Updated: June 24, 2026, 10:04 PM IST
| Washington
پیو ریسرچ سینٹر کے تازہ عالمی سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر عالمی اعتماد نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔ ۳۶؍ ممالک میں کیے گئے سروے میں صرف ۲۳؍ فیصد افراد نے ٹرمپ پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ ۷۶؍ فیصد نے کہا کہ انہیں ان پر اعتماد نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اعتماد کی درجہ بندی میں ٹرمپ نہ صرف فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے پیچھے رہے بلکہ چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی کم اسکور حاصل کیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر عالمی اعتماد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ امریکہ کو ایک قابل اعتماد بین الاقوامی شراکت دار سمجھنے کا رجحان بھی متعدد ممالک، خصوصاً یورپ میں، تیزی سے کم ہوا ہے۔ یہ انکشاف Pew Research Center کے ایک نئے عالمی سروے میں سامنے آیا، جو ۸؍ فروری سے ۱۳؍ مئی ۲۰۲۶ء کے درمیان ۳۶؍ ممالک کے ۴۲۱۵۱؍ بالغ افراد پر مشتمل تھا۔ سروے کے مطابق صرف ۲۳؍ فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ انہیں ڈونالڈ ٹرمپ پر اعتماد ہے کہ وہ ’’عالمی امور کے حوالے سے درست فیصلے کریں گے‘‘، جبکہ ۷۶؍ فیصد نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار کم کرنا ہوگا: نیتن یاہو
اعتماد کی عالمی درجہ بندی میں ٹرمپ متعدد عالمی لیڈروں سے پیچھے رہے۔ سروے کے مطابق ایمانوئیل میکرون کو ۴۳؍ فیصد، ولادیمیر زیلنسکی کو ۳۵؍ فیصد، شی جن پنگ کو ۳۴؍ فیصد اور ولادیمیر پوتن کو ۳۱؍ فیصد اعتماد حاصل ہوا۔ صرف بنجامن نیتن یاہو ۱۸؍ فیصد کے ساتھ ٹرمپ سے کم درجہ بندی حاصل کی۔ ملکی سطح پر دیکھا جائے تو ٹرمپ کو سب سے زیادہ حمایت فلپائن میں ملی، جہاں ۶۸؍ فیصد افراد نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اسرائیل میں بھی ۶۶؍ فیصد جواب دہندگان نے ٹرمپ پر اعتماد ظاہر کیا، جبکہ ۳۳؍ فیصد نے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ نائیجیریا، کینیا اور گھانا میں بھی اکثریت نے امریکی صدر پر اعتماد کا اظہار کیا۔
اس کے برعکس ترکی میں صرف ۶؍ فیصد افراد نے ٹرمپ پر اعتماد ظاہر کیا، جبکہ ۹۲؍ فیصد نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے فلسطینی علاقوں میں یہ شرح مزید کم رہی، جہاں صرف ۴؍ فیصد نے اعتماد جبکہ ۸۹؍ فیصد نے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ سروے کے مطابق امریکہ کو ایک قابل اعتماد اتحادی کے طور پر دیکھنے کا رجحان خاص طور پر یورپ میں کمزور ہوا ہے۔ سروے میں شامل یورپی ممالک میں صرف ہنگری اور پولینڈ ایسے ممالک رہے جہاں اکثریت اب بھی واشنگٹن کو قابل اعتماد شراکت دار سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس آٹھ یورپی ممالک میں ۲۰۲۲ء کے مقابلے میں اعتماد کی شرح ۲۸؍ سے ۵۲؍ فیصد پوائنٹس تک گر گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ یورپ کی رضامندی کے بغیر ایران پر سے پابندی نہیں ہٹائی جا سکتی‘‘
سویڈن میں صرف ۸؍ فیصد، فرانس میں ۱۰؍ فیصد اور جرمنی میں ۱۵؍ فیصد افراد نے کہا کہ امریکہ ان کے قومی مفادات کا خیال رکھتا ہے۔ برطانیہ میں یہ شرح ۲۶؍ فیصد رہی، جبکہ ہنگری ۳۵؍ فیصد کے ساتھ یورپ میں سرفہرست رہا۔ جرمنی میں امریکہ کو دوسرے ممالک کے مفادات کا خیال رکھنے والا ملک سمجھنے والوں کی شرح ۲۰۲۳ء میں ۶۰؍ فیصد تھی، جو اب کم ہو کر صرف ۲۳؍ فیصد رہ گئی ہے۔ ایشیا میں ٹرمپ پر اعتماد کے حوالے سے بھی ملے جلے نتائج سامنے آئے۔ ہندوستان میں ۳۹؍ فیصد اور سری لنکا میں ۳۵؍ فیصد افراد نے اعتماد ظاہر کیا، جبکہ جاپان میں یہ شرح ۲۵؍ فیصد، جنوبی کوریا میں ۲۲؍ فیصد اور آسٹریلیا میں صرف ۱۸؍ فیصد رہی۔ لاطینی امریکہ میں سروے میں شامل کسی بھی ملک میں ٹرمپ اکثریتی اعتماد حاصل نہ کر سکے۔ کولمبیا میں ۴۳؍ فیصد افراد نے ان پر اعتماد ظاہر کیا، جبکہ پیرو میں یہ شرح ۳۱؍ فیصد اور برازیل میں ۳۰؍ فیصد رہی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’۴؍ماہ کی جنگ سے مشرق وسطیٰ کے حالات میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ‘‘
عالمی سطح پر امریکہ کے کردار کے حوالے سے بھی رائے میں تبدیلی دیکھی گئی۔ سروے میں شامل ۳۶؍ ممالک کے صرف ۳۵؍ فیصد افراد نے کہا کہ امریکہ دنیا میں امن اور استحکام کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرتا ہے، جو ۲۰۲۳ء کے مقابلے میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ خارجہ پالیسی کے مختلف معاملات پر بھی ٹرمپ کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ سروے کے مطابق ۷۶؍ فیصد جواب دہندگان نے غزہ جنگ کے حوالے سے ان کے مؤقف کو ناپسند کیا، جبکہ ۷۴؍ فیصد نے ایران سے متعلق ان کی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم سب سے زیادہ مخالفت ٹرمپ کی تجارتی اور ٹیرف پالیسیوں کو ملی۔ عالمی سطح پر ۷۷؍ فیصد افراد نے ان پالیسیوں کو ناپسند کیا۔ جرمنی میں ۹۲؍ فیصد، جنوبی کوریا میں ۸۶؍ فیصد اور جاپان میں ۸۵؍ فیصد افراد نے امریکی ٹیرف پالیسیوں کے خلاف رائے دی۔
ماہرین کے مطابق سروے کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر امریکہ کی قیادت، اس کی خارجہ پالیسی اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ متعدد ممالک میں واشنگٹن پر اعتماد گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔