Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملاڈ منوری میں سمندری پانی کو میٹھابنانے کا پلانٹ تعمیر کیاجائے گا

Updated: May 18, 2026, 3:57 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ممبئی کی بڑھتی ہوئی آبادی کی پانی کی طلب کو پورا کرنے کیلئے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی)ملاڈ-منوری میں ایک ڈی سیلی نیشن پلانٹ تعمیر کررہی ہے جہاں سمندرکے کھارے پانی کو میٹھےپانی میں تبدیل کیاجائےگا۔

Currently, Mumbai and its western suburbs are supplied with water from a water treatment plant located in Bhandup. Photo: INN
فی الحال ممبئی اور مغربی مضافات کو بھانڈوپ میں واقع واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

ممبئی کی بڑھتی ہوئی آبادی کی پانی کی طلب کو پورا کرنے کیلئے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی)ملاڈ-منوری میں ایک ڈی سیلی نیشن پلانٹ تعمیر کررہی ہے جہاں سمندرکے کھارے پانی کو میٹھےپانی میں تبدیل کیاجائےگا۔ مرکزی حکومت نے آخر کار اس پروجیکٹ کے لیے ضروری کوسٹل ریگولیشن زون(سی آر زیڈ) کو منظوری دے دی ہے۔ اس کی تصدیق کرنے والا ایک سرکاری خط۱۱؍ مئی کو جاری کیا گیا تھا۔ نتیجتاً، اس بڑے پروجیکٹ  پر کام مانسون کے بعد شروع ہونے کی امید ہے۔ کوسٹل ریگولیشن زون کی منظوری کے بعد، مہاراشٹر آلودگی کنٹرول بورڈ اور میری ٹائم بورڈ کی منظوری باقی ہے۔ تاہم میونسپل کارپوریشن کو توقع ہے کہ اگلے۸؍س سے۱۰؍ دنوں میں یہ منظوری مل جائے گی۔ یہ پروجیکٹ پانچ میونسپل وارڈوں میں لوگوں کی پیاس بجھانے کیلئے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھئے : کلیان ڈومبیولی میں ۲۲۵؍عمارتیں انتہائی خطرناک، مانسون سے قبل خالی کرنے کا حکم

ممبئی کو فی الحال۷؍ آبی ذخائر تانسا، مودک ساگر، مڈل ویترنا، اپر ویترنا، بھاتسا، ویہار اور تلسی سے روزانہ۴؍ ہزار ملین لیٹر(۴۰۰؍ کروڑ لیٹر) پانی ملتا ہے۔ ممبئی کی مسلسل بڑھتی ہوئی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے، بی ایم سی نے سمندری پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کرنے کیلئے منوری میں ڈی سیلی نیشن پروجیکٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا  ہے ۔ گزشتہ تین چار سال سے یہ منصوبہ ٹینڈر کے عمل میں پھنسا ہوا تھا۔ اب بالآخر جی وی پی آر کمپنی کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ پروجیکٹ کو دوبارہ پٹری پر لایا جا سکے ۔ کسی کمپنی کے انتخابی عمل کے ساتھ ساتھ مختلف ریگولیٹری منظوری حاصل کرنا بھی ایک شرط تھی۔

یہ بھی پڑھئے : گھر آکر مردم شماری کرنے والے عملہ کے ساتھ تعاون کریں: اشوینی بھڈے

جب سی آر زیڈ، مہاراشٹر آلودگی کنٹرول بورڈ اور میری ٹائم بورڈ سے منظوری حاصل کرنے کی کوششیں جاری تھیں تب میونسپل کارپوریشن کو۱۱؍ مئی کو سی آر زیڈکی منظوری دینے والاسرکاری خط موصول ہوا ۔ اس پیش رفت کے بعد، مہاراشٹرآلودگی کنٹرول بورڈ اور میری ٹائم بورڈ کے حکام پروجیکٹ سائٹ کا معائنہ کرنے اور معلومات اکٹھا کرنے کی کارروائی کریں گے۔ سینئر حکام نے بتایا ہے کہ دونوں ایجنسیوں سے منظوری۸؍ تا۱۰؍ دنوں میں متوقع ہے۔
پہلے مرحلے میں ۲۰۰؍ ملین لیٹر پانی
نوبھارت ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق منوری ڈی سیلی نیشن پروجیکٹ کے حصے کے طور پر، سمندر کے نیچے دو سرنگیں بنائی جائیں گی ۔ دونوں سرنگیں ۲؍ کلومیٹر طویل ہوں گی۔ ایک سرنگ کے ذریعےکچے سمندری پانی کو اندر لیاجائے گا اور دوسری سرنگ کے ذریعے صاف کیا ہوا پانی چھوڑا جائے گا ۔ اس پروجیکٹ کی مدد سے ممبئی کے باشندوں کو کل۴۰۰؍ ملین لیٹر میٹھا پانی  ملے گا۔ پہلے مرحلے میں ۲۰۰؍ ملین لیٹر اور دوسرے مرحلے میں۲۰۰؍ملین لیٹر۔ منوری ڈی سیلی نیشن پروجیکٹ کی لاگت پر ابتدائی طور پر ۳۵۲۰؍ کروڑلاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن اب اس لاگت میں تقریباًایک ہزا رکروڑکا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس منصوبے کو ۴؍ سال میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
پروجیکٹ کے فوائد
پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد مندرجہ ذیل وارڈوں کو اس سہولت سے پانی ملے گا:
پی نارتھ (ملاڈ)، پی ساؤتھ (گوریگاؤں)، آر سینٹرل ( بوریولی،مغرب ) ، آر نارتھ (دہیسر) ، آرساؤتھ (کاندیولی)۔ واضح رہےکہ فی الحال ممبئی شہر اور مغربی مضافاتی علاقوں کو بھانڈوپ کمپلیکس میں واقع واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے پانی فراہم کیا جاتا ہے ۔منوری پروجیکٹ شروع ہونے کے بعد، بھانڈوپ کمپلیکس کے ان پانچ وارڈوں کے لیے پانی کا کوٹہ اضافی ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں کمپلیکس کے اس اضافی پانی کو دوسرے علاقوں میں موڑ دیا جا سکتا ہے جہاں ضرورت ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK