Updated: March 03, 2026, 10:04 PM IST
| Srinagar
سری نگر پولیس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت سے متعلق کشمیر میں مبینہ مظاہروں کے بارے میں گمراہ کن اور من گھڑت اطلاعات پھیلانے پر بعض میڈیا اداروں اور افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ مواد امن عامہ کو متاثر کرنے اور بدامنی کو ہوا دینے کی کوشش کا حصہ تھا۔
سری نگر پولیس نے منگل کو اعلان کیا کہ اس نے ایسے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے جو سوشل میڈیا اور الیکٹرانک پلیٹ فارمز پر مبینہ طور پر جھوٹی اور اشتعال انگیز معلومات پھیلا رہے تھے۔ پولیس ترجمان کے مطابق ’’محکمہ نے جھوٹے، من گھڑت اور گمراہ کن مواد کی جان بوجھ کر گردش کرنے کا سنجیدہ ادراک لیا ہے۔ یہ عناصر منظم طریقے سے بدامنی پھیلانے اور امن عامہ کو بگاڑنے کے واضح ارادے سے مسخ شدہ بیانیہ اور غیر تصدیق شدہ مواد پھیلا رہے ہیں۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسی بدنیتی پر مبنی مہمات امن، سلامتی اور ملک کی سالمیت کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: علی خامنہ ای کی شہادت پر دہلی، لکھنؤ، جموں کشمیراور حیدرآباد میں شدید احتجاج
پولیس کے مطابق ایف آئی آر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ متعدد سوشل میڈیا پروفائلز کی نشاندہی کی گئی ہے اور متعلقہ افراد کو سائبر سیل میں طلب کیا گیا ہے۔ تفتیش جاری ہے اور ڈجیٹل شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ’’جو بھی ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘
افواہوں کا پس منظر
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر یہ دعوے گردش کر رہے تھے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد کشمیر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان اطلاعات کی نہ تو سرکاری تصدیق تھی اور نہ ہی زمینی حقائق اس کی تائید کرتے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ ویڈیوز اور پرانی تصاویر کو موجودہ حالات سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا تھا، جس سے عوام میں اشتعال پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
یہ بھی پرھئے: مودی سرکار کی خارجہ پالیسی پر کانگریس کا شدید حملہ
شہریوں اور میڈیا کیلئے ہدایت
پولیس نے شہریوں اور میڈیا اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی یا امن عامہ کو متاثر کرنے والے کسی بھی مواد کو شیئر کرنے سے قبل سرکاری اور معتبر ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔ بیان میں کہا گیا:’’جعلی خبریں، اشتعال انگیز مواد یا غیر تصدیق شدہ معلومات پھیلانا سخت قانونی نتائج کو دعوت دے گا۔‘‘ پولیس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی اور کسی بھی قسم کی غلط معلومات کی مہم کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ڈجیٹل نگرانی میں اضافہ
ذرائع کے مطابق، حالیہ پیش رفت کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ سائبر ماہرین آن لائن مواد کا تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ اشتعال انگیزی یا فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے والے عناصر کی فوری نشاندہی کی جا سکے۔