Updated: July 08, 2026, 10:10 AM IST
|
Hamidullah Siddiqui
| Lucknow
اُترپردیش حکومت سے جواب طلب، پرنسپل سکریٹری کوعدالت میں پیش ہونے کا حکم،دو دن کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت، ۱۰؍جولائی کوآئندہ سماعت ۔
الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ- تصویر:آئی این این
اتر پردیش میں گرام پردھانوں کی جگہ ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے سے متعلق ریاستی حکومت کی کوششوں کو ایک بڑا جھٹکا لگتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ اس تعلق سے ۲۶؍ مئی ۲۰۲۶ء کے حکم کو چیلنج کرنے والی مفادِ عامہ کی عرضی پر پیر کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں سماعت ہوئی۔یہ مفادِ عامہ کی عرضی ایڈوکیٹ سنجے کمار شرما نے بذاتِ خود (ان پرسن) دائر کی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ منتخب گرام پردھانوں کی جگہ ایڈمنسٹریٹر کی تقرری آئین ہند کی ۷۳؍ویں آئینی ترمیم، پنچایتی راج نظام اور متعلقہ قانونی دفعات کے منافی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے مقامی خود حکمرانی اور جمہوری اداروں کی خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ریاستی حکومت کے جاری کردہ حکم کو کالعدم قرار دیا جائے اور گرام پنچایتوں کے انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں تاکہ منتخب نمائندوں کے ذریعے دیہی خود حکمرانی کا نظام بحال ہو سکے۔ درخواست گزار کے مطابق، سماعت کے بعد جسٹس راجن رائے اور جسٹس منجیو شکلا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ریاستی حکومت سے اس معاملے پر جواب طلب کرتے ہوئے دو دن کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ درخواست گزار کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ عدالت نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر پنچایتی راج محکمہ کے سربراہ( ایڈیشنل چیف سیکریٹری/ پرنسپل سکریٹری) کو بھی عدالت کے سامنے حاضر ہونے یا ضروری ہدایات پر عمل درآمد کیلئے طلب کیا ہے۔ ایڈوکیٹ سنجے کمار شرما کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ صرف گرام پردھانوں کے اختیارات تک محدود نہیں بلکہ اتر پردیش میں پنچایتی راج اداروں کی آئینی خودمختاری، جمہوری اقدار اور دیہی خود حکمرانی کے تحفظ سے بھی متعلق ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اگر منتخب اداروں کی جگہ انتظامی افسران کو تعینات کیا جاتا ہے تو اس سے آئین کے تحت قائم مقامی جمہوری نظام کی روح متاثر ہوگی۔اس معاملے کی آئندہ سماعت ۱۰؍ جولائی کو جسٹس راجن رائے اور جسٹس منجیو شکلا کی بنچ کے سامنے مقررکی گئی ہے۔ عدالت کی جانب سے اختیار کئے گئے رویے کو یوگی حکومت کیلئے ایک بڑے جھٹکے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ اسی موضوع پر ایک الگ عرضی پہلے بھی دائر کی جا چکی ہے، جس میں اروند راٹھور درخواست گزار ہیں۔ اس مقدمے کی سماعت جون ۲۰۲۶ء میں الہ آباد ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے کی تھی۔ اس سماعت کے دوران عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ گرام پردھانوں کو مستقل طور پر ایڈمنسٹریٹر کے طور پر برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو یہ بھی ہدایت دی تھی کہ اگر او بی سی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے تو اس کی مکمل تفصیلات، رپورٹ اور پنچایت انتخابات کے مجوزہ شیڈول سے متعلق حلف نامہ عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت ۱۳؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو مقررکی جا چکی ہے۔
اس کے علاوہ اس معاملے پر مفادِ عامہ کی ایک اور عرضی الہ آباد ہائی کورٹ میں ایل ایل بی تیسرے سال کے طلبہ آیوش پانڈے اور یودھشٹر ورما نے دائر کی تھی جس پر جسٹس اجیت کمار اور جسٹس ونئے کمار دویدی پر مشتمل ڈویژن بنچ نےسماعت کرتے ہوئےحکومت سے جواب طلب کیا تھا اور کیس کی اگلی سماعت ۳؍ اگست ۲۰۲۶ءکو مقرر کی ہے۔