۲۸؍ ستمبر کو محدود کیا گیا اکاؤنٹ ۵؍ اکتوبر کو بحال ہونے کے بعد ۲۰؍ اکتوبر کو پھر بندش کی زد میں آگیا؛ انسٹاگرام نے ہندوستانی قوانین کا حوالہ دیا، تاہم تازہ پابندی کی مخصوص وجہ سامنے نہیں آئی، سیاسی طنز اور آن لائن مواد کی روک تھام پر بحث تیز۔
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 3:09 PM IST | New Delhi
۲۸؍ ستمبر کو محدود کیا گیا اکاؤنٹ ۵؍ اکتوبر کو بحال ہونے کے بعد ۲۰؍ اکتوبر کو پھر بندش کی زد میں آگیا؛ انسٹاگرام نے ہندوستانی قوانین کا حوالہ دیا، تاہم تازہ پابندی کی مخصوص وجہ سامنے نہیں آئی، سیاسی طنز اور آن لائن مواد کی روک تھام پر بحث تیز۔
ہندوستان کے معروف سیاسی کارٹونسٹ ستیش اچاریہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ تین ہفتوں کے اندر دوسری مرتبہ ہندوستان میں محدود کردیا گیا ہے۔ میٹا کی ملکیت والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے اس اقدام کے لیے قانونی تقاضوں کا حوالہ دیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تازہ پابندی کس مخصوص کارٹون یا پوسٹ کی وجہ سے لگائی گئی۔ اس واقعے نے سیاسی طنز، حکومتی کارروائیوں پر تنقید اور ڈجیٹل پلیٹ فارموں پر اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق سوالات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ ویب سائٹ ’اسکرول‘ کے مطابق اچاریہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ۲۰؍ اکتوبر کو ہندوستان میں دوسری مرتبہ محدود کیا گیا۔ اس سے پہلے ۲۸؍ ستمبر کو بھی حکومت کی جانب سے قانونی درخواست موصول ہونے کے بعد پلیٹ فارم نے ان کے اکاؤنٹ تک ہندوستان میں رسائی روک دی تھی۔ یہ پابندی ۵؍ اکتوبر کو ہٹا دی گئی تھی، لیکن تقریباً دو ہفتے بعد اکاؤنٹ ایک مرتبہ پھر محدود ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے:۲۰۳۱ء تک خلا میں جنگ چھڑنے کا خدشہ، دنیا انیسویں صدی میں لوٹ سکتی ہے: ماہرین
انسٹاگرام پر اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش کرنے والے صارفین کو ایک پیغام دکھائی دیا، جس میں کہا گیا کہ ہندوستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی انٹرمیڈیری گائیڈلائنز اینڈ ڈجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ رولز کے تحت قانونی تقاضوں کی تعمیل میں اکاؤنٹ تک رسائی عارضی طور پر محدود کی گئی ہے۔ تاہم پلیٹ فارم کے پیغام میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پابندی کے پیچھے کون سا مخصوص مواد یا قانونی حکم ہے۔ اچاریہ نے اپنے اکاؤنٹ کی بندش کا اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’’صاحب، لوگوں نے آپ کو اچھے دن لانے کے لیے منتخب کیا تھا۔ آپ اپنی مدتِ اقتدار انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کرنے میں ضائع کررہے ہیں!‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’کارٹون سے اتنا خوف زدہ کون ہے؟‘‘
اچاریہ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی بتایا کہ ان کا اکاؤنٹ ۲۸؍ ستمبر کو ہندوستان میں ایک ہفتے کے لیے محدود کیا گیا تھا اور ۲۰؍ اکتوبر کو دوبارہ بلاک کردیا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک سیاسی کارٹونوں سے خوف زدہ ہونے کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، وہ اپنے احتجاج کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔ یہ معاملہ صرف ایک کارٹونسٹ کے اکاؤنٹ تک محدود نہیں ہے۔ ستمبر کے اواخر میں ایک اور سیاسی کارٹونسٹ منجول نے بھی اطلاع دی تھی کہ ان کا ایک کارٹون انسٹاگرام پر ہندوستانی صارفین کے لیے محدود کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کارٹون الیکشن کمیشن سے متعلق تھا اور پلیٹ فارم نے حکومتی ادارے یا قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کے نوٹس کا حوالہ دیا تھا۔ دونوں واقعات کے بعد دیگر کارٹونسٹوں نے بھی سیاسی طنز اور کارٹونوں پر پابندیوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ اچاریہ کے حالیہ کاموں میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج سے متعلق دہلی پولیس کے رویے اور سکم کے گورنر کے طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما دشینت کمار گوتم کی تقرری جیسے سیاسی معاملات پر بنائے گئے کارٹون شامل تھے۔ ان کی بعض تخلیقات ایسے وقت سامنے آئیں جب انتخابی عمل، الیکشن کمیشن کے کام اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی سے متعلق تنازعات پر سیاسی بحث جاری ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ تازہ پابندی ان میں سے کسی مخصوص کارٹون کے سبب عائد ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیل کے حملے میں ۵؍ افراد جاں بحق
ہندوستان میں آن لائن مواد کی روک تھام کے وسیع تر رجحان کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ ’اسکرول‘ نے رپورٹ کیا کہ مارچ سے جولائی ۲۰۲۶ء کے درمیان انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب پر مواد ہٹانے کے لیے تقریباً ۲؍ لاکھ احکامات جاری کیے گئے۔ ان میں سے تقریباً ایک لاکھ احکامات انسٹاگرام سے متعلق تھے، جب کہ فیس بک کے لیے تقریباً ۸۰؍ ہزار اور یوٹیوب کے لیے لگ بھگ ۱۵؍ ہزار احکامات جاری کیے گئے۔ یہ اعداد مختلف نوعیت کے مواد اور اکاؤنٹس سے متعلق ہیں، اس لیے انہیں صرف سیاسی کارٹونوں کے خلاف کارروائیوں کی تعداد نہیں سمجھا جاسکتا۔ قانونی درخواستوں کے تحت مواد محدود کرنے کے معاملے میں ایک اہم سوال شفافیت کا بھی ہے۔ جب کسی اکاؤنٹ یا پوسٹ کو محدود کیا جاتا ہے، لیکن متعلقہ مواد، حکم جاری کرنے والے ادارے یا پابندی کی مخصوص وجہ واضح نہیں ہوتی، تو متاثرہ تخلیق کار کے لیے فیصلے کو سمجھنا اور اسے قانونی طور پر چیلنج کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اچاریہ کے معاملے میں بھی تازہ پابندی کی بنیاد عوامی طور پر واضح نہیں کی گئی ہے۔ سیاسی کارٹون جمہوری معاشروں میں اقتدار، اداروں اور عوامی پالیسیوں پر طنز و تنقید کا ایک معروف ذریعہ رہے ہیں۔ دوسری طرف حکومتیں غیر قانونی مواد کے خلاف قانونی اختیارات استعمال کرسکتی ہیں، لیکن ایسے اقدامات کی شفافیت، قانونی بنیاد اور تناسب سے متعلق سوالات بھی اہم ہوتے ہیں۔ اچاریہ کے اکاؤنٹ کی بار بار بندش نے اسی بحث کو دوبارہ مرکزِ توجہ بنا دیا ہے کہ قانونی پابندیوں کے نفاذ کے دوران سیاسی طنز اور تنقیدی اظہار کے لیے کتنی گنجائش باقی رہتی ہے۔