Updated: May 18, 2026, 5:04 PM IST
| Cannes
معروف ہالی ووڈ اداکار Javier Bardem نے Cannes Film Festival میں غزہ جنگ، ہالی ووڈ کے خوف اور فلسطین کی حمایت پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلمی صنعت کا رویہ آہستہ آہستہ بدل رہا ہے اور ’’ہر کسی کو احساس ہو رہا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے۔‘‘ آسکر یافتہ اداکار نے کہا کہ اگر لوگ اپنی خاموشی یا حمایت سے غزہ میں جاری تباہی کو جائز قرار دیتے ہیں تو وہ ’’نسل کشی کے حامی‘‘ بن جاتے ہیں۔
ہاویئر بارڈیم۔ تصویر: ایکس
مشہور ہالی ووڈ اداکار Javier Bardem نے Cannes Film Festival میں ایک بار پھر فلسطین کے حق میں مضبوط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہالی ووڈ میں غزہ کے مسئلے پر خاموشی اب آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی ہے، کیونکہ ’’ہر کسی کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے۔‘‘ بارڈیم نے یہ تبصرے اپنی نئی فلم The Beloved کی پریس کانفرنس کے دوران دیے، جہاں ان سے فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے کے ممکنہ پیشہ ورانہ نتائج کے بارے میں سوال کیا گیا۔ بارڈیم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’’’خوف یقیناً موجود ہے، لیکن اگر آپ خوف محسوس کریں تب بھی آپ کو کچھ کرنا پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ نے انہیں ہمیشہ یہ سکھایا کہ اصولوں کیلئے کھڑا ہونا ضروری ہے، چاہے اس کی قیمت ادا کرنی پڑے۔
یہ بھی پڑھئے: ریما لاگونے ماں کے کرداروں سے مقبولیت حاصل کی
اداکار نے مزید کہا کہ ’’اب ہر کسی کو احساس ہونے لگا ہے کہ یہ (غزہ جنگ) ناقابل قبول ہے۔‘‘ بارڈیم نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو براہِ راست ’’نسل کشی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ خاموش رہنا بھی ایک طرح کی حمایت بن جاتا ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ’’اگر آپ اپنی خاموشی یا حمایت کے ذریعے اس کا جواز پیش کرتے ہیں تو آپ نسل کشی کی حمایت کر رہے ہیں۔‘‘ بارڈیم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہالی ووڈ میں خوف کا ماحول موجود ہے اور کئی فنکار سیاسی مؤقف اختیار کرنے سے گھبراتے ہیں، لیکن ان کے مطابق نوجوان نسل عالمی واقعات کو براہِ راست دیکھ رہی ہے اور اب پہلے جیسی خاموشی ممکن نہیں رہی۔
اداکار نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ تصدیق نہیں کر سکتے کہ واقعی کوئی ’’بلیک لسٹ‘‘ موجود ہے، تاہم انہوں نے بتایا کہ انہیں اب بھی بین الاقوامی فلمی منصوبوں کی پیشکشیں موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے عالمی سیاست کو ’’زہریلی مردانگی‘‘ سے جوڑتے ہوئے اسپین میں خواتین کے خلاف تشدد کے اعدادوشمار کا حوالہ دیا اور کہا کہ طاقت، تسلط اور ملکیت کا یہی ذہن عالمی سیاست میں بھی نظر آتا ہے۔ بارڈیم نے کہا کہ ’’ہم خواتین کو قتل کر رہے ہیں کیونکہ کچھ مرد سمجھتے ہیں کہ وہ ان کی ملکیت ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’انڈسٹری میں کام کرنے کیلئے سب سے پہلی شرط صبر کا ہونا ہے‘‘
اس کے بعد انہوں نے عالمی لیڈروں، ڈونالڈ ٹرمپ، والادیمیر پوتن اور بنجامن نیتن یاہو کا نام لیتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست میں طاقت کے اظہار کا رویہ بھی اسی ذہنیت کا تسلسل ہے۔ بارڈیم نے سخت الفاظ میں کہا کہ ’’ان افراد کی ذہنیت ہے کہ ہم تم سے بڑے ہیں اور تمہیں تباہ کردیں گے۔ ان کی انا پرستی نے غزہ میں تباہی برپا کر رکھی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ کانز میں ان کی فلم The Beloved کی اسکریننگ کو زبردست پذیرائی ملی، جہاں فلم کے اختتام پر تقریباً سات منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائی گئیں۔
فلم کی ہدایت کاری Rodrigo Sorogoyen نے کی ہے، جبکہ اس میں بارڈیم ایک ایسے فلم ڈائریکٹر کا کردار ادا کر رہے ہیں جو اپنی اجنبی بیٹی کو فلم میں کردار دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اداکارہ Victoria Luengo بھی فلم کا اہم حصہ ہیں۔ بارڈیم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ پر ہالی ووڈ مسلسل تقسیم کا شکار ہے اور متعدد اداکار فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر شدید ردعمل، تنقید اور ممکنہ پیشہ ورانہ دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔