نئے وزیرتعلیم پرہلاد جوشی سے بھی کچھ امید نہیں، یہ وہی ہیں جنھوں نے روس یوکرین جنگ کے وقت وہاںپھنسے طلبہ کو ناکارہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں بیشتر طلبہ وہ ہیں جو نیٹ کا امتحان پاس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے،اسلئے والدین کی دولت کے دم پر وہاں پڑھنے جاتے ہیں۔
حکومت نے طلبہ کی باتیں مان تو لی ہیں لیکن اس کے رویے سے ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ طلبہ کے تئیں سنجیدہ بھی ہے۔ تصویر: آئی این این
اس میں کوئی شک نہیں کہ جین زی کے احتجاجی تیور نے وہ کام کر دکھایا جس کے ہونے کی امید نہ کے برابر تھی۔ مرکزی حکومت کی بارہ سالہ میعاد کار میں کئی ایسے مواقع آئے جب کہ حکومت کی ناقص اور تعصب آمیز پالیسیوں کے خلاف عوام نے غصے کا اظہار کیا لیکن وہ غصہ اقتدار پر اس قدر اثر انداز نہیں ہو سکا کہ ان فیصلوں میں ترمیم یا تبدیلی کی فضا بنے جو فیصلے گزشتہ ایک دہائی سے عوام کو سماجی انتشار،مذہنی منافرت اور معاشی مسائل میں مسلسل محصور کئے ہوئے ہیں۔ اقتدار کے ایسے ہٹ دھرمی والے رویہ کے تناظر میں دھرمیندر پردھان کا اپنے عہدے سے ہٹجانا یقیناً جین زی کی بڑی کامیابی ہے۔ اس احتجاج میں شامل نوجوانوں نے اقتدار کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ تفرقہ انگیز سیاست کی آڑ میں نئی نسل کے مستقبل سے کھلواڑ نہ تو گوارہ کیا جائے گا اور نہ ہی ایسی پست فکر سیاست سے ملک کا بھلا ہوگا۔جین زی کی اس کامیابی اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے حوالے سے ان چند پہلوؤں پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے جن سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ اقتدار نے مظاہرین کے مطالبوں کوبعض ترمیمات کے ساتھ بھلے ہی تسلیم کر لیا ہے لیکن مابعداحتجاج اس کا رویہ ایسے خدشات کی طرف اشارہ کر رہا ہے جنھیں یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھئے: جنترمنتر پر مظاہرہ ختم ہوا مگر وہ بے شمار کہانیوں کے سبب ہمیشہ یاد رکھا جائیگا
سابق مرکزی وزیر تعلیم نے جین زی کے احتجاج سے مجبور ہو کر بالآخر اپنا استعفیٰ تو حکومت کو سونپ دیا لیکن اس بابت جو رقعہ انھوں نے لکھا اس میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں تھا کہ وہ بحیثیت وزیر تعلیم پیپر لیک کی مسلسل وارداتوں اور نظام تعلیم میں بدعنوانی کے وسیع تر ہوئے دائرے کے سبب لاکھوں کی تعداد میں متاثر ہونے والے طلبہ کے غیر یقینی مستقبل کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئےمستعفی ہو رہے ہیں۔ اس کے برعکس انھوں نے اس موقع پر بھی وہی سیاسی کارڈ کھیلا جو نام نہاد دیش بھکتی کے عنوان سے اقتدار کی نااہلی اور آمرانہ رویہ کی پردہ پوشی کرتا ہے اور سادہ لوح عوام اسے اقتدار کی وطن پرستی پر محمول کرتے ہیں۔اس رقعہ کی عبارت سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ مدت سے جاری احتجاج کا ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا اور نہ ہی اب منصب چھوڑتے وقت انھیں اس کا احساس ہے کہ ان کی وزارت کی ناقص کارکردگی کے سبب نہ صرف لاکھوں طلبہ اپنے مستقبل کے تئیں غیر یقینی کیفیت میں مبتلا ہیں بلکہ اس صورتحال نے کئی طلبہ کو خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کرد یا۔سابق وزیر رتعلیم کے استعفیٰ کی عبارت نظام تعلیم کی خرابیوں پر فکر مندی کے بجائے اسی تعصب آمیز سیاسی رویے کی مظہر ہے جس کا سہارا لے کر اقتدار گزشتہ ایک دہائی سے عوام کا استحصال کر رہا ہے۔
دھرمیندر پردھان کی جگہ جس کو مرکزی وزارت تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ پہلے ہی سے جدید اور قابل تجدید توانائی کے ۱۰؍ویں اور امور صارفین، خوراک و عوامی نظام تقسیم کے ۱۳؍ ویں وزیر کے طور پر مرکزی کابینہ میں شامل ہیں۔ ان دو بڑے قلمدانوں کی ذمہ داری سنبھال رہے پرہلاد جوشی کو تعلیم جیسی اہم وزارت کی اضافی ذمہ داری دے کر اقتدار اعلیٰ نے کس دانشمندی کا ثبوت دیا ہے؟ یہ بہرحال ایک اہم سوال ہے جس پر جین زی کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ وہی پرہلاد جوشی ہیں جنھوں نے روس یوکرین جنگ کے آغاز کے وقت ان ممالک میں پھنسے ہندوستانی طلبہ کو ناکارہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں بیشتر طلبہ وہ ہیں جو یہاں نیٹ کا امتحان پاس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور والدین کی دولت کے دم پر بیرون ملک سے ڈگری حاصل کر لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: احتجاج کی بیلنس شیٹ: سرمایہ کس نے لگایا؟ قیمت کس نے ادا کی؟ منافع کتنا ہوا؟
وزارت تعلیم کی اضافی ذمہ داری ملنے پر انھوں نے جو بیان دیا اس سے بھی ان کا منشا ظاہر ہوتا ہے۔ اس بیان میں انھوں نے وزیر اعظم کی امیدوں پر پورا اترنے کا وعدہ تو کیا لیکن نوجوان طلبہ کی امیدوں کی تکمیل کے متعلق کچھ نہیں کہا۔اس ضمن میں بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا بی جے پی کے پاس ایسا کوئی ایم پی نہیں جو اس ۶۴؍سالہ ضعیف العمر شخص کے مقابلے نوجوان طلبہ کے تعلیمی مسائل اور تفاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت زیادہ رکھتا ہو، یا اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس نے جو رائے ظاہر کی ہے وہ زیادہ موزوں ہے کہ اس فیصلے کے ذریعہ اپنے سیاسی غلبہ کی نمائش اقتدار کا اصل موقف ہے۔
اس کے علاوہ احتجاج میں شامل طلبہ کے خلاف ملک کی مختلف ریاستوں میں جوکارروائی ہوئی وہ بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ارباب اقتدارنظام تعلیم میں ناگزیر اصلاحات کو عملی شکل دینے کے بجائے ایسے اہم اور حساس معاملے کو بھی فرقہ ورانہ سیاست کا رنگ دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مظاہرین کو کھانا پانی مہیا کرانے والے جنید اور اسلم کے علاوہ آسام اور مغربی بنگال میں مسلمان نوجوانوں کے خلاف پولیس نے جو کارروائی کی وہ اقتدار کی تعصب آمیز انتقامی سوچ کو اجاگر کرتی ہے۔اس سے بھی زیادہ تشویشناک مسئلہ دوران احتجاج طلبہ کو زدو کوب اور لڑکیوں کے ساتھ دست درازی کرنے والے ان عناصر کا قانون کی گرفت سے باہر رہنا ہے جو اپنی شناخت پوشیدہ رکھ کر مظاہرین کے ساتھ نہ صرف بد سلوکی کر رہے تھے بلکہ ان میں شامل ستیم پنڈت جیسے لوگ اس لاقانونیت کا ویڈیو فخریہ انداز میں سوشل میڈیا پر اپ لوڈکرتے ہیںپھر بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔جین زی کو ان حالات سے نمٹنے کیلئے منظم اور ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور جہاں تک نئے وزیر تعلیم کا معاملہ ہے تو ان سے کیا ہی امید کی جائے جو ملک میں آبادی بڑھنے کا سبب کانگریس کے دور میں زیادہ بجلی کٹوتی کو قرار دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جوہر یونیورسٹی، جو مسلم نام کی وجہ سے کچھ لوگوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے
سرکار کا مقصدکام نہیں، صرف اقتدار ہے!
احتجاج میں شامل طلبہ کے خلاف ملک کی مختلف ریاستوں میں جوکارروائی ہوئی وہ بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ارباب اقتدارنظام تعلیم میں ناگزیر اصلاحات کو عملی شکل دینے کے بجائے ایسے اہم اور حساس معاملے کو بھی فرقہ ورانہ سیاست کا رنگ دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔