بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دہائی بعد براہ راست پروازیں بحال، یہ ۲۰۱۲ء کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے لیے اس کی پہلی پرواز ہوگی، سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
EPAPER
Updated: January 04, 2026, 6:02 PM IST | Dhaka
بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دہائی بعد براہ راست پروازیں بحال، یہ ۲۰۱۲ء کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے لیے اس کی پہلی پرواز ہوگی، سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
بنگلہ دیشی ایئرلائن ’’بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز‘‘ جنوری کے آخر میں ڈھاکہ سے کراچی کے لیے باقاعدہ پروازیں شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ۲۰۱۲ء کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے لیے اس کی پہلی پرواز ہوگی۔واضح رہے کہ طالب علموں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے۲۰۲۴ء میں اقتدار سےبے دخلی کے بعد سے بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات مسلسل بہتر ہورہےہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ وینزویلا تنازع: چین کا امریکہ سے صدر مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ
دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں بحال کرنے کے منصوبوں کا اعلان سب سے پہلے اگست میں کیا گیا تھا، جب پاکستانی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ڈھاکہ کا دورہ کیا تھا، جو گزشتہ دہائی میں اس طرح کے منصب پر فائز وزیرکا پہلا دورہ تھا۔بیمان ترجمان بشرلاسلام نے العربیہ نیوز کو بتایا، ’’ہم گزشتہکئی مہینوں سے ڈھاکہ سے کراچی براہ راست پروازیں شروع کرنے کے لیے پاکستانی حکام سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اب ہمیں اجازت مل گئی ہے۔‘‘بعد ازاں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی بیمان کو ڈھاکہ اور کراچی کے درمیان پروازیں چلانے کی اجازت دی ہے، جس میں ابتدائی طور پر تین ماہ کی اجازت جو ۲۶؍ مارچ تک جاری ر ہے گی۔ اسحاق ڈار کے گزشتہ سال دورے کے بعد تجارت اور سفارت کاری کے معاہدوں پر دستخط ہونے کے بعد، براہ راست پروازیں بنگلہ دیش-پاکستان تعلقات میں تازہ ترین پیشرفت ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا کے مختلف ممالک نے وینزویلا پر حملے کی مذمت کی
یاد رہے کہ ۱۹۷۱ءکی جنگ کے بعد سے جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش مشرقی پاکستان سے آزاد ہوا تھا اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان کوئی ٹھوس رابطہ نہیں رہا تھا۔ شیخ حسینہ ہندوستان کے قریب تھیں، جہاں وہ فی الحال جلاوطنی میں زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات میں سرد مہری آئی، جبکہ اسلام آباد کے ساتھ تعلقات بڑھنے لگے۔نومبر ۲۰۲۴ءمیں، پاکستانی کارگو جہاز۱۹۷۱ء کے بعد پہلی بار بنگلہ دیش کی مرکزی بندرگاہ چٹاگانگ پہنچنے لگے۔تاہم ڈھاکہ-کراچی پروازوں کی تیاریاں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کے درمیان ہو رہی ہیں، اسلام آباد نے جنوری کے آخر تک ہندوستان میں رجسٹرڈ طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہے۔ڈھاکہ اور کراچی کے درمیان مختصر ترین راستہ ہندوستانی فضائی حدود سے گزرتا ہے، ایک بیمان اہلکار کے مطابق، بیمان نے ہندوستانی حکام سے اس سلسلے میں ضروری اجازت حاصل کر لی ہے۔انہوں نے العربیہ نیوز کو بتایا، ’’فی الحال، ہمارا منصوبہ۲۹؍ جنوری سے ڈھاکہ-کراچی براہ راست پرواز شروع کرنے کا ہے۔ ہم اس پرواز کے لیے ہندوستانی فضائی حدود استعمال کریں گے۔ پرواز شیڈول کی تفصیلات طے شدہ ہیں۔‘‘
بنگلہ دیش سول ایوی ایشن کی طرف سے ایئر ٹریفک سروسز اور ایروڈرومز کے سابق ڈائریکٹر، اعزاز ظہیرالاسلام نے کہا، ’’بین الاقوامی سویل ایوی ایشن آرگنائزیشن کے قواعد کے مطابق، بنگلہ دیشی طیارے کسی بھی تیسرے ملک کے سفر کے لیے ہندوستانی فضائی حدود کا استعمال کرسکتے ہیں۔نئے پرواز کے راستے سے بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان عوامی رابطے اور تجارتی تعلقات میں بہتری کی توقع ہے۔چونکہ اس سے رابطے کے لحاظ سے دونوں قومیں قریب آئیں گی، تو یہ یقیناً سیاسی طور پر اہمیت کی حامل ہوگی۔‘‘