• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چائنا میئویل کا ۱۲۶۴؍ صفحات کا ناول ’دی راؤز‘ گولڈ اسمتھز پرائز کا حقدار

Updated: November 06, 2026, 10:42 AM IST | London

برطانوی مصنف چائنا میئویل نے اپنے غیر معمولی ضخیم ناول ’دی راؤز‘ کے لیے ۲۰۲۶ء کا گولڈ اسمتھز پرائز جیت لیا ہے۔ ۱۰؍ ہزار پاؤنڈ کے اس ادبی اعزاز کے لیے منتخب ہونے والا ان کا ناول ۱۲۶۴؍  صفحات پر مشتمل ہے اور یہ ۲۰۱۳ء میں انعام کے آغاز کے بعد اسے حاصل کرنے والی سب سے طویل کتاب بن گئی ہے۔ ناول کی تیاری میں مصنف کو تقریباً ۲۰؍  برس لگے اور اس میں مافوق الفطرت واقعات، برطانوی سامراجی تاریخ اور سرد جنگ کے پس منظر کو یکجا کیا گیا ہے۔

British author China Miéville. Photo: X
برطانوی مصنف چائنا میئویل۔ تصویر: ایکس

برطانوی مصنف چائنا میئویل (China Miéville) نے اپنے ناول ’دی راؤز‘ (The Rouse) کے ذریعے ۲۰۲۶ء کا گولڈ اسمتھز پرائز (Goldsmiths Prize) اپنے نام کرلیا ہے۔ اس اعزاز کے تحت انہیں ۱۰؍ ہزار پاؤنڈ کی انعامی رقم دی جائے گی۔ ۱۲۶۴؍ صفحات پر مشتمل یہ ناول نہ صرف اس سال کے مقابلے میں سب سے نمایاں قرار پایا بلکہ ۲۰۱۳ء میں اس ادبی انعام کے قیام کے بعد سے اسے جیتنے والی سب سے طویل کتاب بھی بن گیا۔ ناول کی ضخامت، موضوعات کے پھیلاؤ اور زبان کے تجرباتی استعمال نے اسے ادبی حلقوں میں خاص توجہ دلائی ہے۔ ’دی راؤز‘ کی کہانی کا آغاز ۱۹۷۳ء کے لندن سے ہوتا ہے۔ اس میں ماؤر (Maur) نامی ایک ماں اپنے بیٹے ایون (Ewan) کی موت کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتی ہے، جس کی موت ایک فوجی بیرک میں بظاہر خودکشی کا واقعہ دکھائی دیتی ہے۔ تاہم جب وہ اپنے بیٹے کی موت کے حالات کی تحقیقات شروع کرتی ہے تو معاملہ ایک عام موت سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس تلاش کے دوران اسے دوسرے غم زدہ خاندانوں اور ایک صحافی کا ساتھ ملتا ہے اور رفتہ رفتہ برطانوی ریاست کی مافوق الفطرت قوتوں میں خفیہ دلچسپی کا انکشاف ہونے لگتا ہے۔ کہانی میں ایک ایسے فوجی کا کردار بھی شامل ہے جسے مافوق الفطرت طاقتوں کا تجربہ حاصل ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: گیانا نژاد برطانوی شاعرہ گریس نکولس نے ۱۰؍ ہزار پاؤنڈ کا ادبی اعزاز جیتا

یہ ناول محض ایک پراسرار موت کی تفتیش یا مافوق الفطرت واقعات کی کہانی نہیں۔ اس کا دائرہ کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں برطانوی سامراجی تاریخ، سرد جنگ، ریاستی طاقت اور پوشیدہ سیاسی سرگرمیوں کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ مصنف نے تاریخی واقعات اور غیر معمولی عناصر کو اس طرح یکجا کیا ہے کہ قاری کو ایک ہی وقت میں تاریخی ناول، سیاسی کہانی اور مافوق الفطرت تھرلر کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہی صنفی امتزاج اور روایتی ناول کے طے شدہ سانچوں سے انحراف اس کتاب کی نمایاں خصوصیات میں شمار کیا گیا ہے۔ چائنا میئویل نے اس کتاب پر تقریباً ۲۰؍ برس کام کیا۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں ’دی راؤز‘ کو اپنی زندگی کی سب سے اہم کتاب قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وہ ناول ہے جسے وہ اپنی بالغ زندگی کے بیشتر حصے میں لکھتے رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ محض ایک اور ادبی تخلیق نہیں بلکہ طویل عرصے کی فکری اور تخلیقی محنت کا نتیجہ ہے۔ ناول کے حجم اور اس میں شامل تاریخی و تخیلاتی تفصیلات سے بھی اس طویل تخلیقی سفر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 

انعام کی جیوری کے سربراہ اور ناول نگار فرانسس اسپفورڈ (Francis Spufford) نے کہا کہ مختصر فہرست میں شامل تمام کتابیں عمدہ تھیں، لیکن ’دی راؤز‘ کو اس کی غیر معمولی وسعت، تاریخی موضوعات کے جرات مندانہ استعمال، زبان کے تجربات اور روایتی توقعات سے ہٹ کر تخلیق کرنے کی صلاحیت کے باعث منتخب کیا گیا۔ ان کے مطابق اس ناول نے ادبی تجربے اور تخلیقی وسعت کے اعتبار سے سب سے زیادہ غیر معمولی انداز اختیار کیا۔ جیوری کے ایک اور رکن اور مصنف ہری کنزرو (Hari Kunzru) نے اسے ایک یادگار ادبی کارنامہ قرار دیا۔ ان کے مطابق میئویل نے ایسے مظاہر کو بیان کرنے کا مشکل کام اپنے ذمے لیا ہے جنہیں عام زبان میں بیان کرنا آسان نہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے زبان کی صلاحیتوں کو آخری حد تک آزمایا اور ناول کی روایتی ساخت اور ادبی اصناف کی حدود کو آگے بڑھایا۔ کنزرو نے مزید کہا کہ ایسے وقت میں جب بہت سا فکشن پہلے سے طے شدہ ادبی حدود کے اندر رہ کر لکھا جا رہا ہے، یہ ضخیم اور تخیل سے بھرپور کتاب یاد دلاتی ہے کہ ناول اپنے اندر کئی جہان سمو سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: دبئی: ۱۵ سالہ ہند نژاد ایان مندیلیا اے سی سی اےپاتھ وے مکمل کرکے گینز ورلڈ ریکارڈز میں نام درج کرایا

نیوز اسٹیٹس مین کے کلچر ایڈیٹر تنجیل رشید نے بھی میئویل کی کامیابی کو ان کے تخلیقی سفر کے تناظر میں اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق مصنف نے اپنے پورے ادبی کریئر میں دنیا کے ایک منفرد اور غیر معمولی تصور کو تخلیقی شکل دی ہے، جس میں ذاتی تجربات کے ساتھ سیاسی شعور بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میئویل کی ادبی کامیابیوں میں یہ انعام ان کے لیے خاص طور پر موزوں تھا۔ چائنا میئویل اس سے قبل بھی فکشن کی دنیا میں اپنی الگ شناخت قائم کرچکے ہیں۔ ان کے معروف ناولوں میں ’پرڈیڈو اسٹریٹ اسٹیشن‘ (Perdido Street Station)، ’دی سٹی اینڈ دی سٹی‘ (The City & The City) اور ’ایمبیسی ٹاؤن‘ (Embassytown) شامل ہیں۔ ان کی تخلیقات میں عموماً خیالی دنیا، غیر معمولی مخلوقات، سیاسی طاقت، شہری زندگی اور سماجی ڈھانچوں کو نئے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ انہیں ہیوگو ایوارڈ (Hugo Award)، ورلڈ فینٹسی ایوارڈ (World Fantasy Award) اور آرتھر سی کلارک ایوارڈ (Arthur C. Clarke Award) بھی مل چکے ہیں۔ انہوں نے فکشن کے علاوہ بین الاقوامی قانون پر ’بیٹوین ایکول رائٹس‘ (Between Equal Rights) اور روسی انقلاب کی تاریخ پر ’اکتوبر‘ (October) جیسی غیر افسانوی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ۲۰۲۴ء میں انہوں نے اداکار کیانو ریوز (Keanu Reeves) کے ساتھ مل کر ناول ’دی بک آف ایلس وئیر‘ (The Book of Elsewhere) بھی تحریر کیا تھا۔
اس سال گولڈ اسمتھز پرائز کی مختصر فہرست میں ۶؍ ناول شامل تھے۔ میئویل کے ’دی راؤز‘ کے علاوہ پولی بارٹن کا ’واٹ ایم آئی، اے ڈیئر؟‘ (What Am I, a Deer?)، کیتھ رِج وے کا ’ڈونین‘ (Dooneen)، ڈوئرین نی گریفہ کا ’سیڈ دی ڈیڈ‘ (Said the Dead)، آیا وارفِس وان وارمیلو کا ’اٹینشن سیکنگ بیہیوئر‘ (Attention Seeking Behaviour) اور مسوری ولیمز کا ’دی ویوسییکٹرز‘ (The Vivisectors) مقابلے میں شامل تھے۔ یہ انعام ان مصنفین کو دیا جاتا ہے جو ناول کی روایتی حدود کو توڑتے ہوئے فکشن کی نئی شکلیں اور امکانات سامنے لاتے ہیں۔ یاد رہے کہ گولڈ اسمتھز پرائز کا آغاز ۲۰۱۳ء میں گولڈ اسمتھز، یونیورسٹی آف لندن اور نیوز اسٹیٹس مین نے کیا تھا۔ اس کا مقصد ایسے ناولوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو روایتی ادبی سانچوں سے ہٹ کر نئے تجربات کریں اور ناول کی صنف کے امکانات کو وسعت دیں۔ گزشتہ برس یہ اعزاز سی ڈی روز (C.D. Rose) کو ان کے ناول ’وی لِو ہیئر ناؤ‘ (We Live Here Now) کے لیے دیا گیا تھا۔ اس سے قبل ریچل کَسک، ایمر میک برائیڈ، علی اسمتھ، ازابیل ویڈنر اور بینجمن مائرز بھی یہ انعام حاصل کرچکے ہیں۔ میئویل کی کامیابی نے اس اعزاز کی تاریخ میں ایک اور غیر معمولی کتاب کا اضافہ کردیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK