وو یِجے نے شان مرفی کو اب تک کے سب سے بڑے فائنل مقابلوں میں سے ایک میں۱۷۔۱۸؍ سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا۔۲۲؍ سال اور۲۰۲؍ دن کی عمر میں وہ اسٹیفن ہینڈری کے بعد دوسرے کم عمر ترین عالمی چیمپئن بن گئے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 05, 2026, 7:03 PM IST | Beijing
وو یِجے نے شان مرفی کو اب تک کے سب سے بڑے فائنل مقابلوں میں سے ایک میں۱۷۔۱۸؍ سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا۔۲۲؍ سال اور۲۰۲؍ دن کی عمر میں وہ اسٹیفن ہینڈری کے بعد دوسرے کم عمر ترین عالمی چیمپئن بن گئے ہیں۔
وو یِجے نے شان مرفی کو اب تک کے سب سے بڑے فائنل مقابلوں میں سے ایک میں۱۷۔۱۸؍ سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا۔۲۲؍ سال اور۲۰۲؍ دن کی عمر میں وہ اسٹیفن ہینڈری کے بعد دوسرے کم عمر ترین عالمی چیمپئن بن گئے ہیں۔ ہینڈری نے ۱۹۹۰ء میں ۲۱؍ سال کی عمر میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔ وو کرُوسیبل میں یہ مشہور ٹرافی جیتنے والے ۲۵؍ویں کھلاڑی بن گئے ہیں، اور مسلسل چار نئے فاتحین کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔ وو نے ۲۰۲۳ء میں لوکا بریسل (۲۸ ؍سال)، ۲۰۲۴ء میں کائرن ولسن (۳۲؍ سال) اور ۲۰۲۵ء میں ژاؤ (۲۸؍ سال) کے بعد یہ کارنامہ انجام دیا۔
یہ وو کا دوسرا ٹائٹل ہے۔ وہ عالمی درجہ بندی میں دسویں نمبر سے چوتھے نمبر پر آ گئے ہیں۔ اس سال سے پہلے انہوں نے کرُوسیبل میں کبھی کوئی میچ نہیں جیتا تھا اور۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۵ء میں اپنے پچھلے مقابلوں میں پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہو گئے تھے۔لےئی پیئفان، مارک سیلبی اور حسین وفائی کے خلاف فتوحات نے انہیں سیمی فائنل تک پہنچایا، جہاں انہوں نے مارک ایلن کے خلاف ۱۶۔۱۷؍ سے سنسنی خیز مقابلہ جیتا، اس کے بعد شان مرفی کے خلاف ایک اور یادگار فتح حاصل کی۔
فائنل ایک شاندار مقابلہ تھا، جس میں تین سنچریاں، ۵۰؍ سے زیادہ بریکس اور اوسط فریم وقت صرف ۱۷؍ منٹ رہا، کیونکہ دونوں کھلاڑیوں نے جارحانہ حکمت عملی اپنائی تھی۔ وو کی دلیرانہ پوٹنگ فیصلہ کن فریم میں نمایاں رہی۔۲۰۰۲ءکے بعد پہلی بار کرُوسیبل فائنل میں —جب انہوں نے سینٹر میں ایک مشکل ریڈ کو سیدھا پوکٹ کے بیچ میں ڈال دیا اور ۸۵؍ کا شاندار بریک لگا کر ٹرافی اور۵۰۰۰۰۰؍پاؤنڈ کی انعامی رقم جیت لی۔
یہ بھی پڑھئے:میٹ گالا ۲۰۲۶ء: پابندیاں اور بائیکاٹ، کئی بڑی شخصیات غیر حاضر
جیت کے بعد وو نے کہاکہ ’’میں بہت خوش ہوں کہ میں ایسا کھیل سکا۔ میں نے اپنے خاندان، اپنے لیے اور چین کے لیے کھیلا۔ میرے والدین ہی اصل چیمپئن ہیں۔ جب سے میں نے اسکول چھوڑنے کا فیصلہ کیا، میرے والد میرے ساتھ رہے ہیں۔ میری والدہ نے بھی ان سالوں میں بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ وہ میری طاقت کا ذریعہ ہیں۔ میں ان سے بہت محبت کرتا ہوں۔‘‘
وو نے مزید کہاکہ ’’میں مداحوں کا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔ آپ کسی کو بھی سپورٹ کریں، اسنوکر کے لیے محبت دونوں طرف یکساں ہے۔‘‘ مرفی کو امید تھی کہ وہ متعدد بار ٹائٹل جیتنے والے صرف ساتویں کھلاڑی بنیں گے اور ۲۰۰۵ء میں اپنی پہلی جیت کے بعد پہلے اور دوسرے ٹائٹل کے درمیان سب سے طویل وقفے کا نیا ریکارڈ بھی قائم کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے:ایران کو بڑا دھچکا ، علی قلی زادہ ورلڈ کپ سے باہر
وہ ۳۰؍ فائنلز میں سے ۱۳؍ رینکنگ ٹائٹلز جیت چکے ہیں۔ رنر اپ رہنے کے باوجود وہ عالمی درجہ بندی میں آٹھویں سے پانچویں نمبر پر آ گئے ہیں۔مرفی نے کہا’’یہ ایک شاندار میچ تھا، اس میں سب کچھ تھا۔ وو ان باصلاحیت ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جنہیں میں نے کبھی دیکھا ہے۔ میں نے اس سیزن میں چین میں ان کے ساتھ کھیلا تھا اور میچ کے بعد کہا تھا کہ وہ عالمی چیمپئن بنیں گے۔ میں ان کے لیے خوش ہوں لیکن اپنے لیے دل ٹوٹا ہوا ہے۔‘‘