Updated: February 17, 2026, 8:01 PM IST
| New York
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ ایپسٹین فائلز میں خواتین اور لڑکیوں کے منظم اور بڑے پیمانے پر اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے پریشان کن اور قابلِ اعتبار شواہد موجود ہیں۔ کئی افعال جنسی غلامی، تولیدی تشدد، تشدد اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کے مترادف ہوسکتے ہیں۔
جیفری ایپسٹین۔ تصویر: ایکس
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی ’ایپسٹین فائلز‘ کی آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات پر زور دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان انکشافات میں بیان کردہ مبینہ زیادتیاں بین الاقوامی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔
پیر کو جاری کئے گئے بیان میں ماہرین نے کہا کہ ایپسٹین فائلز میں خواتین اور لڑکیوں کے منظم اور بڑے پیمانے پر اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے پریشان کن اور قابلِ اعتبار شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بیان کردہ کئی افعال جنسی غلامی، تولیدی تشدد، تشدد اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کے مترادف ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ان مظالم کا پیمانہ، نوعیت، منظم کردار، اس قدر سنگین ہے کہ ان میں سے کئی معقول حد تک ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کی قانونی حدود کو چھو سکتے ہیں۔“ واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری قانون کے تحت، انسانیت کے خلاف جرائم میں عام شہریوں کے خلاف وسیع پیمانے پر یا منظم حملے شامل ہوتے ہیں، جن میں عصمت دری، جبری جسم فروشی، اسمگلنگ اور قتل شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز: نئی دستاویز میں ۳۰۵؍ بااثر اور مشہور شخصیات کے نام شامل، فہرست جاری
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ فائلز میں ’ریڈیکشن‘ (حساس معلومات چھپانے) میں سنگین ناکامیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بعض ریکارڈز واپس لئے جانے سے پہلے متاثرین کی کچھ حساس معلومات افشا ہوگئی تھیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت عالمی برادری کی ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے، ماہرین نے کہا کہ ”حکومتوں کو خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو روکنا، اس کی تحقیقات کرنا اور سزا دینا چاہیے۔ ایسی کوئی بھی تجویز کہ اب ’ایپسٹین فائلز‘ سے آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے، ناقابلِ قبول ہے۔ کوئی بھی اتنا امیر یا طاقتور نہیں ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہو۔“
اقوام متحدہ کے ماہرین نے امریکی حکام اور دیگر حکومتوں سے متاثرین کے لئے مکمل جواب دہی اور معاوضے کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی میں ناکامی، صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔