نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے دوران ابھیجیت دِپکے کو طمانچہ مارنے والا پولیس حراست میں، حملے کے بعد نوجوانوں میں شدید برہمی ، حکومت کے خلاف نعرے لگائے
EPAPER
Updated: June 16, 2026, 7:57 AM IST | Jaipur
نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے دوران ابھیجیت دِپکے کو طمانچہ مارنے والا پولیس حراست میں، حملے کے بعد نوجوانوں میں شدید برہمی ، حکومت کے خلاف نعرے لگائے
جے پور میں شہداء کی یادگار پر اس وقت زبردست ہنگامہ مچ گیا جب ایک نامعلوم نوجوان نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے کو اچانک طمانچہ مار دیا۔ ابھیجیت دپکے نیٹ پیپر لیک، بگڑتا ہوا تعلیمی نظام، بے روزگاری اور نوجوانوں سے متعلق دیگر اہم مسائل کو حل کرنے کیلئے ایک بڑے احتجاج میں حصہ لینے کیلئے جے پور آئے تھے۔ نوجوانوں اور مظاہرین کی بڑی تعداد احتجاجی مقام پر جمع تھی لیکن اس غیر متوقع واقعہ کی وجہ سے افراتفری مچ گئی۔ دپکے کو تھپڑ مارے جانے کے فوراً بعد شہداء کی یادگار پر مظاہرین غصے سے بھڑک اٹھے۔ حیرت کی بات ہے کہ حملہ آور کو اس بات کا موقع دیا گیا کہ وہ خود کو ’راشٹر وادی‘ اور ابھیجیت دپکے کو ’جہادی ذہنیت کا حامل‘ قرار دے اور میڈیا نے اس بات کو مشتہر بھی خوب کیا۔
اس واقعے کے بعدمشتعل ہجوم نے اس شخص کو پکڑ لیااور اس کی پٹائی کی لیکن اس سے قبل کہ اس کی اچھی طرح خبر لیتے جائے وقوع پر تعینات پولیس اہلکاروں نے اسے مظاہرین سے چھڑاکر اپنی حراست میں لے لیا۔ پولیس فی الحال واقعے کی وجہ جاننے کیلئے ملزم سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے احتجاجی مقام پر سیکوریٹی بڑھا دی گئی ہے۔پولیس حراست میں آتے ہی ملزم نے ابھیجیت دپکے کو جہادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپر لیک تو محض ایک بہانہ ہے، اصل معاملہ نوجوانوں کو گمراہ کرنا ہے۔ملزم نے دعویٰ کیا کہ ابھیجیت ملک کا ماحول خراب کر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ میں جے پور سے ہوں، ایک راشٹروادی ہوں اور میرا کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس واقعہ کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی سے وابستہ نوجوانوں کا غصہ پھوٹ پڑا جس کے شکار کئی میڈیا والے بھی ہوئے۔اس موقع پر پارٹی کارکنان کئی بار ایک دوسرے سے بھی ٹکرا گئے، جس کی وجہ سے مار پیٹ کی نوبت بھی آگئی۔ ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کی کوشش کی لیکن تب بھی کئی گھنٹوں تک وہاں پر چار سے پانچ ہزار لوگ جمع رہے۔ اس دوران مسلسل نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ بعد ازاں انتظامیہ کو اضافی پولیس فورس طلب کرنا پڑا۔
اس سے قبل احتجاج کے دوران نوجوانوں، طلبہ اور والدین میں کافی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ مظاہرے کے دوران نوجوانوں نے اپنے ہاتھوں میں قومی پرچم، ترنگا اٹھا رکھا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مظاہرین کے ہاتھوں میں پوسٹر تھے جن پر’’مجھے دیش سے پیار ہے، بھرشٹار چار اَسویکار ہے‘‘ اور’’پیپر لیک بند کرو‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ احتجاج کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی خواتین اپنے چھوٹے بچوں کو گود میں لے کر احتجاج میں شریک ہونے کیلئے پہنچی تھیں۔احتجاج میں شریک نوجوانوں کا غصہ براہ راست مرکزی حکومت اور وزارت تعلیم کے خلاف تھا۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ اس سے پہلے، احتجاج کرنے والے کارکنوں نے شہداء کی یادگار کے مرکزی دروازے پر کاکروچ کا ایک بڑا اسکیچ بنایا اوراس کے ساتھ ’دھرمیندر پردھان، استعفیٰ دو!‘ کا سلوگن بھی لکھا۔ یہ انوکھا مظاہرہ وہاں موجود لوگوں میں توجہ اور بحث کا مرکز بن گیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان آشوتوش رنکا نے تحریک کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک تنظیم کا احتجاج نہیں ہے بلکہ یہ لاکھوں طلبہ، نوجوانوں اور والدین کی اجتماعی لڑائی ہے جو اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔