• Sun, 01 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بجٹ ۲۰۲۶ء: مینوفیکچرنگ، انفراسٹرکچر کے شعبوں کو بڑے پیمانے پر فروغ

Updated: February 01, 2026, 3:24 PM IST | New Delhi

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اتوار کو پارلیمنٹ میں مالی سال۲۷۔۲۰۲۶ءکے لیے۵۳۴۷۳۱۵؍ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا، جس میں معیشت کو عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ’’وِکسِت بھارت‘‘ کی سمت بڑھنے کے لیے مینوفیکچرنگ، اقتصادی اور سماجی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ۱۷۱۴۵۲۳؍کروڑ روپے کے سرمایہ جاتی اخراجات کا ہدف رکھا گیا ہے۔

Nirmala Sitharaman. Photo: PTI
نرملا سیتارمن۔ تصویر پی ٹی آئی

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اتوار کو پارلیمنٹ میں مالی سال۲۷۔۲۰۲۶ءکے لیے۵۳۴۷۳۱۵؍کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا، جس میں معیشت کو عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ’’وِکسِت بھارت‘‘ کی سمت بڑھنے کے لیے مینوفیکچرنگ، اقتصادی اور سماجی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ۱۷۱۴۵۲۳؍کروڑ روپے کے سرمایہ جاتی اخراجات کا ہدف رکھا گیا ہے۔ 
بجٹ میں انفرادی انکم ٹیکس کی شرحوں میں کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے، لیکن صنعتوں پر کم از کم متبادل انکم ٹیکس (ایم اے ٹی) کی شرح کو۱۵؍ فیصد سے گھٹا کر ۱۴؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔ بجٹ میں سرمایہ کاروں اور درآمد کنندگان کے لیے عمل اور تعمیل کو آسان بنانے کے تفصیلی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔  وزیر خزانہ نے ایک گھنٹہ ۲۵؍ منٹ کے اپنے خطاب میں کہا کہ سرمایہ جاتی اخراجات بڑھانے کے باوجود مالیاتی خسارے کو جی ڈی پی کے ۳ء۴؍ فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف ہے۔ موجودہ مالی سال میں مالیاتی خسارہ بجٹ کے اندازے ۵ء۴؍ فیصد کے مقابلے میں  ۴ء۴؍فیصد رہا ہے۔ بجٹ کے بعد شیئر بازاروں میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی اور ایک وقت بی ایس ای کا سینسیکس ۲۳۰۰؍ پوائنٹ تک گر گیا، لیکن بعد میں اس نے کافی حد تک واپسی کی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ بنگال میں حکومت بدلنے کی ضرورت ہے‘‘

وزیر خزانہ نے قرض جی ڈی پی تناسب کو ۳۱۔۲۰۳۰ء تک ۵۰؍ فیصد کے قریب رکھنے کا ہدف بتایا، جو۲۷۔ ۲۰۲۶ء میں ۵ء۵؍ فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری قرض کم ہونے سے ترجیحی شعبوں کے لیے قرض کی دستیابی بڑھے گی، حکومت پر سود کی ادائیگی کم ہوگی اور پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔  انہوں نے۱۶؍ویں مالیاتی کمیشن کی رپورٹ کو قبول کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ مرکز کی تقسیم پذیر آمدنی میں ریاستوں کا حصہ ۴۱؍ فیصد برقرار رہے گا۔ 
وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی چیلنجوں کے باوجود ہندوستان کی شرح نمو سات فیصد کے دائرے میں ہے، جس سے حکومت ترقی اور فلاح کے لیے وسائل اکٹھے کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو عالمی منڈی سے جڑا رہنا ہے تاکہ ملک برآمدی منڈی، غیر ملکی سرمایہ اور ٹیکنالوجی کا فائدہ حاصل کرتا رہے۔ 
انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد لوگوں کی امنگوں کو حقیقت میں بدلنا ہے اور اقتصادی ترقی کو نوجوانوں، کسانوں، غریبوں، خواتین اور دیگر ضرورت مند طبقات تک پہنچانا ہے۔ وزیر خزانہ نے بجٹ کو تین فرائض پر مرکوز بتایاکہ  پہلا فرض اقتصادی ترقی کو بڑھانا، دوسرا فرض عوام کو بااختیار بنا کر ان کی امنگیں پوری کرنا اور تیسرا فرض ’’سب کا ساتھ سب کا وِکاس‘‘ کے مطابق سماجی فلاحی اسکیموں کو آگے بڑھانا۔ 
انہوں نے کہا کہ اگست میں وزیراعظم کے یومِ آزادی خطاب کے بعد سے جی ایس ٹی سمیت ۳۵۰؍ سے زیادہ اصلاحات نافذ کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے بایوفارما، سیمی کنڈکٹر، الیکٹرانک کمپوننٹ، نایاب معدنیات اور کپڑا جیسے شعبوں کو فروغ دینے کے لیے نئی پہلوں کا اعلان کیا۔وزیر خزانہ نے ۲۰۰؍سے زیادہ روایتی صنعتی کلسٹروں کو دوبارہ زندہ کرنے اور چار نئے اقتصادی زونز کے قیام کی تجویز دی۔ ساتھ ہی دو مقامات پر ہائی ٹیک ٹول روم قائم کرنے کا اعلان کیا، جو کم لاگت پر اعلیٰ درستگی والے پرزوں کا ڈیزائن، جانچ اور تیاری کریں گے۔  انہوں نے ٹائر۲؍ اور ٹائر۳؍ شہروں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مغربی بنگال کے دانکونی سے گجرات کے سورت تک نیا مال برداری کوریڈور اور بنارس و پٹنہ میں گھریلو آبی گزرگاہوں کے لیے جہاز سازی کی سہولتوں کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھئے: عدالت کے سوا کسی کو سزا دینے کا حق نہیں ہے : اکھلیش یادو

انہوں نے بجلی، اسٹیل، ایلومینیم اور کپڑا جیسے شعبوں میں کاربن اخراج کم کرنے کے لیے ۲۰۰۰؍ کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی۔ بجٹ میں نئی قومی فائبر اسکیم، دستکاری و ہتھ کرگھا کے لیے ’’سمستھ‘‘ اسکیم کا توسیع اور کھادی گرام ادیوگ کے لیے ’’مہاتما گاندھی گرام سوراج یوجنا‘‘ کا اعلان کیا گیا۔  ایم ایس ایم ای کے لیے مالی معاونت کو آسان بنانے کے اقدامات کیے گئے۔ بینکنگ شعبے کو مستقبل کی ضرورتوں کے لیے تیار کرنے کے مقصد سے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا گیا، جس میں پاور فنانس کارپوریشن اور رورل الیکٹریفکیشن کارپوریشن کی تنظیم نو بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یوم جمہوریہ کے پروگرام میں امبیڈکر کا تذکرہ نہ کرنے پرگریش مہاجن کیخلاف ناراضگی

انہوں نے میونسپل بانڈز کے اجرا پر ۱۰۰؍ کروڑ روپے تک کی ترغیب دینے کا اعلان کیا تاکہ بلدیاتی ادارے ترقی کے لیے سرمایہ اکٹھا کر سکیں۔  دوسرے فرض کے تحت تعلیم، ہنر مندی، طبی خدمات، ویٹرنری، پانچ نئی یونیورسٹی ٹاؤن شپ، ہر ضلع میں ریاضی و سائنس پڑھنے والی طالبات کے لیے ہاسٹل، فلکیات کے لیے نئی رصدگاہیں، گائیڈوں کی تربیت کے لیے ۲۰؍ مراکز، ڈجیٹل نالج ہاؤس اور ۵۰؍ آثار قدیمہ کے مقامات کی ترقی جیسے اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ 
تیسرے فرض کے تحت خواتین، کسانوں، معذور افراد اور دیگر محروم طبقات کے ساتھ شمال مشرقی ریاستوں کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ شمالی ہندوستان میں ایک نیا ’’نِم ہنس‘‘ ادارہ قائم کرنے اور رانچی و تیزپور کے قومی ذہنی صحت اداروں کو علاقائی اعلیٰ اداروں کے طور پر اپ گریڈ کرنے کی تجویز دی گئی۔ 
بجٹ میں ۵۰؍ فیصد ضلعی اسپتالوں میں ایمرجنسی اور ٹراما مراکز قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ ’’دیویانگ سہارا یوجنا‘‘ کے تحت ہندوستانی مصنوعی انسانی اعضا بنانے والی کارپوریشن کو اپنی سہولتوں کے توسیع اور تحقیق و ترقی کے لیے مدد دی جائے گی۔  سیتارمن نے اروناچل پردیش، سکم، آسام، منی پور، میزورم اور تریپورہ میں بدھ سرکٹ کے فروغ کے لیے منصوبے کا اعلان کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK