Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرکز نے آزاد نیوز تخلیق کاروں کو بلاک کرنے کی اجازت دینےکیلئے آئی ٹی قوانین میں ترمیم کی تجویز پیش

Updated: March 31, 2026, 8:04 PM IST | New Delhi

مجوزہ ترامیم آئی ٹی قوانین کے تیسرے سیکشن کیلئے پیش کی گئی ہیں، جو پہلے بنیادی طور پر پیشہ ورانہ میڈیا تنظیموں پر لاگو ہوتے تھے۔ یہ نیا ڈرافٹ اس کے دائرہ کار کو وسیع کرکے ان افراد کو بھی شامل کرتا ہے جو باضابطہ طور پر ’پبلشرز‘ کی درجہ بندی میں شامل نہیں تھے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مرکزی حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈ لائنز اور ڈجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) قوانین ۲۰۲۱ء میں ایسی ترامیم تجویز کی ہیں جو حکام کو ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر موجود آزاد نیوز تخلیق کاروں کے مواد ہٹانے کے احکامات جاری کرنے کی اجازت دے سکتی ہیں۔ 

اس ڈرافٹ کے مطابق، وزارتِ اطلاعات و نشریات کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ان تخلیق کاروں کے مواد کو بلاک کرنے کی سفارش کرے اور اگر کسی بین الوزارتی کمیٹی کی تحقیقات کے بعد شکایات درست پائی جائیں، تو وہ کریٹرز کو معافی مانگنے یا اپنے مواد میں تبدیلی کرنے کی ہدایت دے سکے۔

یہ بھی پڑھئے: ایکس نے رام نومی کے دوران ہندوتوا تشدد کا فیکٹ چیک کرنے والے محمد زبیر کی پوسٹس کو بلاک کردیا

تجویز کردہ ترامیم کے مطابق، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیلئے حکومت کی طرف جاری کردہ ایڈوائزریز، ہدایات ناموں اور گائیڈ لائنز پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ پلیٹ فارمز آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ ۷۹ کے تحت حاصل ’سیف ہاربر‘ تحفظ سے محروم ہو سکتے ہیں، جس کے بعد وہ صارفین کے تخلیق کردہ مواد کیلئے قانونی طور پر جوابدہ ہوگے۔

مجوزہ ترامیم آئی ٹی رولز کے تیسرے سیکشن کیلئے پیش کی گئی ہیں، جو پہلے بنیادی طور پر پیشہ ورانہ میڈیا تنظیموں پر لاگو ہوتے تھے۔ آئی ٹی رولز کا نیا ڈرافٹ اس کے دائرہ کار کو وسیع کرکے ان افراد کو بھی شامل کرتا ہے جو باضابطہ طور پر ’پبلشرز‘ کی درجہ بندی میں شامل نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھئے: تلنگانہ اسمبلی: والدین کو نظر انداز کرنے والوں کی تنخواہوں سے کٹوتی کا بل منظور

حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اگر یہ قواعد نافذ ہو جاتے ہیں، تو حکومت پلیٹ فارمز سے براہِ راست مواد تخلیق کرنے والوں کے بارے میں معلومات طلب کر سکے گی اور انٹرمیڈیریز کی آزادانہ مداخلت کے بغیر بلاکنگ آرڈرز جاری کر سکے گی۔ اس تجویز کو ۱۴ اپریل تک عوامی مشاورت کیلئے کھول دیا گیا ہے۔

’انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن‘ نے ان ترامیم پر سخت تنقید کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم آن لائن مواد پر انتظامی کنٹرول میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ دفعات ڈجیٹل حقوق، پلیٹ فارم کی ذمہ داری اور جوابدہی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ فاؤنڈیشن نے حکومت سے اس ڈرافٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارے نے دلیل دی کہ مجوزہ فریم ورک ایسے پابند کن احکامات جاری کرنے کے وسیع اختیارات دیتا ہے جن کی بنیاد موجودہ قانون میں واضح طور پر موجود نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK