Updated: March 31, 2026, 11:39 AM IST
|
Saadat Khan
| Mumbai
دھولیہ میں یہ کارنامہ مقامی تاجر عبدالعزیزانصاری کاہے،جو ذوق مطالعہ رکھنےوالوں کو اپنی کتابیں مفت فراہم کرتے ہیں۔ علمی، ادبی وتاریخی کتابوں کے اس ذخیرے سے بالخصو ص پی ایچ ڈی اسکالرس استفادہ کرتےہیں۔
عبدالعز یز انصاری اپنی دکان کی لائبریری میں۔ (تصویر:آئی این این
دھولیہ کے ۷۰؍ سالہ عبدالعز یز انصاری اُردو زبان و ادب کے شیدائی ہیں ۔ انہوں نے چالیس گائوں روڈ پر اپنی یونیٹی آٹو اسپیئر پارٹس کی دکان پر ایک لائبریری قائم کی ہے ،جہاں مختلف موضوعات پر مبنی تقریباً ڈیڑھ ہزار کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے ،جس میں ۵۰؍ فیصد سے زیادہ کتابیں دھولیہ اور خاندیش کی تہذیب اور ثقافت پر مبنی ہیں۔ان کتابوںسے خاص طورپر پی ایچ ڈی اسکالر مفت استفادہ کرتے ہیں ۔ اس لائبریری کیلئے مزید کتابوں کی خریداری کیلئے عبدالعزیز انصاری گزشتہ دنوں ممبئی تشریف لائے تھے۔ اس دوران ان سے ہونے والی گفتگو کاخلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے :

دھولیہ کے ادبی و علمی خانوادہ سے تعلق ہونے کی بنا پرعبدالعزیزانصاری کا بچپن سے اُردو زبان سے گہرا تعلق رہا ۔ اسی بنا پر ۱۹۸۰ء میں اپنے چند ہم خیا ل رفقاء کی ایماء پر ’بزمِ اقبال‘ کی بنیاد رکھی ، جس کے تحت متعدد ادبی اور شعری نشستوںاور مشاعروں کا انعقاد کیا، بعدازیں ۱۹۹۲ء میں مقامی محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران اور ذمہ داران کی اجازت سے یہاں کے ضلع پریشد اسکول کے احاطہ میں ایک وسیع کمرہ تعمیر کر کے ، مہاراشٹر اُردو ساروجنک لائبریری قائم کی ، جو کامیابی سے جاری رہی ۔ ۱۲۔۱۰؍ برسوں بعد عہدیداران میں اختلاف ہونے کی وجہ سے، لائبریری کوانہوںنےاپنی دکان پر منتقل کیا ، جو گزشتہ ۲۲۔۲۰؍ برسوں سے پابندی سے جاری ہے ۔ یہاں دھولیہ اور خاندیش کی تاریخی کتابوں کے علاوہ شعرو ادب، جاسوسی ، تنقیدی اور عام موضوعات پر بھی کتابیں موجود ہیں ۔ یہ کتابیں دہلی، اندور، ممبئی، اورنگ آباد، ناگپور، ناسک، مالیگائوں، جلگائوں، بھساول اور پونے وغیرہ سے خرید کر اکٹھا کی گئی ہیں۔
عبدالعزیز انصاری کے بقول ’’دھولیہ کے معروف شاعر نورانی نور اور رزاق انور کاتعلق ہمارے خانوادے سے ہے ۔ میرے والدکے علاوہ بڑے ابا اور چچا کو اُردو کتابوں کے مطالعہ کا بڑا شوق تھا ۔ ان ہی حضرات سے میرا ذوق بیدار ہوا، لہٰذا میں نے پہلے بزم ِاقبال اور پھر لائبریری کی بنیاد ڈالی ۔ دھولیہ کاہونےکےناطے مجھے یہاں کی علمی ، سماجی ، سیاسی ، اقتصادی، تعلیمی، ادبی اور ثقافتی ،تہذیب سے بہت محبت ہے ۔ یہاں کے ۱۰۰؍ شعرا کرام کے تعارف پر مبنی ’سوزدل ‘نامی کتاب بھی میںنےمرتب کی ہے ۔ دھولیہ کے تاریخی اثاثے کابڑا ذخیرہ موجود ہونے سے ، جو اُمیدوار دھولیہ پر پی ایچ ڈی وغیرہ کرنا چاہتے ہیں، وہ ہماری لائبریری سے استفادہ کرتے ہیں ۔اُنہیں ساری کتابیں مفت فراہم کی جاتی ہیں ۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’’پیرانہ سالی میں بھی کتابوں کی تلاش میں ،اکثر بیرونی شہروں کا دورہ کرتا ہوں ۔ اس ضمن میں ایک مرتبہ پھر چرنی روڈ پر واقع ’’ ہندوستانی پرچار سبھا‘‘ کا دورہ کیاتاکہ اہم کتابوں کے بارےمیں جانوں اور انہیں کسی طباعتی اداروں سےحاصل کروں۔ ہندوستانی پرچار سبھا میں نایاب کتابوں کا بہترین ذخیرہ ہے ، جس سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔‘‘