بنگلہ دیش نے چٹوگرام میں نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ون ڈے میچ کے لیے تنظیم حسن ثاقب کو اپنے اسکواڈ میں شامل کر کے فاسٹ بولنگ کے شعبے کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 21, 2026, 7:04 PM IST | Dhaka
بنگلہ دیش نے چٹوگرام میں نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ون ڈے میچ کے لیے تنظیم حسن ثاقب کو اپنے اسکواڈ میں شامل کر کے فاسٹ بولنگ کے شعبے کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔
تنظیم کمر کی تکلیف کی وجہ سے گزشتہ ماہ پاکستان کے خلاف سیریز میں شرکت نہیں کر سکے تھے اور بلیک کیپس (نیوزی لینڈ) کے خلاف موجودہ سیریز کے ابتدائی دو میچوں کے لیے بھی وہ ٹیم کا حصہ نہیں تھے، جہاں اب تک دونوں ٹیمیں ایک ایک میچ جیت کر برابر ہیں۔
آئی سی سی کے مطابق، اس سیریز میں تیز گیند بازوں کے اب تک کے اثر کو دیکھتے ہوئے بنگلہ دیش نے جمعرات کو ہونے والے فیصلہ کن مقابلے کے لیے تنظیم حسن کو ۱۶؍ رکنی ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیم ۲۰۲۴ء کے آئی سی سی مینز ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے سب سے کامیاب فاسٹ بولر تھے، جہاں انہوں نے ۱۱؍ وکٹ حاصل کی تھیں۔ ۲۳؍ سالہ دائیں ہاتھ کا یہ گیند باز ۲۰۲۳ء کے آخر میں ہندوستان کے خلاف اپنے بین الاقوامی ڈیبیو کے بعد سے ٹیم کے وائٹ بال سیٹ اپ کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔
تنظیم کی شمولیت سے بنگلہ دیش کو نیوزی لینڈ کے خلاف فائنل میچ کے لیے ایک اور تیز رفتار آپشن میسر آ گیا ہے، خاص طور پر ساتھی فاسٹ بولر ناہید رانا کی پیر کو دوسرے میچ میں شاندار کارکردگی کے بعد، جہاں انہوں نے پانچ وکٹیں لے کر پلیئر آف دی میچ کا اعزاز جیتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ اپنے تصورات میں مذاکرات کی ٹیبل کو سرنڈر ٹیبل بنا رہے ہیں: باقر قالیباف
ناہید رانا کی شاندار گیندبازی کے سامنے صرف نک کیلی (۸۳؍رن) ہی مزاحمت کر سکے اور نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم ڈھاکہ میں صرف ۱۹۸؍ رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ میزبان ٹیم نے تنزید حسن (۷۶؍رن) اور نجم الحسین شانتو (۵۰؍رن) کی نصف سنچریوں کی بدولت یہ ہدف آسانی سے حاصل کر لیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:ڈیوڈ دھون نے ’’ہے جوانی تو عشق ہوناہے ‘‘ کے تعلق سے وضاحت پیش کی
میچ کے بعد نیوزی لینڈ کے اوپنر نک کیلی نے ناہید رانا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک باصلاحیت نوجوان بولر ہیں، جو تیز رفتار اور سوئنگ کے ساتھ مؤثر گیندبازی کرتے ہیں۔۔ وہ اچھی رفتار کے ساتھ گیند بازی کرتے ہیں اور وکٹ بھی ان کے لیے سازگار تھی۔ انہوں نے ۱۴۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار کے ساتھ گیند کو سوئنگ کیا، اسٹمپ کو نشانہ بنایا اور اضافی اچھال کا بہترین استعمال کیا۔ اتنی گرمی میں ۱۴۵؍ پلس کی رفتار برقرار رکھنا بہت متاثر کن تھا۔‘‘