۰۲۳ء میں امریکی ریاست الینوائے میں ایک ۶؍ سالہ مسلمان بچے کا چاقو کے وار سے قتل شامل ہے، جبکہ ۲۰۲۶ء میں سان ڈیاگو کی ایک مسجد پر ہونے والی فائرنگ میں پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں اور امکان ظاہر کیا ہے کہ مقدمے میں نفرت انگیز جرم (Hate Crime) سے متعلق اضافی الزامات بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔