Inquilab Logo Happiest Places to Work

’شعلے‘ سے قبل امجد خان نے ڈاکوئوں پر لکھی کتاب ’ابھی شپت چنبل‘ کا مطالعہ کیا تھا

Updated: April 19, 2026, 1:32 PM IST | Anees Amrohi | Mumbai

فلم میں گبرسنگھ کے ادا کئے ہوئے مکالمے اتنے اثرانگیز اور متاثرکن تھے کہ اُن کے’لانگ پلے ریکارڈ‘اور’آڈیو کیسٹ‘ مشہورفلمی گیتوں سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں فروخت ہوئے،مکالموں کے ریکارڈ اور کیسٹ فلمی تاریخ میں بالکل پہلی اور انوکھی مثال ثابت ہوئے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

امجد خان کے والد پانچویں اور چھٹی دہائی کے مشہور فلمی ویلن اور کریکٹر آرٹسٹ جینت کے چھوٹے بیٹے تھے۔ اداکار جینت کا اصلی نام زکریا خان تھا اور یہ خاندان افغانستان سے ہجرت کرکے کسی زمانے میں لاہور میں آباد ہو گیا تھا۔ وہیں ۲۱؍اکتوبر۱۹۴۳ء کو امجد خان کی پیدائش ہوئی۔ اُس وقت اُن کا نام امجد جاوید زکریا خان رکھا گیا۔ پیدائش کے وقت امجد خان بہت کمزور تھے۔ اُن کی والدہ کی خواہش تھی کہ اس بار اُن کے یہاں لڑکی کی پیدائش ہو، اسلئے انہوں نے لڑکی کا نام منجو بھی پہلے ہی سے سوچ رکھا تھا، مگر جب لڑکی کے بجائے لڑکا پیدا ہوا تو خاندان میں اُسے ہی پیار سے منجو کہنا شروع کر دیا۔ امجد بچپن ہی میں اپنے والدکے ہمراہ بمبئی آگئے۔ ہوش سنبھالتے ہی انہوں نے اپنے چاروں طرف فلمی ماحول دیکھا تھا، لہٰذا بچپن ہی سے اُن کا رجحان اداکاری کی طرف مائل ہو گیا، اور وہ اسکول کے ڈراموں میں حصہ لینے لگے۔

امجد خان کی پڑھائی لکھائی میں توجہ کم ہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ساتویں کلاس میں تین بار فیل ہوئے مگر بعد میں انہوں نے محنت کی اور بمبئی یونیورسٹی سے فلسفہ جیسے مضمون کے ساتھ فرسٹ کلاس میں ایم اے مکمل کیا۔ تعلیم کے ساتھ ہی وہ اسٹیج اداکاری سے بھی وابستہ ہوگئے تھے۔ امجد خان کو کالج کے زمانے میں ہی مشہورشاعر اخترالایمان کی دختر شہلا جو اَن کی ہم جماعت تھی، سے عشق ہو گیا، جس کے چرچے فلمی رسالوں اور اخباروں میں ہونے لگے لہٰذا پڑھائی کے دَوران ہی دونوں شادی کے مبارک رشتے میں بندھ گئے۔

یہ بھی پڑھئے: ارشد وارثی نے مزاحیہ کرداروں سے لطف اندوز کیا

امجد خان کے بڑے بھائی امتیاز خان کو بھی فلموں میں اداکاری اور ہدایتکاری کا شوق تھا۔ جینت کی دِلی خواہش تھی کہ اُن کے لڑکے فلموں میں ترقی کریں۔ انہوں نے امتیاز اور امجد کو فلموں میں پہچان بنانے کیلئے ’پتھر کے جسم‘ نام کی ایک فلم بنانے کی کوشش کی تھی، جس میں امتیاز کو ہدایتکاری انجام دینی تھی اور اداکارہ راج شری کے ساتھ امجد خان کو ’نیرج‘ کے فلمی نام سے ہیرو کا کردار ادا کرنا تھا، لیکن بعض دِقتوں کے سبب جینت کی یہ خواہش اور کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔

یہ اور بات ہے کہ امجد خان اداکاری کے شعبے سے بچپن ہی میں وابستہ ہوگئے تھے۔ ۷؍ برس کی عمر میں پہلی بار وہ ۱۹۵۱ء میں ریلیز ہوئی فلم ’نازنین‘ کیلئے کیمرے کے سامنے آئے تھے۔اس کے بعد میں ۱۹۶۱ء میں انہوں نے ہدایتکار ڈی ڈی کشیپ کی فلم ’مایا‘ میں دیوآنند کے بچپن کا کردار ادا کیا۔ اس سے قبل چائلڈ اسٹار کے طور پر امجد خان نے ۱۹۵۷ء میں ہدایت کار راج کپور کی فلم ’اب دِلی دور نہیں ‘ میں اداکار رُومی کے ساتھ ایک کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ فلم ’چار پیسے‘ میں بھی امجد خان نے چائلڈ اداکار کے طور پر کام کیا، جو ۱۹۵۵ء میں فلمی پردے پر پیش کی گئی تھی۔ اس فلم کے مرکزی کرداروں میں کشور کمار، شیاما، جانی واکر اور آغا وغیرہ تھے۔

اپنے والدکے مشورے پر امجد نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کےآصف اور خواجہ احمد عباس کے ساتھ معاون ہدایتکار کے طور پر کام شروع کر دیا تھا۔ کےآصف کی ایک ادھوری فلم ’سستا خون مہنگا پانی‘ میں وہ اُن کے معاون رہے۔

چیتن آنند کی فلم ’ہندوستان کی قسم‘ میں کام کرنے سے پہلے ۱۹۶۹ء میں کےآصف نے اپنے معاون ہدایتکار امجد خان کو اپنی فلم ’محبت اور خدا‘ میں ایک حبشی غلام کے کردار کیلئے منتخب کیا تھا۔ کےآصف کی دوربین نگاہوں نے امجد خان میں ایک عظیم اداکار کو محسوس کر لیا تھا۔ بدقسمتی سے کے آصف کی یہ فلم گرودت کی موت اور بعد میں خود کےآصف کے انتقال کے سبب اُس وقت مکمل نہ ہو سکی۔اُن ہی دنوں چیتن آنند فلم ’ہندوستان کی قسم‘ بنا رہے تھے۔ انہیں اس فلم میں پاکستانی ایئرفورس کے افسر کے ایک کردار کیلئے ایک نئے چہرے کی تلاش تھی۔ انہوں نے امجد خان کو ایک اسٹیج ڈرامے میں کام کرتے ہوئے دیکھا تھا اور اُس کی اداکارانہ صلاحیتوں سے متاثر ہوئے تھے لہٰذا اِس کردار کیلئے انہوں نے امجد خان کو آفر کیا اورپھر انہوں نے واقعی اپنی بہترین اداکاری سے اس چھوٹے سے کردار میں جان ڈال دی تھی۔ اس فلم کے بعد ان کے پاس فلموں میں رول ملنے شروع ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: سمئے رائنا کے بیان پر تنازع، کشمیری پنڈتوں کی ہجرت پر نئی بحث

فلم ’شعلے‘ کا گبر سنگھ والا تاریخ ساز کردار امجد خان کے پاس کافی ڈرامائی انداز میں آیا تھا۔ اس ملٹی اسٹارر فلم میں ڈاکو کےکردار میں فلمساز جے پی سپی کسی بڑے اسٹار کو پیش کرنا چاہتے تھے۔فلم کے رائٹر سلیم جاوید نے بھی ڈینی کو ذہن میں رکھ کر یہ کردار بڑی توجہ سے تحریر کیا تھا۔ ڈینی خود بھی فلم ’شعلے‘ کا گبرسنگھ والا کردار حاصل کرنا چاہتے تھے، لیکن اُن دنوں وہ فیروزخان کی فلم ’دھرماتما‘ کی شوٹنگ میں مصروف تھے۔ ایسے میں سپی صاحب نے پہلے اس کردار کیلئے وِنود کھنہ اور شتروگھن سنہا کو آفر کیا مگر دونوں نے انکار کر دیا۔ اِسی درمیان فلم کے ہدایتکار رمیش سپی اور رائٹر سلیم خان ایک ڈراما دیکھنے گئے، جس میں امجد خان بھی اداکاری کر رہے تھے۔ امجد خان کی اداکاری کو دیکھ کر سلیم کے مشورے پر سپی صاحب نے امجد خان کو اس رول کیلئے سائن کر لیا، اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح امجد خان نے اس کردار کے ذریعہ فلمی دُنیا کی نئی تاریخ رقم کی۔ اس کردار کو بہتر ڈھنگ سے ادا کرنے کیلئے انہوں نے مشہور اداکارہ جیہ بہادری کے والد ترن کمار بہادری کی چنبل کے ڈاکوئوں پر لکھی کتاب ’’ابھی شپت چنبل‘‘ کا مطالعہ کیا۔

۱۹۷۵ء میں ریلیز ہوئی یہ فلم ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ گبر سنگھ کے کردار میں انہوں نے جو فنکاری دکھائی اور جس طرح سے درندگی اور سفاکیتکا تاثر پیش کیا، اُسے دیکھ کر فلم بینوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اس فلم کی بے پناہ کامیابی میں بڑا حصہ ان کی اداکاری کو ہی مانا گیا تھا۔

فلم میں گبرسنگھ کے ادا کئے ہوئے مکالمے اتنے اثرانگیز اور متاثرکن تھے کہ اُن کے’لانگ پلے ریکارڈ‘اور’آڈیو کیسٹ‘ مشہورفلمی گیتوں سے بھی کہیں زیادہ فروخت ہوئے۔ گیتوں کی طرح مکالموں کے ریکارڈ اور کیسٹ فلمی تاریخ میں بالکل پہلی اور انوکھی مثال ثابت ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: پرکاش راج کی وجے کی سیاست پر تنقید، ’’سنیما ماڈل‘‘ پر سوالات

’شعلے‘ کی بے پناہ کامیابی کے بعد امجد خان کو ویلن کے کردار ملنے لگے اور وہ لگاتار فلمیں سائن بھی کرتے رہے۔ ’شعلے‘ کے فوراً بعد جب رامانند ساگر کی فلم ’چرس‘ آئی تو اُس میں امجد خان کے مکالموں کی ادائیگی کا انداز تقریباً ’شعلے‘ والا ہی تھا، لہٰذا فلم بینوں کو بہت ناگوار گزرا۔ اس کے بعد ان کی لگارتار کئی فلمیں فلم شائقین نے محض اسی وجہ سے ناپسند کر دیں کیونکہ تقریباً تمام فلموں میں فلم سازوں اور ہدایتکاروں نے امجد خان کی ’شعلے‘ والی امیج کو ہی دہرایا تھا۔ امجد خان کو بھی جلد ہی اس بات کا احساس ہو گیا، لہٰذا انہوں نے اپنی اِس امیج کے دائرے سے باہر نکلنے کی کوشش شروع کر دی۔

اس کے بعد فلم’سہاگ‘ میں انہوں نے بالوں میں سفیدی لگاکر امیتابھ بچن کے باپ کا کردار نبھایا۔ فلم ’برسات کی ایک رات‘ میں بغیر کوئی مکالمہ بولے اپنی موجودگی کا احساس کراتے ہوئے خوفزدگی اور دہشت کا ماحول پیدا کیا۔ فلم ’انکار‘ میں ان کی چال نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو دوسرے ویلن زوردار ڈائیلاگ بول کر بھی نہیں کہہ پاتے۔ فلم ’وِدرَوھی‘ میں جب وہ ویلن بن کر آئے تو آنکھیں گھما گھماکر ہی دہشت پھیلاگئے۔ فلم ’لَو اسٹوری‘ میں وہ خبطی حولدار کے روپ میں آئے تو خالص ہریانوی زبان میں ہیرو ہیروئن کو لڑکا لڑکی کہنے کا ان کا انداز سب کو پسند آیا۔ فیروز خان کی فلم’ قربانی‘ میں لوگوں نے امجد خان کو بالکل نئے انداز میں دیکھا۔ اس فلم میں انہوں نے ایک پولیس انسپکٹر کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم میں آفیسر کے کردار میں ان کا ڈرم بجانا آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ اس کے بعد ’چنبیلی کی شادی، اچھا بُرا، لیکن‘ جیسی فلموں میں ایک الگ ہی قسم کا اداکار امجد خان نظر آیا۔

مشہور ہدایتکار ستیہ جیت رے کو گبر سنگھ جیسے ظالم اور سفاک کردار میں نہ جانے کس طرح ایک عجیب سی نزاکت اور لچک دکھائی دی کہ انہوں نے امجد خان کو اپنی فلم ’شطرنج کے کھلاڑی‘ میں لکھنؤ کی نزاکت کا بے مثال نمونہ نواب واجد علی شاہ بنا دیا اور امجد خان جیسے فولادی انسان نے بھی نرم ونازک شخصیت میں ڈھل کر ’جانِ عالم‘ کے روپ میں فلم بینوں کے دلوں پر اپنا سکہ جما دیا۔ فلم میں جب جانِ عالم کے کردار میں وہ اپنا تاج اُتار کر انگریز حاکم کو دیتے ہیں تو لوگوں کی آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں۔ اُنہوں نے ۱۹۸۳ء میں ’چور پولیس‘ اور ۱۹۸۵ء میں ’امیر آدمی غریب آدمی‘ فلمیں خود اپنی ہدایتکاری میں بنائیں مگر دونوں ہی فلمیں ناکام ہو گئیں۔

امجد خان ۱۹۷۸ء میں فلم ’گریٹ گیمبلر‘ کی شوٹنگ کے لئے پونے جا رہے تھے۔ حالانکہ وہ تیز رفتار سے کار چلانے کے خلاف تھے مگر ہونے والی بات کو کون ٹال سکتا ہے۔ راستے میں ان کی کار ایک حادثے کا شکار ہو گئی جس میں وہ بُری طرح زخمی ہو گے۔ اُن کی آدھی سے زیادہ پسلیاں ٹوٹ گئیں۔اس کے بعد ان کو کافی دنوں تک علاج کرانا پڑا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امجد خان کو اپنے بڑھتے وزن پر قابو نہ رہا اور وہ بے پناہ موٹے ہو گئے۔ بعد میں اپنے موٹاپے کا فائدہ انہوں نے اپنے کامیڈی کرداروں میں خوب اُٹھایا۔

یہ بھی پڑھئے: کنگنا رناوت نرم پڑگئیں، کرن جوہر سے اختلافات پر ’’صلح‘‘ کا اعلان

انہوں نے تقریباً۲۰۰؍ سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ بطور ویلن اپنی دھاک جمانے کے بعد انہوں نے خوبصورت کامیڈی بھی کی۔ اس طرح بڑوں کے ساتھ بچوں کے بھی وہ پسندیدہ اداکار بن گئے۔ فلم ’بندیا چمکے گی‘ میں انہوں نے زبردست کامیڈی کردار ادا کیا۔ دادا کونڈکے کی دو فلموں میں انہوں نے جم کر کامیڈی کی اور اپنے ڈیل ڈول کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ مزاحیہ فلم ’آسمان سے گرا‘ میں انہوں نے دوسرے سیارے کی مخلوق کے دلچسپ کردار میں بچوں کا دل جیت لیا۔

امجد خان کوڈائٹنگ بالکل پسند نہیں تھی،اسلئے اپنی پسند کے کھانے وہ شوق سے بھر پیٹ کھاتے تھے۔ ان کو رات میں دیر تک جاگنے کی عادت تھی مگر صبح کو وہ شوٹنگ پر ہمیشہ وقت سے پہنچنے کے عادی تھے۔ چائے پینے کے بیحد شوقین امجد خان ایک دن میں تقریباً دو درجن چائے پی جاتے تھے۔ امجد کے مضبوط جسم کے اندر ایک نہایت نرم اور رحم دل انسان جیتا تھا۔ وہ ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کیا کرتے تھے اور غلط یا جھوٹ بات کو وہ قطعی برداشت نہیں کرتے تھے۔

امجد خان تین بار سنے آرٹسٹ اسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے۔ فلمی دنیا میں ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تیسری بار کے انتخاب میں ان کو ۱۸۰؍ میں سے۱۷۴؍ ووٹ ملے تھے۔ ۲۷؍جولائی ۱۹۹۲ء کو رات ۸؍بجے دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK