• Tue, 17 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برٹش میوزیم نے قدیم ڈسپلے سے لفظ ’’فلسطین‘‘ ہٹا دیا

Updated: February 17, 2026, 11:09 AM IST | London

انادولو کی رپورٹ کے مطابق برٹش میوزیم نے برطانیہ میں قائم اسرائیلی ایڈوکیسی گروپ کی جانب سے اعتراضات کے بعد قدیم مشرقِ وسطیٰ سے متعلق بعض ڈسپلے پینلز میں لفظ ’’فلسطین‘‘ کے استعمال کا جائزہ لے کر اسے ہٹا دیا یا تبدیل کر دیا ہے۔ میوزیم کا کہنا ہے کہ تاریخی سیاق و سباق کو واضح کرنے کے لیے اصطلاحات کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانیہ کے معروف ثقافتی ادارے برٹش میوزیم نے قدیم مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اپنی چند گیلریوں میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کا ازسرِنو جائزہ لیتے ہوئے لفظ ’’فلسطین‘‘ کو بعض مقامات سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ میں قائم اسرائیلی ایڈوکیسی گروپ یو کے لائرز فار اسرائیل (یو کے ایل ایف آئی) نے ان اصطلاحات پر اعتراضات اٹھائے اور انہیں تاریخی طور پر غلط قرار دیا۔ انادولو کی رپورٹ کے مطابق یو کے ایل ایف آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ قدیم لیونٹ اور مصر سے متعلق ڈسپلے میں لفظ ’’فلسطین‘‘ کا استعمال تاریخی تناظر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ گروپ کے بیان میں کہا گیا کہ ہزاروں برسوں پر محیط مختلف ادوار پر ایک ہی نام کا اطلاق کرنا تاریخی تبدیلیوں کو دھندلا دیتا ہے اور تسلسل کا ایسا تاثر دیتا ہے جو حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں زمینوں کے رجسٹریشن کے منصوبے پر سخت عالمی ردعمل

سنیچر کو جاری بیان میں یو کے ایل ایف آئی نے کہا کہ برٹش میوزیم نے اس معاملے پر تشویش کے بعد کچھ گیلری پینلز اور لیبلز کا جائزہ لینے اور انہیں اپ ڈیٹ کرنے کی تصدیق کی ہے۔ میوزیم کے ترجمان کے مطابق سامعین کی جانچ اور آراء سے یہ بات سامنے آئی کہ بعض تاریخی ادوار کے حوالے سے ’’فلسطین‘‘ کی اصطلاح کا استعمال موجودہ تناظر میں اب موزوں نہیں رہا۔ میوزیم نے وضاحت کی کہ لیونٹ گیلری میں موجود معلوماتی پینلز، جو ۲؍ ہزار قبل مسیح سے ۳۰۰؍ قبل مسیح تک کے عرصے کا احاطہ کرتے ہیں، کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ ان میں اب کنعان اور کنعانیوں کی تاریخ کو زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور یہود اور اسرائیل کی قدیم سلطنتوں کے عروج کا ذکر ان ہی تاریخی ناموں کے ساتھ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: تعمیر نو کیلئے ۵؍ ارب ڈالر کا وعدہ: ٹرمپ کا اعلان

مزید برآں، فینشین تہذیب سے متعلق نظرثانی شدہ متن کو ۲۰۲۵ء کے اوائل میں نصب کیا جا چکا ہے۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، ہیکسوس سے متعلق ایک پینل میں ’’فلسطینی نسل‘‘ کی اصطلاح کو تبدیل کر کے ’’کنعانی نسل‘‘ کر دیا گیا ہے، تاکہ تاریخی حوالہ زیادہ درست انداز میں پیش کیا جا سکے۔ یو کے ایل ایف آئی کے ترجمان نے برٹش میوزیم کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے ایسی اصطلاحات پر نظرثانی کی آمادگی ظاہر کی ہے جو ان کے بقول ’’آج کے دور میں غلط یا گمراہ کن معنی دے سکتی تھیں۔‘‘ اس سے قبل گروپ نے ایک بیان جاری کیا تھا جس کا عنوان تھا: ’’برٹش میوزیم پر ’فلسطین‘ کے تاریخی طور پر غلط استعمال کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ۔‘‘ یہ معاملہ اس وسیع تر بحث کا حصہ بن گیا ہے جس میں تاریخی اصطلاحات کے استعمال، نوآبادیاتی بیانیوں اور جدید سیاسی حساسیت کے درمیان توازن پر گفتگو کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عجائب گھروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخی مواد کو درست سیاق و سباق میں پیش کریں، جبکہ دیگر حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اصطلاحات میں تبدیلیوں کے اثرات کو بھی سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK